مارچ27, 2020
اجتماعی قبریں

آج بڑا ہی سنگین دن ہے ۔۔کچھ بھی تو اچھا نہیں لگ رہا
امریکہ کوویڈ 19 میں چین کو پیچھے چھوڑ گیا
اف خدایا ایک دن میں
ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے بڑھ گئی اور 82،000 سے زیادہ کیسز ہو گئے
امریکہ میں گذشتہ ہفتے 3.3 ملین افراد بے روزگار ہو گئے
چین میں مقامی طور پر منتقل ہونے والے 55 نئے کورونا وائرس کیس سامنے آئے
برازیل میں 3،000 کیسز اور 77 اموات کی اطلاع ہے
اٹلی میں 41 ہیلتھ ورکرز کورونا وائرس سے فوت ہوگئے
اور ابھی 5000 سے زائد ڈاکٹرز ، نرسیں اور الایئڈ ہیلتھ کا عملہ انفیکشن سے متاثر ہے
اٹلی میں بریسیا کے پولیمبولانزا اسپتال میں
متعدی بیماریوں کے ڈاکٹر روبرٹو اسٹیلینی نے کہا
“یہ اس طرح ہے جیسے طوفان نے ہمیں مارا۔”
آسٹریلیا نے تمام گھرلوٹنے والے مسافروں کو ہوٹل میں قرنطینہ میں رکھا ہے
پاکستان میں کورونا مثبت کیسوں کی مجموعی تعداد 1408 تک پہنچ گئی
نیوزی لینڈ نے چار ہفتوں کے لئے
سخت تنہائی اور لاک ڈاؤن کے احکامات جاری کر دیئے
دنیا کے نقشے پر سب دیکھ سکتے ہیں
رش سے بھرے ہسپتال زیادہ مریض رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں
اور گھر پر مرنے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے
جنہیں سنبھالنا حکومتی سہولیات سے باہر ہے
کچھ لوگوں کو لاش لے جانے کے لیے
آنے والے حکام کا 72 گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے
تکفن اور تدفین کا عمل
تقریبا ہر ملک میں کرفیو کی وجہ سے مزید مشکل ہو گیا ہے
جنازے میں صرف 5 لوگ شریک ہو سکتے ہیں اور وہ بھی خوفزدہ ہیں
موت اپنی پوری ہیبت کے ساتھ ملکوں ملکوں آزادانہ گھوم رہی ہے
ہر دن 100 سے زیادہ لوگوں کی موت کورونا سے ہو رہی ہے
دفنانے کے لئے نہ تو کافی لوگ ہیں اور نہ ہی کوئی جگہ بچی ہے
ایران اور نیویارک کے بعد
اب برازیل میں اجتماعی قبریں کھودی جا رہی ہیں
میں سوچ رہی ہوں
مرنے والوں پر تو کیا
ان قبروں پر کیا بیت رہی ہو گی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مارچ28, 2020
زندہ درخت!

آج کا دن عجب اداسی میں گزر رہا ہے
شام بھی ہو چکی
پر ۔۔۔ دل ہے کہ ابھی تک
کویئنگ لی کی بات میں اٹکا ہوا ہے
ہم روزنہ لنچ بریک پر آدھے گھنٹے کے لئے واک پر جاتے ہیں
گھنے درختوں کے سائے میں کھڑے ہوتے ہیں
بارشوں میں بھیگنے سے بچتے ہیں
کبھی تنوں سے لپٹ کر تصویریں کھنچواتے ہیں
کتنی خوشیاں اور یادیں ان سایہ دار رستوں سے جڑی ہیں
آج اس نے بتایا ۔۔ کہ ۔۔
اس کے بیٹے گیبریل نے اپنے باس کے کہنے پر ایک درخت کاٹ دیا
کویئنگ لی بے حد اداس تھی
گیبریل نے درخت کو بتائے بغیر کاٹ دیا تھا
وہ روتے ہوئے کئی درختوں سے لپٹ کر معافی مانگتی رہی
میں کچھ بھی بھول نہیں پا رہی ہوں ۔۔۔۔۔
صفحہ قرطاس پر میرا پرسہ بھی بکھر رہا ہے
میری نظم جانے زندہ رہے یا نہ رہے
پر ،،، درختوں کو زندہ رہنا ہے
نظم کچھ یوں بکھری ۔۔۔۔
زندہ درخت!
بیٹا !
یہ کیا کیا تم نے
بنا اسے بتائے کاٹ آئے ہو
ارے بے خبر کیوں تمہیں یاد نہ رہا
کیسے تنہا کھڑا وہ گرم سرد سہہ رہا تھا
بانہیں پھیلائے برسوں سے دعا گزار تھا
ہر سال
اپنی اترن تمہیں دے دیا کرتا
کہ ۔۔ تمہارے آتش دان اور چولہے
سوکھے بھورے چھلکوں سے آباد رہیں
کیا تم نے یہ بھی بھلا دیا
تمہارے سانسوں کی گھٹن وہ اپنے اندراتار کر
نئی سانسیں تمہیں دیا کرتا تھا
بیٹا ۔۔۔۔۔۔ وہ درخت تھا
حساس ۔۔ بے لوث ۔۔۔ دردمندی سے سرشار
ہم سب سے زیادہ ۔۔ وہ زندہ تھا
تم نےسوچا ہی نہیں
گاڑیوں کا شور ہو کہ کرونا کا سکوت
دھواں ہو کہ دھول، دھوپ ہو کہ بارش
اپنے مقام و مرتبے سے کبھی چوکا ہی نہیں
بیٹا ۔۔!
جس کے اتنے احسان ہوں
اس محسن پر
برقی آرا چلانے سے پہلے
نہ تم نے اس سے معافی مانگی
نہ ہی کوئی وجہ یا مجبوری بتائی
صد افسوس
تم اپنی چھاؤں
اپنے ہاتھوں سے کاٹ بیٹھے ہو
احسان فراموشی کر چکے ہو۔۔۔ !
اب تم چاہے رونا چاہو یا پچھتاؤ
ازالہ ممکن ہی نہیں!
ڈاکٹر نگہت نسیم













