کریم آل عبا کن نظر بہ کاظم خویش ۔ کاظم کاظمی

0
1769

کریم آل عبا نور عین شمس الضحی
وصی حجت اعظم فواد قلب ھدای

امام جن و بشر صلح و آشتی کے منار
شجاع ومرد یگانہ بہادری کا وقار

انہی کا ملک ہے کوثر جنان و باغ عدن
انہی کی ملک میں بہتی ہے نہر شیر لبن

سوار دوش رسالت با عجز و ناز ہوئے
نبی زمانے کے طعنوں سے بے نیاز ہوئے

ہے نام نامی حسن مجتبی ہیں رتبے میں
درود ان پہ پیمبر پڑھائے خطبے میں

ہے لوح ان کا ارادہ قلم ہے ان کا مزاج
نمازیوں پہ ہے لازم درود ان کا خراج

مسیح و خضر کے رہبر امام ہیں مولا
رسول پاک پہ رب کا انعام ہیں مولا۔

ہے پندرہ ماہ مبارک انہی کا روز ورود
ملک فلک سے اتر آن پڑھ رہے ہیں درود

انہی کے صدقے میں ہر روز رزق بٹتا ہے ۔
کرم سے آن کے ہی مشکل میں وقت کٹتا ہے۔

کریم آل عبا کن نظر بہ کاظم خویش
نشستہ است دم در خوار وزار این درویش۔

کاظم کاظمی

SHARE

LEAVE A REPLY