حُسین شناسی کا سفر۔27۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
971

قسط  ستایئس

امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد
امام حسین علیہ السلام نے 50 ہجری کو منصب امامت سنبھالا
باوجود اس حقیقیت کے
کہ
امام حسن علیہ السلام کے بعد
امام حسین علیہ السلام
حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے
صالح ترین اور مناسب ترین شخصیت تھے
تاہم
معاویہ کے ساتھ امام حسن علیہ السلام کی صلح کی بنا پر
آپ ع اپنے بھائی کی صلح اور شرائط کے پابند رہے
باوجود اس بات کے بھی
کہ
کوفی عوام نے
معاویہ کے خلاف آپ ع کو قیام کے لئے خطوط لکھے
لیکن امام حسین علیہ السلام نے قیام سے اجتناب کیا
باوجود اس کے
کہ
آپ نے
مسلمانوں پر
معاویہ کی حاکمیت کی
شرعی اور قانونی حیثیت کو مسترد کردیا
ظالموں کے خلاف جہاد پر زور دیا
اپنے ساتھیوں کو معاویہ کے مرنے تک صبر تلقین کیا
اور اپنے قیام کو معاویہ کی موت تک ملتوی کردیا
کوفہ والوں کے خطوط کے جواب میں انہیں لکھا
“ ابھی میرا یہ عقیدہ نہیں
معاویہ کے مرنے تک کوئی اقدام نہ کریں
اپنے گھروں میں رہیں
اور ایسے کام سے اجتناب کریں جس سے وہ بدگمان ہوجائیں
اگر
معاویہ کے مرنے تک
میں زندہ رہا
تو اپنی رائے سے آپ کو آگاہ کروں گا “
امام حسین بن علی علیہ السلام کی امامت
معاویہ کی حکومت کے ہم عصر تھی
آپ ع نے معاویہ کے بعض اقدامات پر سخت اعتراض کیا ہے
بالخصوص
حجر بن عدی قتل ہونے کے بعد معاویہ کو ایک مذمتی خط لکھا
امام حسین کا معاویہ کی وفات سے دوسال قبل
منا میں خطبہ بھی
بنی امیہ کے خلاف آپ کا سیاسی موقف سمجھا جاتا ہے
معاویہ نے دس سال حکومت کی
اس کی کی وفات کے بعد
پندرہ( 15) رجب 60 ہجری کو یزید کو حاکم بنایا گیا
امام حسین نے یزید کی بیعت کو شریعت کے خلاف قرار دیا
اور
بیعت نہ کرنے پر
یزید کی طرف سے قتل کی دھمکی ملنے پر
ستایئس (27) رجب 60 ہجری کو مدینہ سے مکہ روانہ ہو گئے
کتنی عجیب بات تھی
جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
مشرکین قریش کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے
مکہ سے ہجرت کرگئے تھے
اسی طرح سے
فرزند رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کو
انہیں وجوہات کی بنا پر
اور ۔۔ انہیں مشرکین کی اولاد کی سازشوں کی بنا پر
مدینہ چھوڑ کر مکہ
اور پھر عراق کی طرف ہجرت کرنا پڑی
امام حسین علیہ السلام نے
مدینہ سے نکلنے سے پہلے
رات کے وقت اپنی والدہ ماجدہ سیدہ فاطمہ الزہرہ سلام اللہ علیہما
اور بھائی حسن علیہ السلام کی قبور پرنور پر حاضری دی
اپنی بعض وصیتوں اور امامت کی امانتوں کو
زوجۂ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام سلمہ کے حوالے کیا
تاکہ وہ انہیں امام سجاد علیہ السلام کے حوالے کردیں
اور ۔۔ امام حسین علیہ السلام نے
وصیت لکھی
“ میں اپنا وطن کسی شر و فساد پھیلانے
اور ظلم و ستم کرنے کی خاطر نہیں چھوڑ رہا ہوں
بلکہ
مدینہ سے میری روانگی کا مقصد یہ ہے
کہ
اپنے نانا
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت کی اصلاح کروں
اور امر بالمعروف کروں اور نہی عن المنکر کروں
اور میں
اپنے نانا ص اور بابا ع کی سیرت پر عمل پیرا ہونا چاہتا ہوں “
امام حسین علیہ السلام
ستایئس رجب کو رات کے وقت
اپنے خاندان اور اصحاب کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے
امام حسین(ع)
پانچ روز بعد
تین (3 ) شعبان سنہ 60 ہجری کو مکہ میں داخل ہوئے
اور اہلیان مکہ اور حُجاجِ بیت اللہ الحرام نے آپ کا شاندار استقبال کیا
مکہ میں قیام کے دوران
امام حسین(ع) کی رہائشگاہ میں لوگوں کا تانتا بندھا رہتا
آپ لوگوں کو
حقیقی اسلام کی تعلیمات دیتے
اور بنو امیہ ، یزید کو خلافت کی کرسی تک پہنچانے والوں کے بارے میں آگاہ کرتے
اسی دوران جب
عراق کے اصحاب کو
معاویہ کی موت کی خبر ملی تو
وہ سليمان بن صُرَد خزاعی کے گھر میں جمع ہوئے
اور ۔۔
امام حسین(ع) کو خط لکھا
دل و جان سے اپنی حمایت کا یقین دلایا
آپ کو کوفہ آنے کی دعوت دی
انھوں نے وہ خط
عبداللہ بن سَبعِ ہَمْدانى اور عبداللہ بن وال ہاتھوں مکہ روانہ کیا
جو 10رمضان کو
مکہ میں امام حسین(ع) کوملا
اس کے بعد
آپ کو کوفیوں کے ہزاروں خطوط موصول ہوئے
جن میں
انہوں نے
آپ(ع) سے کوفہ آنے کی درخواست کی
امام(ع) نے
کوفیوں کے نام ایک خط دے کر
اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو عراق روانہ کیا
تا کہ
وہاں کے حالات کا جائزہ لیں اور آپ کو درست حالات کی خبر دیں
مسلم 5 شوال کو کوفہ پہنچ کر
مختار بن ابی عبیدہ ثقفی کے گھر میں مقیم ہوئے
شیعیان کوفہ
مسلم کی آمد سے مطلع ہونے کے بعد
ان کے پاس حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کی
روایات سے معلوم ہوتا ہے
کہ
اٹھارہ ہزار افراد نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی
جناب مسلم بن عقیل نے
اہل کوفہ کے ان تمام حالات سے
امام حسین علیہ السلام کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY