ڈاکٹر نگہت نسیم کی کورونا ڈائری ۔۔۔قسط نمبر26‎

0
987

مارچ 30 2020,

فاصلاتی محبت

مجھے نہیں معلوم تھا
وبائی دنوں میں ہر دن وبا جیسا ہوتا ہے
مشکل سا ۔۔ چیلنج کرتا ہوا ۔۔ سرپرائز دیتا ہوا گزرتا ہے
آج جب ہوسپٹل پہنچی تو ایسا ہی چونکا دینے والا دن منتظر تھا
تھان فنگ میری کولیگ ہے
وہ کم عمر ضرور ہے مگر بے حد اچھی نرس ہے
کورونا میں ڈاکٹرز نرسز کا کام دوگنا ہو گیا ہے
حیرت کی بات تھی ہم لوگ تھک نہیں رہے تھے
پر ۔۔ آج ۔۔ تھان فنگ
پہلے سے زیادہ مطمئن اور مسرور نظرآئی
چہرے پر ایک مسکراتی ہوئی شگفتگی تھی
سب کے پوچھنے پر اس نے بتایا
کچھ دنوں سے
ڈیٹنگ ایپ پر
اس کی بات چیت آئزک سے ہو رہی ہے
ڈیٹنگ ایپ پر ؟۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کنفرم کرنا چاہا
تھان فنگ ہنس رہی تھی
غالبا مجھے پچھلی صدی کی مخلوق سمجھ رہی ہوگی
اور میں سوچ رہی تھی ۔۔۔
کون لوگ ہیں جو اجنبیوں سے گفتگو میں خوشی پاتے ہیں
تھان فنگ شاید میری خاموشی کو پا چکی تھی
کورونا وائرس کے زمانے میں کیا زندگی رک جائے ۔۔ ختم ہو جائے ؟‌
اس کے سوال پر میں نے بے اختیار سر نہیں میں ہلا دیا
تھان فنگ کہہ رہی تھی
کورونا وبا نے جینے کے ڈھنگ بدل دیئے ہیں‌
ٹیلی ہیلتھ ۔۔ ہوم سکولنگ ۔۔ ورک فرام ہوم
آن لائن شاپنگ ۔۔ کھانوں ‌کی ہوم ڈیلیوری
آن لائن بینکنگ ۔۔۔۔اور۔۔۔ فیس چیٹ‌
کام وہی ہیں بس کرنے کے انداز بدل گئے
پھر بھلا ۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت کیسے نہ کورونائی ہوتی
کائلی لمبارڈو نے بھی تھان فنگ کا ساتھ دیتے ہوئے کہا
ڈیٹنگ سے امید و اہمیت کا احساس پیدا ہوتا ہے
وبائی دنوں میں یہ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے
اسی لیئے ہر ملک میں
ڈیٹنگ ایپ کا استعمال 50 فیصد سے بھی زیادہ بڑھ چکا ہے
ہم سب محسوس کر رہے تھے
آئزک جب سے تھان فنگ کی زندگی میں آیا ہے
وہ اپنے مریضوں سے اور زیادہ محبت کرنے لگی ہے
میں سوچ رہی تھی
کورونا کی معاشرتی تنہائی میں واقعتا لوگ خود کو تنہا سمجھ رہے ہیں
ایسے میں ڈیٹنگ ایپ نوجوانوں کے لئے کسی جادو سے کم کہاں
وہ وقت جو ایک دوسرے کو جاننے کے لئے چاہیئے ہوتا ہے
با آسانی میسر ہو رہا ہے
جسمانی قربت سے پہلے
جذباتی قربت جو پائیدار رشتوں میں 70 فیصد چاہیے ہوتی ہے
اس کا مکمل اہتمام ہو رہا ہے
دوسروں کے ساتھ صحتمند روابط اور مقصد حیات کا احساس و پاس
اپنے آپ میں زندہ رہنا ہی تو ہے
سو ۔۔۔ تھان فنگ
زندگی کو پورے وجود سے محسوس کر رہی تھی
وہ اور آئزک
ایک دوسرے کو جاننے کے لئے گھنٹوں
ایک دوسرے کے سامنے رہتے ۔۔ ایک دوسرے کو سنتے
وہ دونوں
ایک دوسرے کو اپنے احساس سے پہچان رہے تھے
ایک دوسرے پر اعتبار کر رہے تھے
تبدیلی ہر شے کو خوبصورت بنا دیتی ہے
برقی بوسے
برقی محبت نامے
محبت بھی کورونائی ہو کر حسین ہو رہی ہے
ووہان
ایک برقی بوسہ
تمہارے لئے
ہماری فاصلاتی محبت کے نام
رومانوی محبت بھلا کب مرتی ہے !

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY