اپریل 3 / 2020
دنیا میں طبی سہولیات اور وینٹی لیٹرز

دنیا بھر میں
کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے
عالمی سطح پر
فیس ماسک
سینیٹائزر
اور وینٹی لیٹر کی شدید قلت ہو گئی ہے
فیس ماسک اور سینیٹائزر کا توڑ تو ہو ہی جائے گا
پر ۔۔۔ وینٹی لیٹر کا بدل ممکن نہیں
اور اس کے بغیر گزارہ بھی ممکن نہیں
نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کے مطابق
کرونا وائرس کے 80 فیصد مریض معمولی بیمار ہوتے ہیں
معمولی علاج سےخود ہی صحت یاب ہو جاتے ہیں
اور پانچ فیصد مریض
ہنگامی طبی امداد کے مراکز میں پہنچ جاتے ہیں
اور ان میں سے
نصف کو یعنی کل تعداد کے ڈھائی فیصد کو
وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑتی ہے
کیونکہ ان کے پھیپھڑے
سوزش کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی تھیلیوں میں پانی بھر جاتا ہے
پھیپھڑے اپنا فعل انجام نہیں دے سکتے یعنی جسم کو آکسیجن نہیں ملتی
ایسے وقت میں
جسم کو مصنوعی تنفس بہم پہنچایا جاتا ہے
جو وینٹی لیٹر سے ہی ممکن ہے
اور وینٹی لیٹر پر جانے والے
سو بیماروں میں سے 75 مریض شفایاب ہو جاتے ہیں
وینٹی لیٹر ایک پیچیدہ مشین ہے
جس کے تین بڑے حصے آکسیجن سلنڈر، کمپریسر اور کمپیوٹر ہیں
ایک نلکی مریض کی ناک یا منہ سے گزار کر پھیپھڑوں تک پہنچائی جاتی ہے
جس کے بعد کمپریسر کے ذریعے
آکسیجن سلنڈر سے براہِ راست
آکسیجن مریض کے پھیپھڑوں تک فراہم کی جاتی ہے
ایک اور نلکی
جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پھیپھڑوں سے نکال کر باہر لے آتی ہے
ویسے تو آکسیجن ماسک کے ذریعے بھی پہنچائی جا سکتی ہے
لیکن وینٹی لیٹر اس سلسلے میں زیادہ موثر ہے
کہ ۔۔ آکسیجن ضائع ہوئے بغیر مریض کو پہنچتی ہے
اور ۔۔۔ پھیپھڑوں کے اندر دباؤ برقرار رکھا جا سکتا ہے
تاکہ ھیپھڑے پچک نہ جائیں
مزید یہ کہ
وینٹی لیٹر کی ٹیوب کی مدد سے
پھیپھڑوں میں جمع ہونے والا پانی باہر بھی نکالا جا سکتا ہے
اس دوران ایک مخصوص کمپیوٹر اس سارے عمل کی نگرانی کرتا ہے
اور مریض کی ضرورت کے مطابق
آکسیجن کی ترسیل میں کمی بیشی پوری کرتا رہتا ہے
وینٹی لیٹر ایک مہنگی مشین ہے
جس کی قیمت 20 سے 40 لاکھ روپے کے درمیان ہوتی ہے
سوچتی ہوں وبائی دنوں میں
کون سا ملک ہو گا جو وینٹی لیٹر کسی اور کو دے گا ؟
دنیا بھر میں
وائرس کے مریضوں کی تعداد اسوقت تک دس لاکھ سے زیادہ ہے
اور 51 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں
امریکہ میں 2 لاکھ 26 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہیں
جبکہ 5 ہزار 3 سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں
میں اخبار پڑھ رہی تھی
امریکہ میں قانونی معاملات کا احاطہ کرنے والی
ایک ویب سائٹ
‘قانون سے اوپر’ کے ایڈیٹر اور لیگل فرم کے مینیجنگ ڈائریکٹر
ڈیوڈ لٹ بھی کورونا کا شکار ہونے کے بعد وینٹی لیٹر پر چلے گئے تھے
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں
ڈیوڈ لٹ نے وینٹی لیٹر پر گزارے اپنے چھ دنوں کی کہانی بیان کی ہے
جسے پڑھ کر مجھے یوں لگا
جیسے میں بھی وینٹی لیٹر سے ابھی ابھی ہٹائی گئی ہوں
وہ لکھتے ہیں
میں نے ہسپتال میں اپنے ابتدائی دن مستحکم حالت میں گزارے
کچھ اضافی آکسیجن لی
مگر 20 مارچ کی شام کو میری حالت انتہائی خراب ہوگئی
ڈاکٹرز نے کہا مجھے ویٹی لیٹر کے ذریعے سانس لینا ہوگا
میں بہت گھبرا گیا تھا
میں نے سوچا کہ ابھی میرے مرنے کا وقت نہیں ہے
‘میرا ایک ، دو سال کا بیٹا ہے
میں اسے گریجویشن کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں
اور ۔۔۔ جب اس کی شادی اور بچے ہو جایئں تو
میں ان کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں
میرے پاس دعا کے سوا کچھ نہ بچا تھا اور وہی بار بار کر رہا تھا
میں 6 دن وینٹی لیٹر پر رہا
میں بے ہوش تھا ۔۔ نہیں معلوم ان 6 دنوں میں کیا ہوا
پر اتنا جانتا ہوں
وینٹی لیٹر نے
مجھے اور میرے خوابوں کو مرنے سے بچایا ہے
ڈیوڈ لٹ خوش قسمت ہیں
پر کئی ڈاکٹرز اور نرسیں بھی ایسی قسمت نہیں پا سکے
اور وبائی دنوں میں وینٹی لیٹرز کے نہ ہونے سے مر گئے
ایسے میں وینٹی لیٹر کی قلت مجھے دکھ دے رہی ہے
عالمی ادارہ صحت
دنیا بھر کے ملکوں کی صحت کے نظاموں کی درجہ بندی کرتا ہے
ان میں پہلے نمبر پر فرانس
دوسرے پر اٹلی اور ساتویں پر اسپین ہے
لیکن کورونائی وبا میں تینوں ناکام دکھائی دیتے ہیں
کیونکہ ان کے پاس کافی تعداد میں وینٹی لیٹرز نہیں ہیں
اس وقت
امریکہ میں سب سے زیادہ وینٹی لیٹرز ہیں
ہر ایک لاکھ افراد کے لیے 34 وینٹی لیٹرز ہیں
یعنی 33 کروڑ آبادی کے لیےایک لاکھ 70 ہزار وینٹی لیٹرز ہیں
لیکن ۔۔ بدترین حالات میں
ساڑھے 9 لاکھ وینٹی لیٹرز کی ضرورت پڑسکتی ہے
دوسرے نمبر پر جرمنی ہے
جہاں ہر ایک لاکھ افراد کے لیے 29 وینٹی لیٹرزہیں
تیسرے نمبر پر اٹلی ہے
جہاں ایک لاکھ افراد کے لئے 12 وینٹی لیٹرز ہیں
یعنی 5200 وینٹی لیٹرز ہیں
فرانس کے پاس 5065 اور اسپین کے پاس ان سے بھی کم تعداد ہے
روس میں 40 ہزار وینٹی لیٹرز ہیں
جن میں سے 5 ہزار سے زیادہ صرف ماسکو میں ہیں
ابھی تک روس میں کرونا وائرس سے صرف ایک شخص ہلاک ہوا ہے
برطانیہ کی 65 کروڑ آبادی کے لیے 8000 وینٹی لیٹرز موجود ہیں
آئرلینڈ میں 1229 اور اسرائیل میں 3100 وینٹی لیٹرز ہیں
بھارت کی 1.535 بلین آبادی کے لئے 30 ہزار وینٹی لیٹرز ہے
پاکستان میں 212۔2 ملین لوگوں کے لئے 2539 وینٹی لیٹرز ہیں
چین میں سب سے کم
یعنی 1.393 بلین لوگوں کے 15 ہزار وینٹی لیٹرز ہیں
جن میں سے ووہان میں 600 وینٹی لیٹرز تھے
جس کی وجہ سے
وہاں بڑی تعداد میں کورونا سے مریض ہلاک ہوئے
پر جس تیزی سے چین نے عارضی ہسپتال بنائے
اسی طرح بڑی تعداد میں وینٹی لیٹرز بھی تیار کیے
جس سے ہلاکتوں کا سلسلہ کم ہو گیا۔۔۔ ۔
اب چین دوسرے ملکوں کو وینٹی لیٹر فراہم کررہا ہے
جن میں اٹلی کو 30 اور پاکستان کو 800 وینٹی لیٹرز فراہم کردیے ہیں
افسوس اس بات کا نہیں
کہ ۔۔ ہمارے غریب ملکوں میں
صحت عامہ کی بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں
دکھ اس بات کا ہے
کہ ۔۔۔۔ امیر ترین ممالک میں بھی
ایک وائرس سے لڑنے کی طاقت نہیں
کورونا وائرس نے
سات ارب آبادی کو خوف زدہ سا کر دیا ہے
موجودہ دور کی تیز رفتاری، سائنسی ایجادات
بیماریوں کی تشخیص و علاج کا سارا بھرم توڑ دیا ہے
کورونا کا قہر ایسے ٹوٹا ہے ۔۔ کہ
دنیا کی سات ارب آبادی نہ صرف گھروں کےاندر قید ہے
بلکہ کھربوں ڈالرز کی معیشت کا نقصان
خطرناک اقتصادی مندی کی جانب لئے جا رہا ہے
پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور بھارت میں
صورت حال اور بھی ابتر اور خطرناک ہے
ان غریب ملکوں میں
بددیانت حاکم اور جنگ وجدل کے جذبات ابھارنے والے لیڈر
صحت اور تعلیم پر نہیں بلکہ مذہبی عمارات بنانے پر
لاکھوں اور کروڑوں روپے خرچ کر رہے ہیں
یوں کہیئے ۔۔ کہ
مذہب، رنگ اور جنگ کے جذبات ابھار کر
عوام میں انتشار کی کیفیت پیدا کر رہے ہیں
اسی اندرونی انتشار، بددیانتی اور باہمی تنازعات نے
کبھی طبی سیکٹر کو پھلنے پھولنے نہیں دیا
ہم سب گواہ ہیں
جیسے ہی کرونا سے لڑنے کا معاملہ آیا
سب کچھ اللہ کے سپرد کر دیا گیا ۔۔۔ کوئی ہاتھ پیر نہ ہلایا
جانے یہ سوچنے کی بات ہے کہ افسوس کی ہے
جس دنیا میں
تیرہ ہزار آٹھ سو نوے جوہری ہتھیار ہیں
اسی دنیا میں
ایک لاکھ افراد کے لیے ایک وینٹی لیٹر تک نہیں ہے
صد افسوس
امریکہ جس کے پاس
سب سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں
گزشتہ اور رواں سال میں امریکہ نے
ماحولیات اور ڈبلیو ایچ او کے فنڈز بند کر کے
جوہری بم کی تحقیق پر دو ارب سے زائد ڈالرز خرچ کئے ہیں
برطانیہ نے جوہری سسٹم ٹرائڈینٹ پر 205 ارب پاؤنڈز خرچ کئے ہیں
کب سے سوچ رہی ہوں
ایک بم چار سو کلومیٹر کے علاقے کو پانچ منٹ میں ملبہ کرسکتا ہے
جبکہ شہریوں کو زندہ رکھنے کے لیے ایک وینٹی لیٹر موجود نہیں
امیر ملک ہوں کہ غریب
یقیننا وہ وقت بھی آنے والا ہے
کورونا وائرس میں مبتلاافراد کو
وینٹی لیٹرز کی جب ضرورت پڑے گی
تو ۔۔۔ ڈاکٹروں کو مریضوں میں انتخاب کرنا ہوگا
کہ کس کو زندہ رکھنا ہے اور کس کو مرنے کے لیے چھوڑنا ہوگا
جیسا حال اٹلی میں ہوا تھا وہی ہونے جا رہا ہے
ایک 70 سال سے زائد عمر کے ایک مریض نے
اپنا وینٹی لیٹر ایک نوجوان کو استعمال کرنے لیے دے دیا
خود سانس کی تکلیف سے انتقال کر گیا
ہائے ۔۔۔ دوارب ڈالرز اور 205 ارب پاؤنڈز میں
کتنے ہی وینٹی لیٹرز آ سکتے تھے
کاش ۔۔۔۔ ہم عوام
ان سیاست دانوں کو
ہمیشہ کے لیے لاک ڈاؤن میں رکھ سکتے
جنہوں نے اپنی عوام کو
انسانی صحت کی بنیادی سہولیات دینے کی بجائے
مہلک ہتھیاروں کی خرید فروخت پرملک کا سرمایہ ضائع کیا
ان بدیانت ظالم حکمرانوں کی
غلط ترجیحات کا خمیازہ
اس وقت سات ارب آبادی بھگت رہی ہے !
ڈاکٹر نگہت نسیم













