وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد حکومت نے میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز کو 90 روز کے لیے معطل کر دیا۔
شیخ انصر عزیز کو معطل کرنے کی سمری کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے منظور کی جس کے بعد انہیں 90 روز کے لیے معطل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
جوائنٹ سیکریٹری عرفان انجم کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ معطلی کا مقصد شیخ انصر عزیز کے خلاف صاف و شفاف انکوائری کرنا ہے۔
شیخ انصر عزیز 2016 میں اسلام آباد کے میئر منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے وفاقی حکومت کے اس فیصلے کو انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔
انصر عزیز نے کہا کہ میئر شپ سے معطلی پی ٹی آئی حکومت کے انتقامی چہرے کی حقیقی تصویر ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک انصاف کارکردگی نہیں بلکہ انتقام پر یقین رکھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتقامی سیاست کی وجہ سے ہی ملک کی ساری اپوزیشن پی ٹی آئی کے نشانے پر ہے۔
انصر عزیز کا کہنا تھا کہ کابینہ کے بجائے سرکولیشن کے تحت منظوری لی گئی اور ملک کے سارے اہم ترین ایشوز چھوڑ کر جنگی بنیادوں پر چھٹی والے دن میری معطلی کے احکامات جاری کر کے پی ٹی آئی حکومت نے ثابت کردیا کہ ان کی ترجیحات عوامی مسائل نہیں کچھ اور ہیں۔
معطلی کا شکار میئر اسلام آباد نے کہا کہ اسلام آباد کے شہریوں کی خدمت حکومت کو قبول نہیں اور معطلی کا فیصلہ کرورنا وائرس کی وبا کے تناظر میں اداروں کو مفلوج کرنے کے مترداف ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس انتقامی کاروائی کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔











