ایک بیٹی کادھماکے میں شہید والد کے نام خط

0
319

ایک بیٹی کادھماکے میں شہید والد کے نام خط

بابا آپ میرے لیے عید سے دو دن پہلے چوڑیاں لینے گئے اور ابھی تک واپس نہیں آئے، میں نے کتنی ضد کر کے آپ کو راضی کیا تھا کہ اس سال میں عید کے کپڑوں جیسی چوڑیاں ، پرس اور جوتے بنواؤں گی۔

بابا آپ اور میں جب مارکیٹ میں تھے تو اُس وقت ایک زور دار آواز آئی معلوم نہیں کس چیز کی تھی مگر اُس کے بعد میں نے آنکھیں کھولیں تو وہاں آگ لگی ہوئی تھی اور آپ میرا ہاتھ چھوڑ کر پتہ نہیں کہاں چلے گئے تھے، مجھے ایک انکل نے گود میں لیا ہوا تھا اور وہ زور زور سے چلا رہے تھے، کانوں میں لوگوں کے چیخنے اور ایمبولینس کے سائرن کی آوازیں گونج رہی تھیں، اس کے بعد کچھ یاد نہیں مگر جب آنکھ کھلی تو نرس آنٹی میرے قریب کھڑی تھیں۔

وہاں سے پڑوسی ظفر انکل (فرضی نام) مجھے گھر لے آئے، جب مجھے مکمل ہوش آیا تو دیکھا سب رو رہے تھے، بابا پتہ ہے ہماری پوری گلی میں شامیانے لگے ہوئے تھے اور سب زور زور سے رو رہے تھے، اماں کے گرد بہت ساری عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں اور اماں زور زور سے رو رہی تھیں۔

جیسے ہی میں گھر پہنچی اور اماں کو میرے پہنچنے کا علم ہوا تو وہ سب سے ہاتھ چھڑا کر میری طرف بھاگ کر آئیں اور مجھے سینے سے لگا کر دھاڑیں مارنے لگیں۔ بابا پتہ نہیں کیوں اماں کہہ رہی تھیں کہ اب آپ واپس نہیں آئیں گے مگر مجھے یقین تھا کہ میری چوڑیاں آپ کے پاس ہیں اور آپ نے کس خوشی سے دلوائی ہیں اب چاہے کچھ بھی ہوجائیں آپ واپس آئیں گے۔

کافی دیر بعد گلی میں شور کی آوازیں آئیں کہ ایمبولینس آگئی، پھر اماں میرا ہاتھ پکڑے دروازے کی طرف بھاگ کر آئیں تو گلی میں بہت رش تھا، اماں اور مجھے لوگوں نے اندر والے کمرے میں زبردستی بھیج دیا مگر اماں تھیں کہ انہیں چین ہی نہیں پڑ رہا تھا۔

بابا میں نے گھر پہنچتے ہی اماں کو بتایا کہ آپ نے میرے لیے دو رنگ کی بہت ساری چوڑیاں خریدی ہیں جو بہت مہنگی اور خوبصورت ہیں، میرے لیے آپ نے عید کا چھوڑا سا بیگ لیا تھا جس میں مجھے عیدی کے پیسے جمع کرنے تھے اور وہ گولڈن رنگ کی سینڈل جس میں موتی لگے تھے اتنے خوبصورت تھے، میں اماں کو بتا رہی تھیں اور وہ میرے سر پر ہاتھ پھیرے روئی جارہی تھیں۔

مجھے ایک آنٹی نے گود میں لیا اس دوران آپ کو لوگ کمرے میں لے کر آئے، پتہ نہیں کیوں آپ کے منہ پر لال رنگ لگا ہوا تھا اور آپ مجھ سے باتیں بھی نہیں کررہے تھے، میری چیزیں بھی پتہ نہیں آپ نے کہاں چھوڑ دی تھیں آپ کے ہاتھ بالکل خالی تھے اور آپ میری بات کا جواب بھی نہیں دے رہے تھے۔

بابا میں نے جب جب آپ سے اپنی چیزوں اور چہرے پر لگے سرخ رنگ کے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی تو کمرے میں بیٹھی خواتین زور زور سے رونے لگتی تھیں، کوئی میرے منہ پر ہاتھ رکھتا اور کوئی آنٹی یہ کہتی کہ اب تمھارے بابا کبھی نہیں آئیں گے۔

تھوڑی دیر بعد آپ کو گھر سے لے کہیں لے گئے، پتہ نہیں کوئی کہہ رہا تھا برف خانے یا پھر کہیں اور مگر بابا آپ کے گھر آنے کے بعد میں اپنی چیزیں ڈھونڈتی رہی، میں نے انکل ظفر کو بھی بولا کہ مارکیٹ چلیں میری چیزیں شاید بابا کے ہاتھ سے گر گئیں یا پھر بابا وہاں سے وہ چیزیں لینے گئے ہیں تو یہ بات سُن کر وہ بھی رونے لگے۔

اگلے روز آپ کو تھوڑی دیر کے لیے گھر لائے اور پھر آپ کو لے گئے، جب آپ گھر آئے تو اماں نے آپ کے گالوں پر ہاتھ رکھے، چاچوں نے آپ کو پیار کیا اور سب مجھے کہنے لگے کہ تمھارے بابا اب واپس نہیں آئیں گے۔

بابا آپ کہہ رہے تھے دو دن بعد عید ہوگی مگر ہمارے محلے میں تو کوئی عید نہیں ہوئی، ابھی تک نہ یہاں پر جھولے والے آئے نہ چیز کی دکانوں پر کوئی رش لگا اور نہ ہی کسی بچے نے نئے کپڑے پہننے اور میری چوڑیاں وغیرہ بھی ابھی تک مجھے نہیں مل سکیں۔

بابا اماں کہتی ہیں ہماری عید آپ کے ساتھ چلی گئی، آپ پتہ نہیں کہاں گئے؟ پلیز واپس آجائیں میں آپ سےوعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ کبھی کسی بھی عید وغیرہ پر چوڑیوں ، کپڑوں، جوتوں اور پرس لینے کی فرمائش نہیں کروں گی۔ ۔۔۔۔۔آپ کی پیاری بیٹی

جابر حسین

SHARE

LEAVE A REPLY