گوجرانوالہ /فرینکفورٹ )تحقیقاتی ٹیم( دھوکہ دہی اور فراڈ کے متعدد کیسوں میں ملوث جرمن پولیس کو مطلوب مختار عرف عاطف بٹر ولد محمد اکبر بٹر آف پیپلز کالونی گوجرانوالہ حالیہ مقیم ریوسل ہائیم جرمنی نے اپنے فراڈ کا ڈنگ یتیم اور بیوہ کو بھی مارا ہے۔
تحقیقاتی ٹیم کے رابطے پر گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی بیوہ خاتون آمنہ شاہین صاحبہ نے بتایا کہ تقریباً اڑھائی برس قبل مختار عرف عاطف بٹر نے فون پر انکے یتیم اور مسکین بھتیجے رائے حسنین جہانگیر کھرل سے رابطہ کیا ۔ فراڈئے مختار عرف عاطف بٹر نے رائے حسنین کو اسکے والد کا دوست ظاہر کیا اور اسکے ساتھ اسکے والد کی وفات کا اظہار افسوس کیا۔ مختار عرف عاطف بٹر نے اپنا پیشہ وارانہ جال بننا شروع کیا اور معصوم رائے حسنین کو یہ بتایا کہ اس کا جرمنی میں بڑا کاروبار ہے ، اپنی ٹریول ایجنسی ، موبائل شاپ اور ویسٹرن یونین کا کام ہے۔ اس سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے یہ کہا کہ میں تمہیں جرمنی بلا لیتا ہوں جہاں تم تعلیم اور روزگار دونوں کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ مختار عرف عاطف بٹر نے اس مقصد کے لیے پیسوں کا مصالبہ کیا۔ رائے حسنین کیونکہ اپنی پھوپھو آمنہ شاہین صاحبہ کے پاس رہتا تھا اس لیے اس کا فیصلہ بھی انہوں نے کرنا تھا۔ مختار عرف عاطف بٹر کے اصرار کرنے پر رائے حسنین نے مختار عرف عاطف بٹر سے آمنہ شاہین صاحبہ کی بات کروائی ۔ مختار عرف عاطف بٹر نے رائے حسنین اور آمنہ شاہین صاحبہ کے بیٹے کو جرمنی بلانے کے لیے خطیر رقم کا مطالبہ کیا تو پہلے تو انہوں نے انکار کر دیا کہ اتنے پیسے وہ دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ مختار عرف عاطف بٹر اپنے شکار کو پھنسانے کا فن جانتا تھا اس نے یہ آفر کر دی کہ آپ تھوڑے تھوڑے کرکے پیسے اسے ادا کرتی جائیں وہ باری باری دونوں بیٹوں کو جرمنی بلا لے گا۔
تحقیقاتی ٹیم کے مطابق مختار عرف عاطف بٹر نے آمنہ شاہین صاحبہ اوررائے حسنین کو چار لاکھ کا ایڈوانس اسکے والد چوہدری محمد اکبر بٹر کو دینے کا کہاتاکہ وہ ان کے ویزے کا پراسیس شروع کر سکے۔آمنہ شاہین صاحبہ نے اپنے بھتیجے رائے حسنین کے ساتھ چوہدری محمد اکبر بٹر کو انکے گھر زیڈ بلاک پیپلز کالونی گوجرانوالہ 2016ء میں چار لاکھ روپے ادا کیے۔ چوہدری محمد اکبر بٹر اور انکی اہلیہ شیداں بی بی نے اس بات کا یقین دلایا اور گارنٹی دی کہ ان کے بیٹوں کو مختار عرف عاطف بٹر ضرور جرمنی بلائے گا۔اس کے بعد مختار عرف عاطف بٹر نے چند روز کا وقفہ ڈال کر مزید پیسوں کا تقاضا شروع کر دیا ، آمنہ شاہین صاحبہ نے اپنا زیوراور جمع پونجی دس ٹرانسزیکشنز میں جرمنی مختار عرف عاطف بٹر کو منی گرام کے ذریعے بھیج دی۔ اسی دوران انکے شوہر کوگردوں کا عارضہ لاحق ہوگیا تھا جس کے لیے ان کو Dialysis جیسے تکلیف دہ اور مہنگے علاج سے بھی گزرنا پڑتا تھا۔ آمنہ شاہین صاحبہ نے اپنے شوہر کی جسمانی حالت کی وجہ سے اس بات کا ذکر نہیں کیا تھا کہ وہ اب تک 34لاکھ 65ہزار روپیہ مختار عرف عاطف بٹر کے ہوس کے اندھے کنویں میں جھونک چکی ہیں۔ مگر یہ راز زیادہ دیر تک پوشیدہ نہ رہا اور آمنہ شاہین صاحبہ کے شوہر کو اس بات کا علم ہوگیا تو وہ شدید غم میں مبتلا ہوکر اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اس کے بعد آمنہ شاہین صاحبہ نے مختار عرف عاطف بٹر سے اپنے پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کرنا شروع کردیا تو مختار عرف عاطف بٹر نے ان کو غلیظ گالیاں اور بچوں کو قتل کروانے کی دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ اسکے بعد اس فراڈیے نے ان کے فون کو بلاک کردیا، سخت تشویش کی حالت میں آمنہ شاہین صاحبہ اور رائے حسنین ان کے گھر چلے گئے اور چوہدری محمد اکبر بٹر سے پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کیا کیونکہ یہ پیسے انکی ضمانت اور تسلی کے بعد ہی دیے گئے تھے۔ رقم واپس کرنے کی بجائے چوہدری محمد اکبر بٹر نے ان کو ایک عاق نامہ دکھا دیا کہ انکا اپنے بیٹے مختار عرف عاطف بٹر کے کسی قول و فعل سے کوئی تعلق نہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ عاق نامہ پرانا تھا اور پیسے اس کے بعد دیے گئے تھے اور اسی دوران وہ اپنے بیٹے سے مسلسل رابطے میں بھی تھے بلکہ چوہدری محمد اکبر بٹر اپنی اہلیہ شیداں بی بی کے ساتھ جرمنی اپنے بیٹے مختار عرف عاطف بٹر کے پاس بھی جا چکے تھے۔ایک بیوہ اور کمسن یتیم رائے حسنین نے انکے خلاف قانونی چارہ جوئی کی کوشش کی تو چوہدری محمد اکبر بٹر نے اپنا سیاسی اثر رسوخ تھانے میں استعمال کرکے انکو ایف آئی آر کٹوانے سے محروم کر دیا اور انکو یہ تڑیاں دیں کہ انکے فوج ، عدلیہ اور تھانوں میں بڑے واقفیت ہے اسکے علاوہ انکے پاس کرائے کے قاتل بھی ہیں ۔تقریباً دو برس اسی کرب سے گزرگئے کہ اچانک سوشل میڈیا پر مختار عرف عاطف بٹر فراڈئے کے خلاف لندن میں مقیم سہیل لون کی مہم انکی نظروں سے گزری۔ آمنہ شاہین صاحبہ اور رائے حسنین بھی اس مہم کا حصہ بن گئے ۔ آمنہ شاہین صاحبہ نے بتایا کہ اب وہ کسی کے دباؤ اور دھمکیوں میں نہیں آئیں گی اوربٹر فراڈیوں کے ٹبر کے خلاف قانونی جنگ لڑیں گے۔













