تو کوئی بھی اتنا دین سے نا واقف نہ ہوتا کہ ثواب اور عذاب کوبھی نہ سمجھتا کیونکہ سب کچھ حضور ﷺنے اپنے طور پر عمل کرکے دکھا دیا ہے ان ﷺ کے سوا اور کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا؟حال میں اسلامی جموریہ پاکستان کے شہرمیانوالی سے بی بی سی اور سوشیل میڈیا نے خبر دی ہے کہ ایک شخص نے جو کہ الحمدا للہ مسلمان بھی ہے اپنی نوزائیدہ بیٹی کو پہلے تو جب اسکی پیدائش پر اس کی گود میں رواج کے مطابق اسے دیا گیا تو اس نے بجا ئے پیار کرنے کے انتہائی بے رحمی سے فرش پر پٹک دیا لیکن اس کی زندگی ابھی باقی تھی مری نہیں؟اور وہ اپنی بیوی پر سخت ناراض ہوا کے اس نے بیٹے بجا ئے بیٹی کو کیوں جنم دیا جبکہ اس سے پہلے دونو ں میں بیحد محبت تھی کیونکہ اسکی بیوی خالہ زاد بہن بھی تھی ! مسلمانوں میں اپنے ہی خاندان میں شادی کرنا بہترین شادی شمار کی جاتی ہے اور حضور ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؑ کی شادی اپنے چچا زاد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ کر کے پہلی مثال قائم فرمائی۔ لیکن اس نے اس پر ہی بس نہیں کی سات دن بعد اس نے چھ گولیاں مار،مارکر اپنی بیٹی کی جان لیلی اور وہاں سے فرار ہوگیا جبکہ بعد میں اسے گرفتارکرلیا گیا؟یہ سب کچھ کیوں ہوا اس لیئے کہ وہ پیدائشی مسلمان تو تھا مگر دین کا اسے کوئی علم نہیں تھا؟ اگر وہ جانتا کہ اسلام میں سب سے زیادہ عزت لڑکی ہے لڑکے کی نہیں لڑکے کو باپ کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونا پڑتا ہے جبکہ پیغمبر ﷺاسلام اپنی بیٹی کے استقبال کے لئے خود کھڑے ہوتے تھے واپسی میں دروازے تک رخصت کرنے تشریف لے جاتے تھے۔ پیغمبر ِ اسلام محمد مصطفی ﷺ نے فر مایاکہ جو ایک بیٹی کو اچھی طرح پرورش کریگا وہ قیامت کے دن میرے برابر ایسے کھڑا ہوگا جیسے کہ شہادت انگلیدوسری انگلی کے ساتھ؟اور جو کہ تین بیٹوں پرورش کریگا اسکے جنتی ہونے میں کوئی شک نہیں؟ مگر وہاں اسلام کے بجا ئے عہد جہالیت کی رسم رواج رائج ہیں جس میں لڑکی کی کوئی قدر نہیں ہے ؟ان کا جہاں بھی بس چلتا ہے اسی کو بے رحمیوں کا شکار بناتے ہیں وہ ایک عذاب سمجھی جاتی ہے؟ آئے دن لڑکیوں کے قتل ہوتے رہتے ہیں پیدائش سے لیکر بڑھاپے تک کبھی غیرت کے نام پر، کبھی بھائی کی کسی کی بہن کے ساتھ غلطی کے بدلے میں کسی جرگے یا پنچوں کے فیصلے پر؟ اسی لئے اسلام تعلیم پر زور دیتا ہے جہالت پر نہیں۔مگر مسلمان جہالت کو ترجیح دیتے ہیں اسلام کو نہیں؟ کہ وہ اس سے واقف ہی نہیں ہیں جس میں ہر مسئلہ کاحل ہے جن کو اپنے اوپر ہادیﷺ اسلام نے عمل کرکرکے دکھایا؟ اور مقدس کتاب قرآن میں کہا گیا کہ تمہارے لیئے تمہارے نبی کے ﷺ اسوہ حسنہ میں بہترین نمونہ ہے۔ اگر مسلمان اس نمونے پر عمل کررہے ہوتے تو انہیں ﷺ کی طرح لڑکی کی پیدائش پرخوش ہوتے انہیں کی طرح دروازے تک چھوڑنے اور استقبال کرنے آتے؟ تو پھر اس قسم کے واقعات نہیں ہوتے جو کہ دوسرے مذاہب میں لڑکیوں کے ساتھ روا رکھے جاتے ہیں۔ تب یہ واقعہ بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نہیں ہوتا؟ یہ اس وجہ سے ہوا اور وہاں ہوتا آرہاہے کہ وہاں نہ اسلام ہے نہ جمہوریت ہےصرف نام ہے ورنہ جو بھی وہاں جاتا یا کسی اور اسلامی ملک میں جاتا تو اور وہاں حضور ﷺ کے اسوہ پر چلتا ہوا دیکھتا توآکر بتاتا کہ وہاں لوگ خود بھوکا رہنا پسند کر تے ہیں مگر مسافروں کو کھانا ضرور کھلاتے ہیں؟ ہمسایوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں؟ وہ واپس آکر یہ نہیں بتاتاکے ٹرین میں داخلے کے دروازے بند کرکے وہاں کے لوگ سوجاتے ہیں تاکہ کوئی اور مسافر داخل نہ ہو؟ وجہ یہ ہے کہ مسلمان اللہ اور سول ﷺ پر جان دیتے ہیں؟ مگر ان کے احکامات اور تعلیمات پر کان نہیں دیتے تاکہ انکا سارا دکھ دلدر ہوجائے اور جان دینے کی نوبت ہی نہ آئے؟ اس واقعہ سے ثابت یہ ہوا کہ اصل میں نہ ماننا ان کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ یعنی کسی قاعدے قانون پر عمل نہ کرنے کی عادت بن گئی ہے لوگ نہ کسی قانون کے پابند ہیں نہ اس پر عمل کرتے ہیں اور مسلمانوں کی یہ ہی بے عملی ساری دنیا میں اسلام کے کھاتے میں لکھی جاتی ہے؟ اگر ہم اسلام پر عمل کرتے ہوتے تو دنیا ہمیں اور ہمارے ملکوں کو دیکھنے آتی کیونکہ وہ مدینے کی ریاست کی طرح جنت ہوتے جہاں کوئی خیرات لینے والا نہیں ملتا تھا؟عہدے لینا اتنی بڑی ذمہ داری سمجھی جاتی تھی کہ کوئی عہدہ لینے کے لیئے تیار نہیں ہوتا تھا بجائے خرید کر لینے کے؟ اب اگر کوئی آ جا ئے تو وہ یہ تاثر لے کر جاتا ہے۔ کہ اسلام دین بہت اچھا ہے مگر اس پر عمل کہیں نہیں ہورہا جوکہ وہاں جاکر کوئی اسے کوئی دیکھ لے اسے سیکھ لے؟ کاش ہم ایسے نہ ہوتے؟ تو اسلام کی بدنامی کا باعث نہ بنتے؟ میں یہ نہیں جانتا کہ ہم اللہ سبحانہ تعالیٰ کو قیامت کے دن منہ کس طرح دکھائیں گے؟ بس یہ ہی دعا کر سکتے ہیں اللہ ہمیں ہدایت دے اور حضور ﷺ اسوہ پر (راستہ پر چلنے توفیق عطا فرمائے) جوکہ بقول حضور واحد صراط ِ مستقیم ہے( آمین)













