اب اورکس بات کاانتظار ہے۔ شمس جیلانی

0
113

وہ سب کچھ پاکستان میں ہو چکا جو ان مہذب ملکوں میں نہیں ہوتا جنکا تحفہ یہ جموریت ہے جن کے حوالے پکستان کے حکمراں ہر روز دیتے ہوئے نہیں تھکتے ۔ جبکہ پاکستان کی عدلیہ نے اپنے انتہائی صابر ہونے کا ثبوت دیدیا ہے۔ پاکستانی دانشوروں کی اکثریت کا تجزیہ یہ ہے۔ کہ عدلیہ کو اس لیے برا بھلا کہا جارہا کے حکمرانوں کو کسی طرح وہ حکومت سے نجات دیدے تاکہ وہ اپنے آپ کو بطور شہید عوام کے سامنے پیش کر سکیں اور پھر وہ عوام کے پاس یہ کہتے ہوئے جائیں کہ بھائیوں جمہوریت کی مدد کرو۔ ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے ہمیں ا پنی مدت کبھی پوری نہیں کرنے دی گئی؟حالانکہ انہوں نے چند ماہ کم پانچ سال گزارلیے؟ یوں سمجھ لیں کہ پورا ہاتھی نکل گیا ہے ،صرف دم باقی ہے۔ جتنے وعدے الیکشن سے پہلے کیے، جو انہوں نے ااپنے وعدوں کے مطابق ہفتوں میں پورا کرنا تھے وہ چار سال میں نہیں کرسکے؟ توخدارا سوچئے جب وہ پہلے معجزہ نہیں دکھا سکے تو آئندہ کیا معجزہ دکھا سکیں گے اور اس بات کیا گارنٹی ہے کہ ابھی جو جھوٹ بول رہے ہیں! وہ آئندہ جھوٹ نہیں بولیں گے۔ رہے معجزے وہ تو صرف اللہ والے ہی دکھایا کرتے ہیں وہ بھی اشد ضرورت کے تحت اور اللہ کے مخالفین کے مطالبے پر؟اوروہ بھی اللہ ہی کے ہاتھوں سرزد ہوتے ہیں ۔ جو پہلے بھی بظاہرنبیوں (ّع) ہاتھوں سرزد ہوتے دکھا ئی دیتے تھے، مگر کرتا اللہ سبحانہ تعالیٰ ہی تھا۔ کیونکہ وہ اس کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا؟ اس لیے کہ وہ خالق ہے، کائِنات کے ہر راز سے واقف ہے۔ ااس لیے تمام سائنسداں اس بات تو متفق ہیں کہ کائِنات کانظام اتنا مربوط ہے کہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی اس میں خلل واقع ہوجائے تو پوری کائِنات تباہ ہو جا ئیگی۔ مگر اپنی بڑائی یا تعصب میں یا اپنے مفادات کی وجہ سے غیرمسلم سائنسدں اللہ کو نہیں مانتے ہیں۔ جبکہ ہم االلہ کو مانتے ہیں مگر اس کی بات کوئی نہیں مانتے جس کا ہم سے ہمیشہ ہمارا دین تقاضہ کرتا ہے، یہ کس قسم کاماننا ہے جواب آپ پر چھوڑتا ہوں؟

چونکہ اس نے حضور (ص)کے بعد نبّوت ختم فرمادی ہے اور پوری امت کویہ حکم اس کے آخری نبی (ص) دے گئے ہیں کہ“ ہر آنے والا میرےبعد آنے والے ا نسانوں کو میرا پیغام پہونچادے۔۔۔۔الخ “اس طرح وہ لا منتہائی سلسلہ اپنے بعد چھوڑگئے ہیں جس نے اتنے ذرائع پیدا کر دیے ہیں جنکی گنتی نہیں ہے۔ اوراب علم وہاں تک پہونچ چکا ہے کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرے پاس“ اے رب تیرا پیغام نہیں پہو نچا۔“لہذا اتمام حجت کا سلسلہ آج بھی جاری ہے جو قیامت تک جاری رہے گا اور کرامات بھی جاری ہیں جوکہ اولیا ء کے ہاتھوں ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ ان کودکھانے والوں کے لیے۔ پہلی شرط یہ ہے کہ“ وہ جھوٹ نہ بولتے ہوں نہ رزقِ حرام کھاتے ہوں“ حضور(ص) نے ان کی پہچان یہ بتائی ہے کہ“ انہیں دیکھ کر اللہ یاد آجائے “ تو سوچیئے ان کے ہاتھوں سے کرامات کیسے سرزد ہو سکتی ہیں۔ جو دہائی دیتے ہوں جس سے سن تیرہ کے انتخابات کے دور کےاخبارات بھرے ہوئے ہیں۔کہ “ہمیں دستور کی اس شق سےبچا ؤ جس میں حکمرانوں کے سچااور امین ہونے پر زور دیا گیا ہےکہ ہم سے یہ پابندی نہیں ہو سکتی“ اسی لیے وہ جو وعدے پورے نہیں کرنے کے لیے کرتے ہیں ؟ چونکہ اللہ تعالیٰ سبحانہ تعالیٰ نیتوں کے حال جانتا ہے اور اس کی مدد انکے شاملِ حال نہیں ہوتی، لہذا وہ جھوٹے ثابت ہو جاتے ہیں۔ دوسرے وہ دوسری شرط مالِ حلال کی بھی پاپندی نہیں کرتے لہذا ان سے کرامات کیسے سرزد ہو سکتی ہیں؟ اس قسم کے لوگوں سے نبٹنے کے لیے بہت سی دفعات دستور میں موجود ہیں جن کے تحت سب اداروں نے حلف اٹھایا ہوا ہے۔ وہ مزیدکس بات کا انتظار کر رہے ہیں۔کیا اس وقت کا جب ہمارا دشمن اس افرا تفری سے فائیدہ اٹھا کر کامیاب جا ئے ؟ کیونکہ وہ سرحدوں پر معصوم شہریوں کی لاشیں تو روزگرا رہا ہے اور کسی کا حق دوستی ادا کررہا ہے“ تاکہ ادارے کچھ کرتے ہوئے سو دفع سوچیں۔دوسری طرف وہ ان نمعلوم دہشت گردوں کے ذریعہ جن کے نام اسے معلوم ہیں؟ اس لیے کہ وہ انکی دامے درہمے سخنے مدد کر رہا ہے۔ان کا ٹارگیٹ حفاظتی افواج ہیں جن کو تقریباً وہ روزانہ ا نکے ذریعہ شہید کروا رہا ہے؟ شاید ہی کوئی دن ایسا ہو گا جو خالی جاتا ہو۔ ہمارے حکمراں اس کے خلاف زبان کھولنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ صرف خانہ پوری کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ کہ وزارت خارجہ میں بلاکر اس کے نمائندے کو روز ایک پھرا پکڑا دیتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ سرحدوں کا دفاع تو فوج کا کام ہے؟ جواب یہ ہے کہ فوج اپنا فرض حتیٰ الا مکان ادا کر رہی ہے۔ مگر سرحد پار کرنے کاحکم توسول انتظامیہ ہی دیتی ہے۔ ورنہ کرنے والے کے خلاف تادیبی کاروائی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح عدلیہ بھی ا حکامات تو جاری کر سکتی ہے؟ مگر اس پر عمل کون کرائے گا ؟ اس کا اہتمام سول انتظامیہ کرتی ہے۔ یہ وہی صورت حال ہے جس کے بارے میں بار بار کہہ چکا ہوں، جو خلافت عباسیہ کے خاتمہ سے پہلے تھی۔ جبکہ ہم میں سو چ ہی یہ نہیں کہ ہم مسلمان ہیں ہونے کے ناطے ایک قوم ہیں۔صرف یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے مفادات کیا ہیں۔ اوریہ دیکھتے ہیں کہ ا پنا بندہ ہے ؟اگر اپنا ہے توا سے سات خون معاف ہیں؟ پھر دیکھتے ہیں کہ وہ کھانے اور کھلانے والا بھی ہے یانہیں؟یہ اس کی وہ سب بڑی کوالیفکیشن ہیں جس کو ہم ووٹ دیتے وقت لازمی طور پر دیکھتے ہیں ؟

مجھے معلوم نہیں وہ وہاں جا کے کیا جواب دیں گے۔جب اللہ سبحانہ تعالیٰ پو چھے گا۔ کہ تمہارے بزرگوں نے مجھ سے ایک زمین کا تکڑا مانگا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ ہم اس میں آپکا نام بلند کریں گے؟ تم نے یہ نام بلند کیاہے؟ کہ دنیا تم پر ہنس رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں گندم نما جو فروشوں سے محفوظ رکھے۔ اور اپنی رحمت کاملہ سے کسی کے دل میں وہ درد پیدا کردےجو کہ ملک کو بچا لے۔(آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY