پی آئی اے کے طیارہ کا المناک حادثہ۔حکومت تحقیقاتی رپورٹ جلد منظر عام پرلائے

0
886

عید الفطر سے ایک روز قبل لاہور سے کراچی پہنچنے والی فلائٹ حادثے کا شکار ہوگئی، کرونا کے باعث اقوام عالم کے ساتھ دکھی پاکستانی قوم مذید دکھی اور افسردہ ہوگئی۔ پی آئی اے کی بد قسمت فلائٹ لاہور سے کراچی روانہ ہوئی تھی۔ اس میں عملہ کے ارکان سمیت 99 مسافر سوار تھے جو عید کی خوشیاں اپنے پیاروں کے ساتھ منانے کے آرزو مند تھے۔ اسی فلائٹ میں سنیئر صحافی سید انصار نقوی اور ایک پائلٹ بھی اپنے تربیت مکمل کرکے پہلی بار گھر جانے کے لیے سوار تھے۔
اسی پرواز کے مسافروں میں پاک فوج کے ایک میجر بھی شامل تھے۔اس حادثہ میں جام شہادت نوش فرمانے والوں میں دو خاندان ایسے ہیں جن کے پانچ اور چار افراد شہید ہوئے۔ یہ پرواز 22 مئی کو لاہور سے اڑی اور کراچی ایئرپورٹ کے قریب رہائشی علاقے میں گر کر حادثے کا شکار ہوئی۔ اس پرواز کے 97 مسافر شہید ہوئے جبکہ دو خوش نصیب معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔
حسب رویے پی آئی اے حکام نے اس حادثے کی وجوہات کا کھوج لگانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دیدی ہے جس نے اپنی تحقیقات کا آغاز بھی کردیا ہے۔ پی آئی اے کی پائلٹوں کی تنظیم ”پالپا“ نے تحقیقاتی کمیٹی کا حصہ بنانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ پی آئی اے کے سربراہ ارشد ملک نے قوم کو یقین دلایا ہے کہ وہ تحقیقاتی رپورٹ عوام سے شیئر کریں گے۔
مجھے پی آئی اے کے سربراہ ارشد ملک کے اس بیان پر شک کرنے کا کوائی جواز نہیں کہ وہ اپنے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے تحقیقاتی رپورٹ عوام سے شیئر کریں گے۔ وہ اس لیے کہ ارشد ملک صاحب خود نہ صرف فوجی ہیں بلکہ پاک فضائیہ کے سنیئر افسر ہیں۔ مجھے ارشد ملک صاحب کے وعدے پر اس کے باوجود اعتبار ہے کہ ماضی میں ہونے والے فضائی حادثات کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی گئیں اور نہ ہی ان رپورٹ کو خفیہ رکھنے کی وجوہات بتائی گئی ہیں۔
پاکستان اور پاکستان انترنیشنل ایئر لائنز کے معرض وجود میں آنے کے بعد اب تک 17 فضائی حادثات رونماء ہوچکے ہیں۔ ان حادثات میں 1052 افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔ ان 17 فضائی حادثات میں شہید ہونے والوں میں سابق صدر جنرل ضیاء الحق، پاک فوج کے ٹاپ کے سنیئر جنرلز، پاک فضائیہ کے سربراہ مصحف علی امیر،ان کی اہلیہ، غیر ملکی سفیر اور انکی بیگمات، معروف نعت خواں جنید جمشیدسمیت دیگر افراد شامل ہیں۔
پی آئی اے کا طیارہ پہلی بار 1965 میں مئی کے مہینہ میں بیرون ملک فضائی حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ یہ پرواز مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے ایئرپورٹ پر گرکر تباہ ہوئی تھی، جس میں 124 مسافر جاں بحق ہوئے تھے جن میں 22بد قسمت صحافی بھی شامل تھے۔
ان 17 حادثات میں ایک بد قسمت طیارہ سعودی عرب سے 124 حاجیوں کو واپس لے کر آنے والا طیارہ طائف کی وادی کے قریب آگ لگنے سے حادثے کا شکار ہوا جس مین 124 حاجی جاں بحق ہوئے تھے۔
مئی1965 سے 30 جولائی تک پیش آنے والے162019 حادثات کی تحقیقاتی رپورٹس فائلوں میں دب کر رزق خاک بن رہی ہیں۔ 21 مئی 2020 کو کراچی میں گرکر تباہ ہونے والے طیارے کی تحقیقات سے باخبر رہنے کی عوام کی آرزو حق بجانب ہے۔ اگر اس بار بھی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر نہ لائی گئی تو عوام کا حکومتی دعوؤں اور وعدوں پر اعتبار اٹھ جائے گا، لہذا حکومت کو انکوائری کمیٹی کی رپورت کو جلد از جلد منظر عام پر لانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ جیسے چینی بحران کی رپورٹ عوام سے شیئر کی گئی ہے۔ یہ حادثپ بھی حکومت کے لیے ایک امتحان ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا پی ٹی اائی کی حکومت اس حادثے کی رپورٹ عوام کے سامنے لانے کے وعدے میں کامیاب ہوپائے گی یا مصلحت کا شکار ہوکر رہ جائے گی؟
بدقسمت طیارے کے مسافروں کو معاوضہ دینے کا اعلان بھی حوصلہ افزا ہے۔ اگر حکومت معاوضے کی رقم بڑھا دیتی تو اور بھی اچھا ہوتا۔ کیونکہ 10 لاکھ اور 5 لاکھ روپے کی رقم شہید ہونے والوں کے غم اور دکھوں کا مداوا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ حکومت سے درخواست ہے کہ وہ معاوضے (انشورنس) کی رقم کو کم از کم دگنا کرے۔ تاکہ مرنے والون کے لواحقین کی تشنگی کی جا سکے۔ اگر حکومت ایسا کرے گی تو یہ اس کا جاں بحق ہونے والے مسافروں کے خانداوں پر احسان نہیں کریگی بلکہ اپنی ذمہ داری نبھا رہی ہوگی۔
آخر میں شہری ہوابازی کے وزیر غلام سرور خاں کی جانب سے رپورٹ میں قصور وار ٹھہرائے جانے پر مستعفی ہونے کے اعلان پر ان سے اتنا عرض کروں گا کہ غلام سرور خاں! بھارت میں جب ٹرین کا حادثہ ہوا تھا تو وفاقی وزیر ریلوے لال بہادر شاستری نے کسی تحقیقاتی رپورٹ میں قصور وار ٹھہرائے جانے کا انتظار کیے بغیر اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا پاکستان میں وزیر یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ وہ کوئی ریل کے ڈرائیور تھے کہ مستعفی ہوجائیں؟ آگے ہمارے شہری ہوا بازی کے وزیر غلام سرور خاں کی مرضی۔۔۔ جیسا ہو چاہئیں کر لیں۔

انور عباس انور

SHARE

LEAVE A REPLY