عالمی اخبار کیلیئے جناب نصیر ترابی سے روما رضوی کی گفتگو

9
3562

جناب نصیر ترابی سے ایک گفتگو

شریک گفتگو روما رضوی ۔۔

کس کی یہ کائنات ہے کون ہے اس کا مدعی ۔۔۔
کس کو “ثبات” چاہئے نرغہء بے ثبات میں۔۔۔

ذہنِ رسا ء نہ جا سکا حدِ معینات تک۔۔۔
کُن کی روش نہ رک سکی راہ معینات میں۔۔

ان اشعار کو پڑھ کر آپکو بھی ایسا ہی لگے گا ۔۔کہ شکوہ جوابِ شکوہ سے منتخب کئیے گئے ہیں ۔۔
لیکن دراصل یہ جنابِ نصیر ترابی کے کہے اشعار ہیں۔۔
آپ ایک ایسے معروف خاندان کے چشم و چراغ ہیں جو بیک وقت علمی ادبی اور مذہبی شناخت رکھتا ہے ۔۔محترم ذاکر و خطیبِ منبر علامہ رشید ترابی ۔۔ جن کی ٹیلی کاسٹ ہوئی شبِ عاشور و شام غریباں کی مجالس اب بھی اکثریت کے ذہن میں محفوظ ہوں گی۔۔
جنابِ نصیر ترابی کو میں نے اکثر پاکستان ٹیلی وژن کے مشاعروں میں نظامت کرتے دیکھا اور ہمیشہ ان کا بہت ہی عمدہ کلام بھی سننے میں آیا ۔۔۔وہ اردو شعراء کی صفِ اول میں ہمیشہ شامل نظر آتے ہیں۔۔انہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی مشاعروں میں بھی نظامت کا اعزاز حاصل کیا ہے ۔۔کافی عرصے تک کالمز بھی لکھتے رہے ۔۔مختلف یونیورسٹیز میں تحقیق کے طلبہ کی رہنمائی کرتے رہےاردو زبان اور اردو شاعری کے فروغ کے لئے باقاعدہ سیمینارز کا انعقاد کرواتے رہے ہیں۔۔۔ میر انیس کے مرثیئے اور کیمرا ورک پر انکا تحقیقی مقالہ بھی اہم دستاویز ہے ۔۔مختلف شعراء کے کلام کا انتخاب بھی کئی سال شائع کرتے رہے ہیں ۔۔۔۔
آپ کی پہلی کتاب عکس ِ فریادی سن 2000 میں منظرِ عام پر آئی ۔۔2013 میں شعریات کے موضوع پر بہت اہم کتاب تحریر کی جو اردو اساتذۂ کی شاعری کو سمجھنے کے لئے طلبہ اور مدرسین کے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے۔۔۔یہی کتاب مختلف اداروں نے اپنے سلیبیس میں بھی شامل کر رکھی ہے ۔۔

سن 2017 میں عقیدہ نوائی “لاریب ” حمد و نعت اور منقبتوں کا مجموعہ شائع ہوا جو مخصوص حلقوں میں بہت مقبول ہے ۔۔

ہفتے کی اس صبح نصیر ترابی صاحب ہمارے مہمان ہیں۔۔
سب سے پہلا سوال میں
نصیر بھائی آپ سے یہی کرنا چاہوں گی کہ آپ نے 1962 میں لکھنے کا آغاز کیا مگر پہلی کتاب سن 2000 میں “عکسِ فریادی” کے نام سے شائع ہوئی اس قدر دیر سے کتاب لانے کی کیا وجہ ہوئی ۔۔

ج- دیکھیں اس کی خاص وجہ تو میرے والد جناب رشید ترابی کی مجھے نصیحتیں تھیں ۔۔ جو مجھے ہر قدم پر کام آئیں وہ کہا کرتے تھے کہ کوئی ایسا کام نہ کرو کہ جس پر بعد میں شرمندگی ہو ۔۔جب تک تحریر یا شعر میچیور حالت میں نہ آجائے اسے مکمل نہ سمجھا جائے ۔۔ضروری نہیں کہ اپنا ہر کلام چاہے وہ کسی حالت میں ہی ہو عوام کی نذر کردیا جائے۔۔جب تک خود کے لکھے پر ہر زاویئے سے مطمئن نہ ہوں اسے شائع نہ کیا جائے ۔۔۔

سوال2–
آجکل بیشمار لوگ شاعری کر رہے ہیں اور تواتر سے کلام چھپوا رہے ہیں کیا ایسا کرنا درست ہے ۔۔

جواب _
شعر کہنا اور اسے شاعری قرار دینا یوں تو شہرت کا باعث بن سکتا ہے اور ممکن ہے کہ لکھنے والے کی بہت ساری کتابیں بھی چھاپ دی جائیں ۔ مگر خیال رہے کہ آپ بطورِ شاعر عرصے تک لوگوں کو یاد نہیں رہیں گے مین اسٹریم کا حصہ کبھی نہ بن پائیں گے ۔۔ادب لکھنے والوں کی جو فہرست ہوگی ان میں شمار نہیں کئے جائیں گے ۔۔
اس دور میں ویسے بھی ادب کی معلومات حاصل کرنے اور شہرت حاصل کرنے کے بہت شارٹ کٹس اور ذرائع ہیں ٹی وی ، ریڈیو ، اخبار ، میگزین۔۔ اور فیس بک پر تو ایسے ایسے شعراء دستیاب ہیں کہ پڑھ کر حیرت ہوتی ہے ۔۔کہ ایسے اشعار بھی داد و تحسین حاصل کرتے ہیں جو سرے سے شعر ہی نہیں ہوتے۔۔
اس لئے میرے والد ہمیشہ کہتے تھے کہ بہت ہی احتیاط سے اپنے کلام کو پرکھا جائے ۔۔میں خود اپنے کلام سے بہت دیر میں راضی ہوتا ہوں ۔۔میرے قریبی دوست مصطفی زیدی اور عبید اللہ علیم بھی اکثر مجھے قصائی کہا کرتے تھے کیوں کہ اگر اپنا کلام مجھے خود درست نہ لگے تو لکھی لکھائی غزل کو بھی تلف کر دیا کرتا تھا ۔۔
سوال 3 _
آپکی پہلی کتاب کے بعد لوگوں کے کسی بھی بھی ردعمل کے بعد کوئی تبدیلی آپ نے اپنے لکھنے کے انداز میں کی؟

جواب_ میری پہلی کتاب عکسِ فریادی سے میرا اسلوب لوگوں کے سامنے آیا لوگ بیشمار کتابیں لکھتے ہیں مگر ان کا اسلوب واضح نہیں ہوتا ۔۔ہمیشہ اپنا وہ رخ دکھانا چاہیئے جس سے آپ کا اسلوب آپکا اسٹائل آپکی پسند نا پسند کا اظہار ہوسکے ۔۔یعنی آپ کے پاس خوشی کیا چیز ہے اور غم کا کیا اظہار ہے۔۔۔
میں نے شروع سے ہی صرف اپنے جذبات کے اظہار کے لئے ہی لکھا ہے۔۔

سوال 4_
کیا ہر وہ شخص جو جذبات و احساس رکھتا ہو۔ شاعری یا نثر نگاری کو اپنے اظہار کا زریعہ بنا سکتا ہے ؟۔۔

جواب_ بھئی لکھنے کے لئے یا بصورت دیگر بھی مطالعہ بہت اہم ہے ۔۔ افسوس کہ کثرتِ مطالعہ کے ہم عادی نہیں ہیں ۔۔ میرا تو یہ عالم ہے کہ گذشتہ کل اگر کسی نے بالفرض کوئی 400 صفحات کی کتاب بھیجی ہے تو اگلی شام تک میں اس کتاب کی تفصیل خود مصنف کو بتا دیتا ہوں اور وہ حیرت کرتا ہے مگر حق یہی ہے کہ کثرتِ مطالعہ سے آپ میں معیار پیدا ہوتا ہے آپ خود اندازہ کرسکتے ہیں کہ لکھا گیا مواد قابل اشاعت ہے کہ قابل.رد مطالعہ آپ میں ایسی قدرت پیدا کردیتا ہے کہ خود کے معیار قائم کرسکیں معیار نہ ہو تو اظہار طاقت نہیں رکھتا ۔۔

سوال 5

عام طور پر کوئی بھی تخلیق کار کسی خاص واقعے یا کسی خاص محرک کے زیر اثر کوئی کلام یا فن پارہ تخلیق کرتا ہے ۔۔آپکو لکھنے کی تحریک کس سبب ہوئی؟

جواب ۔۔
میرے زمانے میں بطور تفریح ٹی وی ، انٹرنیٹ فلم یا برینڈز وغیرہ کا ٹرینڈ نہیں ہوا کرتا تھا ۔۔ میری تربیت تو اس ماحول میں ہوئی کہ والد صاحب خود شعر کہتے تھے اور ہفتے میں ایک دن یعنی اتوار کو ایک شعری نشست گھر میں لازمی ہوتی تھی جس میں وقت کے مشہور شعرا کلام سناتے تھے جوش صاحب آتے تھے فیض صاحب پڑھتے تھے۔۔خاصی طویل نشست ہوتی تھی پھر کھانا وغیرہ کھایا جاتا۔۔ہم سلفچی میں ان حضرات کے ہاتھ دھلاتے تھے۔ جب وہ تخت سے اترتے تو ان کے جوتے سیدھے کرتے تھے ۔۔اس ماحول میں رہتے ہوئے تہذیب و تمیز پیدا ہوئی۔۔پھر ایک طرح ان محافل نے نفسیاتی تربیت کی اور شاعری کی جانب رغبت پیدا ہوئی۔۔
پھر لفظ سمجھ میں آنے لگے ۔۔گھر کی تربیت تو اول ہوئی اور یہ نشستیں بہت سیکھنے کا سبب بنیں ۔۔پھر اسکول سندھ مدرستہ الاسلام جہاں قائد اعظم بھی زیر تعلیم رہے وہاں پر پڑھا تو نویں جماعت سے خود بھی اشعار کہے۔۔۔مگر شروع میں مختلف شعراء کے کلام کی پیروڈیز بہت کیں ۔۔

سوال 6
کوئی ایسا خاص دور جب آپ نے بہت لکھا ہو۔۔؟

جواب ۔۔
زیادہ اور کم لکھنے کا تو کبھی مسلہ ہی نہیں ہوا کیونکہ میرا اپنا معیار خاصہ سخت تھا ۔۔مگر ہاں اچھے اسپورٹس مین کی طرح ابتدائی زمانہ خاصہ سرگرم رہا اس وقت کہہ سکتے ہیں کہ زیادہ لکھا گیا غالبا” 70 سے 80 کی دہائی مصروف گذری۔۔

سوال 7

اپنی فطرت سے نزدیک تر لکھتے ہیں یا وہ جو آپ کا سامع یا قاری سننا اور پڑھنا چاہتا ہو ؟

جواب ۔۔
لوگوں کی فرمائش پر پابند ہو کر کبھی نہیں لکھا اس سبب سے مشاعروں میں کم ہی شرکت کی کہ میں پبلک ڈیمانڈ پر کچھ پیش نہیں کرتا بس اپنا احساس اپنا ردعمل لکھتا ہوں ۔۔

سوال 8
نئے سننے والوں کو آپکی وہ غزل بہت بھاتی ہے۔۔
“وہ ہم سفر تھا مگر اس میں ہم نوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاوں کا عالم رہا جدائی نہ تھی ۔۔”
اور ڈرامہ سیریلز میں بطور ٹائٹل سونگ بہت زیادہ سنی گئی ہر فرد بالتفریق عمر کے ہر ایک نے پسند کی جبکہ آپ کے مطابق وہ سقوط ِ ڈھاکہ پر آپ نے لکھی تھی اور ڈراموں میں رومانوی انداز سے فلمائی گئی ہے ۔

جواب ۔۔غزل کی یا اشعار کی تہہ داری ہی دراصل خوبی ہے کہ آپ اسے پڑھیں تو کئی معنی اخذ کرسکتے ہیں فیض کی کتنی ہی غزلیں جو سیاسی حالات پر لکھی گئی تھیں ۔
انکا رومانی نتیجہ بھی نکالا جاسکتا ہے۔۔
ایک اور مثال سنئیے نواب رام پور کے گھر ایک محفل میں شاعر داغ غزل سنا رہے تھے چلمنیں پڑی تھیں اور بیبیاں چلمن کے دوسری طرف سے غزل سن رہی تھیں کہ داغ نے دیکھا کے نواب صاحب کی توجہ چلمن کے دوسری جانب زیادہ ہے تو وہ غزل جو ہے ۔۔

“باعثِ ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں ۔۔۔”
اس میں ہی ایک شعر پڑھا

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں ۔
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔۔

اور مورخین لکھتے ہیں کہ مولانا ابولکلام آزاد نے رامپور کے ایک جلسے میں وجودِ باری تعالی پر تقریر کا آغاز کرتے ہوئے اس شعر کا خوب عالمانہ قدرت سے استعمال کیا کہ کوئی بھی معترض نہ ہوسکا ۔۔

سوال 9_
شعر لکھنا آپکو توانائی دیتا ہے یا
اذیت کا باعث بن جاتا ہے؟
جواب
لکھنا دراصل وہ جو انگریزی کا لفظ ہے نا کتھارسس وہ بن جاتا ہے شعرا اکثر کہتے ہیں نا کرب میں ہوں یا اذیت میں ہوں ۔۔اور جیسے ہی غزل کاغذ پر تحریری صورت میں اتر آتی ہے تو ایسی آسودگی اترتی ہے کہ روح تک سرشاری و راحت محسوس ہوتی ہے۔۔

سوال 10
کیا آپ کو بھی کبھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ یہ کیا لکھ دیا ۔۔؟

جواب
نہیں ابھی تک تو کسی کی ایسا اتفاق نہیں ہوا ہے اور میں خود بھی اپنے معاملے میں محتاط ہوں بہت محنت و سخت گیری سے شعر تخلیق کرتا ہوں ۔۔ہم عصر تو خیر ساتھ ہی ہیں مگر سنیئر شعراء نے بھی کسی غزل شعر یا لفظ تک پر بھی اعتراض نہیں کیا ۔۔ میں اپنا ہر لفظ خود بھی پرکھتا ہوں اگر دیکھنے میں بھی برا محسوس ہو تو کاٹ دیتا ہوں ۔۔۔

سوال 11
لفظ کی طاقت پر کس قدر یقین رکھتے ہیں ؟

لفظ ہاں بہت طاقت رکھتے ہیں لوگوں کے ذہن میں اور زبان پر رہ جاتے ہیں اب اسی غزل کو لیجئے جو ڈراموں میں چلی ۔۔
امریکہ انگلینڈ یا کسی بھی بیرونی ملک کے دورے پر محفلوں میں نوعمر لڑکے لڑکیاں اسے گاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ٹربیوٹ ٹو انکل ہمسفر۔۔
تو دل خوش ہوتا ہے کہ اس بہانے اردو تو پڑھ رہے ہیں ۔۔

سوال 12۔

لکھنے والوں کے دوست ضروری ہے کہ لکھنے والے ہی ہوں ؟

جواب _نہیں یہ قطعی ضروری نہیں اچھا سامع بھی اچھا دوست ہوتا ہے اچھا قاری بھی دوست ہوتا ہے شعر سمجھنے والا ذہین قاری اپنی گفتگو سے نئے سوالات اٹھاتا ہے وہ بھی بہت اچھا دوست بن جاتا ہے۔۔

سوال 12

کبھی شعبہء تدریس سے وابستہ رہے؟

جواب _ براہ راست تو نہیں مگر یہ کتاب شعریات جو لکھی اسکا مقصد سیکھنے اور سکھانے والوں کی ذہنی تربیت تھی کہ شعر کو کس طرح پڑھا جائے کیسے سمجھا جائے ۔۔اس کتاب کو بھی خاص حالات میں لکھا ۔۔2004 میں جب میرے چھوٹے بھائی کا اچانک انتقال ہوا تو صدمے کے باعث میں کافی عرصے خود میں محصور رہا پھر خود ہی اپنے گھر والوں کی خاطر اپنے آپ کو مصروف کیا اور زندگی کی جانب واپس آیا ۔۔ احباب تو غم غلط کرنے کے لئے سیر و تفریح کرتے ہیں مگر میں نے کتاب لکھی سوچا کہ میر و غالب پر تو لاکھوں کتابیں ہیں اب ان کے اشعار کو سمجھنے کے لئے کچھ لکھا جائے ۔۔ تو سن 2004 میں شعریات شائع ہوئی ۔

سوال 13
عام طور پر شعراء اپنے محبوب کے ذکر سے غزل میں رنگ بھرتے ہیں کیا ایسا کبھی آپ کے کلام میں ہوا ؟۔۔

جواب۔۔
دلچسپیاں تو پیدا ہوتی ہیں نوعمری میں لڑکپن میں بھی ایسا ہوتا ہے ایسے ہی خیال میں اشعار بھی ہوتے ہیں مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ یہ خیال زندگی کے معمولات پر یا گھریلو ذمہ داریوں پر حاوی آیا ہو۔۔۔

سوال 14 ۔۔

کبھی آپ نے سوچا کہ اگر شاعر نہ ہوتے تو کیا وجہ شہرت بنتی کبھی ایسا سوچا بلفرض اگر شاعر نہ ہوتا تو کرکٹر ضرور ہوتا ؟

جواب_
ہاں یہ دلچسپ بات ہے کہ واقعی کرکٹ کھیلتا تھا کالج میں بھی اور یونیورسٹی میں بھی ٹیم میں شامل تھا حنیف محمد اسکول میں میرے سنئیر تھے اور مشتاق محمد ساتھ ہی پڑھتے تھے۔۔ مگر شاعری زندگی پر زیادہ غالب رہی ۔۔

سوال 15
لکھنے کے لئے کوئی خاص جگہ جیسے لائبریری یا گھر کا کوئی حصہ مخصوص ہے ؟

جواب_
نہیں ایسا نہیں کہ بیٹھ کر ہی سوچا ہو۔۔ شعر تو اکثر لوگوں کے درمیان ۔۔۔ گاڑی چلاتے گھر بیٹھے ذہن میں آتے ہیں فوری نہیں لکھتا انہیں ذہن ہی میں درست کرتا رہتا ہوں ذہن میں چھبتا رہتا ہے بہتر لگے تو پھر لکھا جاتا ہے۔۔
پہلے اپنا گھر تھا تو وہاں بیشمار کتابوں پر مشتمل بڑی سی لائبریری تھی پھر کئی بار جب مجھ پر فائرنگ ہوئی تو حفاظت کے پیشِ نظر فلیٹ میں شفٹ ہوگیا لائبریری کی تمام کتابیں کسی پبلک لائبریری کو دے دیں ۔۔اب صرف کچھ پسند کی کتابیں ساتھ ہیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں۔۔

سوال 16 _
آپ نے ریڈیو اور ٹی وی پر ملکی و بین الاقوامی بیشمار مشاعروں کی نظامت کی ہے ۔۔ کوئی خاص انداز جو میزبان کو اپنانا چاہیئے ؟

جواب ۔۔میں ہمیشہ بطور.ِ میزبان کم سے کم گفتگو کرتا ہوں تاکہ مہمان شاعر ادیب یا تخلیق کار کو زیادہ سنا جاسکے ۔۔کیونکہ مخصوص وقت میں اگر میزبان ہی زیادہ بول لے گا تو مہمان کو وقت نہیں دے پائے گا۔۔

 17سوال
آپکی بطور شاعر و محقق مجموعی طور پر چار کتابیں آئیں اب مزید کن موضوعات پر لکھنا چاہتے ہیں ؟

پہلی کتاب عکسِ فریادی تو غزلیات کا مجموعہ ہے جس میں میرا اسلوب متعارف ہوا۔۔
دوسرا شعریات جو شائع کی اس کا مقصد دراصل یہی رہنمائی تھی کہ شعر کو کس طرح پڑھیں اور سمجھیں غلط العام کیا ہے املا کیا ہونا چاہیئے ۔۔۔ کن دو الفاظ کو ملا کر نہیں لکھنا چاہیئے۔۔
ویسے بھی اساتذہ پر لازم ہے کہ جو طلبہ کو سکھانے جارہے ہیں اس پر خود بھی مکمل عبور حاصل کریں ۔۔

تیسری کتاب عقیدہ نوائی “لاریب” اکیڈمی ادبيات کی جانب سے علامہ اقبال ایوارڈ کا اعزاز حاصل کرچکی ہے ۔۔

اگلی لغت العوام ہے جس میں وہ الفاظ جو اب بہت بولے جاتے ہیں مثلا” پھڈا ، پنگا جو عام بول چال میں زبانوں پر چڑھے ہوئے ہیں ۔۔جنہیں انگریزی میں سلینگ کہا جاتا ہے وہ عامیانہ نہیں بلکہ عوامی الفاظ ہیں جو لوگ بولتے ہیں ۔۔ان پر بحث کی گئی ہے ۔۔

آخر میں ہمارے پڑھنے والوں کے لئے کوئی ایسا اہم پیغام جو کسی بھی فرد کی زندگی سنوار سکتا ہے۔۔

انسان کی زندگی میں تین مراحل یا معاملات بہت اہمیت رکھتے ہیں ۔۔۔

پہلا یہ کہ اس کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے
اب یہ معاملہ تو اس کے وسائل پر ہے کہ کہاں تک جاری رکھ سکتا ہے

دوسرا مرحلہ تربیت یافتہ ہونا ہے ۔۔

تربیت کرنے میں ہر انسان کا اپنا ماحول ہوتا ہے جس میں اسکے والدین ، اساتذہ اور دیگر بزرگ شامل ہوتے ہیں جن کا انتخاب خود انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا ۔۔

تیسرا مرحلہ یہ کہ وہ صحبت یافتہ ہے کہ نہیں ۔۔
صحبت میں ہمارے دوست سنئیرز ۔۔ اٹھنے بیٹھنے کی جگہیں اور دلچسپیاں شامل ہوتی ہیں جو صحبت کہلائیں گی۔۔

اگر کوئی اچھی صحبت سے بھی محروم ہو تو اِس کمی کو مطالعہ پوری کرتا ہے۔۔
مثال کے طور پر اگر آپ فیض کو بہت پڑھتے ہیں تو یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ نے فیض کیساتھ بہت وقت گزارا ہو ۔۔۔یا اگر یوسفی آپ کے زیرِ مطالعہ ہیں تو یہ ایسا ہی ہے کہ آپ ان کی صحبت سے فیض یاب ہو رہے ہیں
کیونکہ آپ ان مصنفین کی شعوری کوششوں اور دن رات کی عرق ریزی کے بعد اخذ کئے گئے نتائج کو پڑھ رہے ہیں ۔۔

عالمی اخبار کی طرف سے جناب نصیر ترابی کا شکریہ

روما رضوی

SHARE

9 COMMENTS

  1. اسلام علیکم۔
    روما باجی امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گی۔
    آپ نے اہم سوالات تیار کیے۔ نصیر صاحب کے جوابات یقیناً
    رہنمائی کا سامان ہیں۔

    منہاج علی
    کراچی

  2. السلام علیکم
    بہت خوبصورت انٹرویو میں اور نصیر ترابی صاحب جناح کالج میں ساتھ ہوتے تھے میں بزمِ ادب کا صدر بھی رہا اس وقت ہماری یونین کے صدر جناب خواجہ قمرالحسن ہوتے تھے میری والدہ مرحومہ سعیدہ ناز صاحبہ اور نصیر ترابی صاحب کی والدہ بہت قریبی دوست تھیں میں 1984 میں امریکہ چلاگیا 2105 میں واپسی ہوئی سارے دوست بچھڑ گئے
    عامر عسکری
    اینکر پرسن
    ریڈیو پاکستان اسلام آباد
    0335 2731593

  3. روما رضوی صاحبہ ۔ جامع سوالات کے مفصل جوابات ۔ امید ہے کہ آپ یہ سلسلہ جاری رکھیں گی ۔

  4. بہت اچھے اچھے سوالات اور ایک نابغہء روزگار شاعروادیب کے شاندار جوابات۔۔۔بہترین کاوشزندہ باد شادباد

  5. ماشااللّہ بہت شاندار, علم افروز اور مدبرانہ گفتگو, سوال و جواب بہت پاۓ کے ہیں

  6. محترمہ روما رضوی آپ سے ایک سوال ہے
    کہ آپ نے ابتدا میں نصیر صاحب کے سلام کے دو شعر درج کیے پھر لکھا کہ آپ کو یہ اشعار پڑھ کر یوں لگے گا کہ یہ اشعار شکوہ جوابِ شکوہ سے منتخب کیے گئے ہیں۔
    لیکن شکوہ جوابِ شکوہ کی تو بحر ہی الگ ہے۔ ان نظموں کا مرکزی خیال ہی الگ ہے۔ آپ کو نصیر صاحب کے ان دو شعروں میں اور شکوہ جوابِ شکوہ میں کیا مماثلت نظر آئی؟۔ پھر یہ کہ آپ کے اس بیان سے تو لگ رہا ہے کہ آپ نصیر صاحب کے شعری اسلوب کو اقبال کا مقلد سمجھتی ہیں۔

    • منہاج بابا ۔۔مجھے اس لئے ایسا محسوس ہوا کہ قافئیے اور ردیف کچھ اسی طرح کی ردھم میں ہیں ۔۔

      جیسے اقبال کے کلام میں استعمال کئے گئے
      وعلیکم السلام

LEAVE A REPLY