جدید دور کے مسلم سائنسدان اور انکی ایجادات:عالمی اخبار کیلئے اظہر الحق نسیم کی خصوصی تحریر

0
3581

عرصہ دراز سے میں دیکھتا آیا ہوں کہ سوشل میڈیا ہو یا مین اسٹریم میڈیا ، ہر جگہ پر مسلمانوں کا مذاق اُڑایا جاتا ہے کہ مسلمان جدید دور میں بالکل ہی فارغ العقل ہیں ، اور نہ تو کوئی مسلم سائنسدان کوئی جدید سائنس میں اثر رکھتا ہے اور نہ ہی کوئی مسلمان کسی بھی جدید ایجاد کا خالق ہے ۔ اور اس میں عام مسلمان سے لیکر بڑے بڑے میڈیا اور دانشوروں اور تاریخ دانوں نے اپنے اپنے انداز سے مذاق اُڑایا ہے ۔
میں جدید مسلم سائنسدانوں سے تب سے واقف ہوں جب میرا طالب علمی کا دور تھا ، ایف ایس سی کے امتحانات کے بعد جب میرے ایک دوست عمران نے کمپیوٹر کی کلاسز میں داخلہ لیا تو مجھے بھی شوق ہوا ، یہ ١٩٨٧ کے شروع کا زمانہ تھا ، میں بچپن سے ہی ٹیکنالوجی سے متاثر تھا ، اُن دنوں ٹی وی پر نائٹ رائڈر ، ائیر وولف ، سکس ملین ڈالر مین جیسی انگریزی سیریز میں اور ٹک ٹک کمپنی ، روبوٹ ، منگو میرا نام ، جیسی اردو سیریز نے ہر بچے کو بہت متاثر کیا تھا ، اور پھر نونہال ، بچوں کی دنیا اور پھر ابن صفی کی عمران سیریز اور پھر سائنس ڈائجسٹ نے مجھے جدید ترین دنیا سے واقف رکھا ، لفظ کمپیوٹر میرے لیے کوئی اجنبی نہ تھا ، اور انہیں دنوں سائنس ڈائجسٹ میں ایک جوان کی کہانی چھپی ، جس کا نام نوید زبیری تھا ، اور WHO is WHO نامی مشہور میگزین میں اسے ‘‘دنیا کا ذہین ترین طالب علم‘‘ کہا گیا تھا ، اسے اسکے امریکی استاد اپنا استاد مانتے تھے ، اور اردو کی بورڈ بنانے میں بھی اسکا کردار تھا ، وہ کمپیوٹر سائنس کا طالب علم تھا ، اور اپنی ڈگری اسنے شلوار قمیض اور جناح کیپ (جو اس نے پاکستان سے خاص طور پر منگوائے تھے) پہن کر حاصل کی ، گلشن اقبال میں اسکے گھر میں اسکا کمرہ میڈل اور اسناد سے بھرا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ ڈگری لے کر پاکستان کی خدمت کرنا چاہتا تھا ۔۔ ۔ مگر زندگی نے اسے مہلت نہ دی اور وہ صرف ٣٥ سال کی عمر میں کینسر کی وجہ سے چل بسا ۔ ۔ ۔ مجھے نوید زبیری کی کہانی نے کمپیوٹر سائنس کی طرف زیادہ مائل کیا ۔ اور پھر میں نے دنیا کے جدید ترین علوم کو حاصل کرنا شروع کیا ، مجھے میرے اتنے اچھے استاد ملے کہ جنہوں نے مجھے ایسا راستہ دیکھایا کہ اآج تک اس جدید ترین دنیا میں اسی راستے پر چل رہا ہوں ، اور پاکستان سے لیکر دنیا کی جدید ترین لیب تک دیکھ چکا ہوں اور مائکرو سافٹ جیسے جائنٹ کے ساتھ بھی کام کا موقعہ ملا، ١٩٩٢ سے میں انٹرنیٹ کا یوزر ہوں ، اور آج کے کئی سافٹ وئیر جو میں اپنے سامنے بنتے دیکھے اور انکے شروع کے یوزر میں بھی شامل ہوں ۔
اس ساری تمہید کا مقصد یہ بتانا تھا کہ میں بہت اچھی طرح سے نئی ایجادات اور نئی ٹیکنالوجی سے واقف ہوں اور تھوڑا سا علم رکھتا ہوں ، اور کوشش کرتا ہوں کہ اپ ٹو ڈیٹ رہوں ، میرا علم بہت محدود ہے ، مگر اس محدود علم کے مطابق میں کوشش کروں گا کہ اس جدید دور میں مسلم سائنسدانوں کا تعارف کروا سکوں ، اس موضوع پر لکھنے کا میں نے وعدہ کیا تھا بابا صفدر ہمدانی کو رمضان میں ، مگر کچھ اپنی کاہلی اور سستی کی وجہ سے نہیں لکھ پایا۔

کیا ہمارے اسلاف سائنس کے خلاف تھے ، سب سائنسدان قتل کروا دیے گئے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی ہاں ایسا ہی ہے ، مگر کیا واقعٰی ہی ایسا ہی ہے ؟ میں اس پر مختصر رائے دوں گا کہ ‘‘نہیں“ ، ہمارے اسلاف سائنس کے خلاف ہرگز نہیں تھے ، بلکہ کتنے ہی حکمرانوں نے خود سائنسدانوں کو ہر طرح سے مدد دی ، ہاں کچھ ظالم حکمران تھے ، جو سائنس کیا ، وہ تو ہر علم کے خلاف تھے ، انہوں نے نہ صرف سائنسدانوں بلکہ کتنے ہی مذہبی عالموں کو بھی زندان میں ڈالا اور قتل کیا ۔ مگر ہماری بدقسمتی بھی ہمارے ساتھ رہی ، جب مسلم علاقوں میں امن قائم ہوا اور علم کا فروغ ہوا تو ساری دنیا میں مسلمانوں نے اپنے علم کا اجالا پھیلایا ، مگر جب یہ سب عروج پر پہنچا تو مسلمانوں نے ہمیشہ کی طرح دولت کے فتنے کو اپنا سب کچھ بنا ڈالا ، اور رہی سہی کسر منگول فتنے نے پوری کر دی ، عروس البلاد بغداد کی تباہی اور خاص کر وہاں کی لائبرئری کی تباہی نے مسلمانوں کے علم کی کمر توڑ دی ، وہ جگہ جہاں دنیا جہاں کا علم اکھٹا کیا گیا تھا ، جلا دیا گیا ، مجھے ایک فلم یاد آ گئی ، “دی فزیشن“ یہ فلم مسلمانوں کے عروج کے زمانے کی ہے جب ایک عیسائی حکیم ، جدید طبی علوم کے لیے “خراسان“ کا سفر کرتا ہے جہاں وہ طبی علوم حاصل کرتا ہے مسلمان عالموں سے ، تو ایک وقت میں اسے آنکھ کی بیماری کے متعلق معلومات چاہیے ہوتی ہیں ، تو وہ اپنے استاد سے پوچھتا ہے ، تو استاد ایک بڑی الماری کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہاں دیکھ لو ، وہ پوچھتا ہے کون سی کتاب ؟ تو استاد جواب دیتا ہے ، اس ساری الماری میں آنکھ سے متعلق ہی کتب ہیں ۔ یہ تھا وہ علم جو منگولوں نے جلا ڈالا ، جو کچھ بچا وہ بھی اتنا تھا کہ آٹھ سو سال تک مغربی تعلیمی ادارے مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتابوں سے ہی علم حاصل کرتے رہے ۔
جب روس نے پہلی بار اپنا سیارہ “سپتنک اول“ خلا میں بھیجا تو امریکہ نے الزام لگایا کہ روس نے امریکہ کی ٹیکنالوجی چوری کی ہے ، مگر روس کے سائنسدانوں نے جواب دیا ، کہ ہمارے پاس قرون اولٰی کے سائنسدانوں کی کتب ہیں جن کی مدد سے ہم نے یہ سیارہ بھیجا ، یاد رہے میسور کے حاکم ٹیپو سلطان کے سائنسدانوں نے دنیا کا پہلا راکٹ بنایا تھا ، اور ایسی توپ بھی بنائی تھی جو گولہ زمین کے مدار میں پھینک سکتی تھی ۔
ان سب سے پتہ چلتا ہے کہ سائنس کی اتنی مخالفت نہیں تھی جتنی بتائی جاتی ہے ، ہم تو چند مسلمان سائنسدانوں کو جانتے ہیں جنکی کتب باقی رہ گئیں ، مگر ہم ان سائنسدانوں کو کہاں جانتے ہیں جنکی کتابیں منگولوں نے جلا ڈالیں؟ میں ہمیشہ ایک بات کہا کرتا ہوں کہ جب لندن کی سڑکوں میں مہینوں کیچڑ نہیں سوکھتا تھا ، اسلامی دنیا کے شہروں میں رات بھی دن جیسی ہوتی تھی ، بس ہم بتا نہیں پائے کہ مغرب کی ڈارک ایجز اسلامی دنیا کی ڈارک ایج نہیں تھی ،اسرار ناروی المعروف ابن صفی کا شعر یاد آتا ہے
جو کہ گئے وہی اپنا فن ٹہرا اسرار
جو نہ کہ پائے جانے وہ کیا بات ہوتی

جدید دور میں مسلمان سائنسدان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں بہت مخمصے میں ہوں ، کہ جدید دور کے مسلمان سائسدانوں کا ذکر کہاں سے شروع کروں ، سقوط غرناطہ ، بغداد کی تباہی ، دلی کے اُجڑنے کے بعد یا پھر معاہدہ لوزان یا معاہدہ بالفور کے بعد ، مگر مسلمان سائنسدان تو ہر زمانے میں اپنا آپ منواتے رہے ، ہاں سیاسی اور سماجی حالات نے ، اقتدار کے ہوس زدہ لوگوں کو سامنے کر دیا اور عالم پیچھے چلے گئے ، جب کسی قوم پر زوال آتا ہے تو پہلے اس میں جہلوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے ، وہ علم کے مخالف ہو جاتے ہیں اور کاروباری بن جاتے ہیں ، علم کا مقصد صرف ذاتی مفاد کا تحفظ ہوتا ہے ، نہ کہ اخلاقی و سماجی زندگی میں سدھار ۔ ۔ ۔ اگر کسی کو لندن کے عجائب گھر میں جانے کا اتفاق ہوا ہو ، تو وہاں اسے اسلام کے آغاز سے لیکر پچھلی صدی تک کے ہر طرح کی کتب ، آلات ، نقشہ جات وغیرہ دیکھنے کو ملیں گے ۔ مگر کون جائے اور کون تحقیق کرے ، توپ کاپی میوزیم میں ڈھیر لگا ہوا ہے ، قطر کی شاہی لائبریری (جو اب آن لائن بھی موجود ہے ) مسلم سائنسدانوں کی کتب سے بھری ہوئی ہے ، پچھلی صدی تک کے نسخہ جات موجود ہے ۔
بہت مزے سے کہ دیا جاتا ہے کہ مغل دور میں مسلمان صرف عمارتیں بناتے رہے ، مگر عمارتیں کیا کسی انجینر کے بنا بن سکتیں تھیں ، اور کیمیا گری کے بنا ، شیشہ ، سیمنٹ ، رنگ وغیرہ بنائے جا سکتے تھے ؟ حساب کتاب کے بنا ایک بڑے ملک کا نظام چلایا جا سکتا تھا ؟ سڑکیں بنائی جا سکتیں تھیں ؟ اور فصلوں اور باغوں میں اضافہ کیا جا سکتا تھا ، آب پاشی کا نظام کیا کسی سائنسدان کے بنا ہی بنا یا کوئی پُل ، سرنگ اور نقشہ جات بنا علم کے ہی بنائے گئے ، اور کون سی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ مسلمانوں کو یہ علوم مغرب والے آ کر سکھاتے تھے ۔ بڑے مزے سے یہ بات کی جاتی ہے کہ جب انگلستان میں ادویات کو بنایا جا رہا تھا ہندوستان میں عورتیں زچگی کے دوران مر رہیں تھی ، یعنی ہندوستان میں کوئی نظام صحت تھا ہی نہیں ، کاش تھوڑی تحقیق کی ہوتی کسی نے تو پتہ چلتا کہ سلاطین دہلی کے زمانے سے ایک بڑا صحت کا انفرا اسٹریکچر موجود تھا ، حکما کی تربیت کے ادارے تھے ، ہر علاقے میں حکومت کی زیر نگرانی مطب اور طبیب موجود ہوتے تھے ۔۔ ۔ مگر ہمارے ذہنوں میں بٹھایا گیا کہ ہم تو کچھ بھی نہیں تھے اور نہ اب ہیں

میں اس پر بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں مگر پھر کبھی ابھی میرا موضوع ہے جدید دنیا کے مسلمان سائنسدان ، تو میں پچھلی صدی سے کچھ مثالیں دوں گا ،کیونکہ اسکے حوالہ جات آسانی سے مل جائیں گے ، گو ہم میں سے اکثر انکو بھی نہیں مانیں گے ، مگر میں ان سائنسدانوں کا ذکر کروں گا ، جنہیں مغرب بھی مانتا ہے ، اور ان ایجادات کا ذکر کروں گا جنہوں نے دنیا کو بہت کچھ دیا ۔ ۔ شاید کچھ لوگوں کی نیند سے بھری آنکھیں کھل جائیں ، شروع اُس مسلمان سائنسدان سے ، جسے عرب کا آئن اسٹائن بھی کہا جاتا ہے

ڈاکٹر علی مُصطفٰی مشرفہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب بھی کبھی نظریہ اضافیت اور کوانٹم تھیوری کی بات کی جائے ، تو آئن اسٹائن کا نام ذہن میں آتا ہے ، مگر کیا آپ کو پتہ ہے کہ ان تھیوریز پر کام کرنے والوں میں ایک نام مصری نظریاتی سائنسدان ڈاکٹر مُصطفٰی مشرفہ کا بھی ہے ، کہ جس کے قتل پر آئن اسٹائن نے کہا تھا کہ “میں نے اپنی نظریاتی سائنس کے لیے ڈاکٹر مُصطفٰی کو فالو کیا ، وہ طبعیات کے عظیم سائنسدان تھے“ ، جی ہاں عرب جینیس ، جو کہ فزکس کا عظیم سائنسدان تھا اور تھیوری آف ریلیٹویٹی اور کوانٹم تھیوری پر کام کر رہا تھا ، اور دنیا بھر میں اسکا ڈنکا گونجتا تھا (سائنس کی دنیا میں) ، اور پھر اسکی اچانک موت ہو گئی ، اُس کا فزکس اور اپلائیڈ میتھ پر کتنا عبور تھا ، یہ انکی بارہ کتابوں اور کئی ریسرچ پیپر کی شکل میں موجود ہے اور مزے دار بات ہے ، کہ مغرب میں انکی کتب بین ہیں ، کیوں ؟ تھوڑا خود بھی تحقیق کیجیے گا ۔

ڈاکٹر حسن کامل الصباح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے ہاں جب مسلمان سائنسدانوں کا نام لیا جائے تو کہا جاتا ہے کہ اسنے ایسا کیا ایجاد کیا کہ اسے سائنسدان مان لیا ، تو ملیے لبنانی سائنسدان ڈاکٹر حسن کامل سے ، جو کہ ایک الیکٹریکل مکینیکل موجد تھے ، اگر وہ سولر سیل کو دریافت نہ کرتے تو آج خلا میں کیا ہوتا ؟ جی ہاں الیکٹرک کار ، سولر سیل کے موجد ڈاکٹر حسن تھے ، انہوں نے ہی لیکوڈ کرسٹل کا نظریہ پیش کیا جو آج کی ہر اسکرین کی وجہ ہے ، انکا بنایا ہوا آرک ویلڈنگ کا طریقہ آج ہر ہیوی انڈسٹری میں استعمال ہوتا ہے ، یہ عظیم سائنسدان جنرل موٹرز کے ساتھ منسلک ہوا اور ابھی چند ہی ایجادات کیں تھیں کہ وہ دنیا کی نگاہوں میں کھٹکا اور ١٩٣٥ میں ایک پرسرار کار ایکسیڈنٹ میں مارا گیا ۔ ۔ ۔

ڈاکٹر سامیعہ میمنی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عام طور پر یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ مسلم حواتین تو علم نہیں رکھتیں تو سائنس میں انکا کیا کام ہو گا ، جی نہیں جدید مسلم سائنسدانوں میں حواتین بھی شامل ہیں ، سعودی ڈاکٹر سامعہ میمنی نے دماغ کی سرجری کو کیمرے کے ذریعے ممکن بنا کر اسکے خطرات کو بہت کم کر دیا ۔ مگر انکو ٢٠٠٥ میں قتل کر دیا گیا اور انکے تحقیقی مواد کو بھی چُرا لیا گیا

سمیرا موسٰی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسلم حواتین سائنسدانوں کا ذکر ہو اور سمیرا موسٰی کا ذکر کیسے نہ ہو پھر ، ١٩١٧ میں پیدا ہونے والی مصری نیوکلیر سائنسدان ، جنہیں مصر میں نیوکلیر کی ماں بھی کہا جاتا ہے ، ان کی ویسے تو بہت ایجادات ہیں مگر انکی ایک ایجاد وہ ایکویشن ہے ، جس کی مدد سے کسی بھی مادے کو نیوکیولائی عمل سے سستے ترین تانبے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ، اور پھر میڈیکل میں وہ نیوکیر سائنس کی مدد سے کینسر کے علاج کو اتنا سستا کرنے جا رہی تھیں کہ اسپرین کی گولی کی قیمت میں وہ علاج ہو جاتا ، مگر مغرب کے فرعون کہاں برداشت کرتے یہ کتنی ہی دواؤں کی کمپنیاں ڈوب جاتی ، سو انہیں قتل کر دیا گیا جب وہ امریکہ کے دورے پر تھیں

ڈاکٹر رضی الدین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر رضی الدین متحدہ ہندوستان میں میتھیمیٹک کے بڑے سائنسدان تھے ، وہ عظیم سائنسدان ردرفورڈ کے ساتھ بھی کام کر چکے تھے ، انکی ذہانت کی مثال یوں دی جا سکتی ہے ، کہ انہوں نے حساب کے ایک پرچے پر یہ رزلٹ ملا کہ ، انکے انگریز پروفیسر نے انہیں سو میں سے ایک سو ایک نمبر دیے ، پاکستان بننے کے بعد وہ قائداعظم یونیورسٹی کے ساتھ چار یونیورسٹی کے چانسلر بھی رہے ، انکے لکھے ہوئے ریسرچ پیپرز آج بھی کوانٹم فزکس اور حل طلب حسابی مساوات پر انکا کام بلا مبالغہ ایک بہت بڑا کام ہے ، ڈاکٹر صاحب کا انتقال ١٩٩٨ میں ٩٠ سال کی عمر میں ہوا ، سائنس ڈائجسٹ نے انکے لیے خصوصی شمارہ بھی نکالا تھا ، مگر ہم تو صرف ڈاکٹر سلام کو یا ڈاکٹر قدیر کو یا ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو ہی جانتے ہیں ، قصور ہمارا نہیں ہمارے اس دجالی میڈیا کا ہے کہ جس نے ہمارے اصل ہیرو اور ہیروں کو کبھی سامنے نہیں آنے دیا

ڈاکٹر محبوب الحق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب بات پاکستان کے سائنسدانوں کی ہی چل پڑی تو ، ڈاکٹر محبوب الحق کو کون بھول سکتا ہے ، جنہوں نے اکنامکس میں انسانی شماریاتی نظام ایجاد کیا ، جسے ہیومن انڈیکسنگ کہا جاتا ہے ، ڈاکٹر محبوب پاکستان کے وزیر خزانہ بھی رہے اور انکے بنائے ہوئے منصوبوں سے دنیا بھر نے استفادہ کیا ، ہم بھی اس عظیم معاشی سائنسدان کو بہت عزت دی اور انکے منصوبے اور ایجاد کو بہت احتیاط سے کہیں رکھ کہ بھول گئے

ڈاکٹر نوید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلیں اسی صدی کے سائنسدان سے مل لیں یہ مسلم بھی ہے اور پاکستانی بھی ، ڈاکٹر نوید جنہوں نے انسانی دماغی خلیوں کو ایک چپ سے منسلک کرنے کا طریقہ ایجاد کیا جسکی وجہ سے کئی دماغی امراض کا نہ صرف پتہ چل سکتا ہے بلکہ اسکے علاج میں بھی معاونت ہو گی ، انکی اس ایجاد کی وڈیو یوٹیوب پر موجود ہے

ریحان عزیز فارقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریحان ایک پاکستانی انجیر ہیں انہوں نے ایک ایسا سسٹم بنایا ہے کہ کسی بھی قسم کے جنریٹر کو پانی کی طاقت سے چلایا جا سکتا ہے ، اس سے پہلے ہائیڈرو پاور کے لیے الگ قسم کے جنیریٹر استعمال ہوتے تھے

ڈاکتر ایوب اُمیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امیہ ریزروائر ، جی ہاں یہ ایک ایجاد ہے جو نیورو سرجن ڈاکٹر امیہ کے نام پر رکھی گئی ہے ، ڈاکٹر ایوب امیہ نے دماغ کے اندر دوا پہنچانے کا ایک ایسا سسٹم بنایا ہے کہ جس سے انتہائی محفوظ اور تکلیف کے بنا دماغ کے اندر تک دوا پہنچائی جا سکتی ہے جو کہ بہت سی دماغی بیماریوں کے علاج میں انتہائی معاون ہے

ڈاکٹر امجد حُسین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
pleuroperitoneal shunt اور special endotracheal tube

کے موجد ڈاکٹر امجد حسین ہیں ، یہ دو ایسے میڈیکل آلات ہیں جنکی مدد سے سانس کے امراض میں مریض کو بہت آرام ملتا ہے ، ڈاکٹر صاحب کے کتنے ہی ریسرچ پیپرز اور کتابیں ہیں اور انہیں دنیا کے مایا ناز ڈاکٹروں میں شمار کیا جاتا ہے

ڈاکٹر فاروق الباز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاند پر جو خلائی مشن بھیجا گیا تھا ، اسے کہاں لینڈ کرنا ہے ، اسکا انتخاب مصری نژاد مسلم سائنسدان ڈاکٹر فاروق الباز نے کیا تھا ، وہ ناسا کے لیڈ مون جیالوجسٹ تھے ، اور انہوں نے ہی خلابازوں کو چاند کی زمین کے بارے میں بتایا تھا اور انہیں بصری نظام کے بارے مییں ٹریننگ بھی دی تھی ۔ ڈاکٹر الباز آج بھی امریکی ادارے سے وابسطہ ہیں ، جبکہ انہیں مصر میں بھی بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اجملین ، جی یہ ایک کیمیائی مرکب کا نام ہے ، جو کہ ہائی بلڈ پریشر کی ادویات میں شامل ہوتی ہے ، اسکی بنیاد تو حکیم اجمل نے ڈالی تھی مگر اس پر مزید ریسرچ ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی نے کی اور اسے بلند فشار خون کے لیے سب سے ایفکٹیو مرکب بنایا ، ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی مشہور کیمیادان تھے ، انکے بنائے ہوئے مرکبات آج بھی طب کے میدان میں اپنا مقام رکھتے ہیں ، میری خوشقسمتی کہ ڈاکٹر صاحب کو دیکھنے کا موقع ملے ، مگر ملاقات نہ ہو سکی ، اور پھر مجھے انہیں کے انسٹیٹیوٹ میں ایوارڈ سے نوازا گیا ١٩٩٥ میں ، اردو کے ڈیٹا بیس سسٹم اور پرنٹنگ سسٹم بنانے پر دیا گیا تھا ۔ ڈاکٹر صاحب کی چالیس سے زیادہ ایجادات آج تک کیما کی دنیا میں استعمال ہوتی ہیں

ڈاکٹر اشفاق احمد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب پاکستانی سائنسدانوں کا ذکر ہو تو اپنے استاد ڈاکٹر اشفاق احمد کو کیسے بھول سکتا ہوں ، ڈاکٹر صاحب پاکستان کے نامور نیوکلیر سائنسدان تھے ، دو سال پہلے ہی انکا انتقال ہوا ، کہوٹہ ایٹمی پلانٹ میں ڈاکٹر صاحب کا ہی فارمولا یورنیم کی افزردگی کے لیے استعمال ہوتا ہے ، یہ فارمولا کنیڈا بھی استعمال کر رہا ہے ، ڈاکٹر اشفاق نے ڈاکٹر قدیر کے ساتھ اس فارمولے کی پیٹنٹ کے لیے لمبی قانونی لڑائی بھی لڑی تھی ، میں آج جو تھوڑا بہت نیوکلیر فزکس جانتا ہوں ڈاکٹر صاحب کی مہربانی سے جانتا ہوں ، اللہ انہیں غریق رحمت کرے ، آمین

ڈاکٹر رفعت انصاری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناسا ہمیشہ شکر گذار رہے گا پاکستانی نژاد سائنسدان ڈاکٹر رفعت انصاری کا ، جنہوں نے فائبر آپٹک آئی ڈائگنوسٹک سسٹم بنایا ، جس کی وجہ سے خلاباز آسانی سے خلا میں چیزوں کو دیکھ پاتے ہیں ، ڈاکٹر رفعت آج بھی ناسا میں اہم عہدے پر کام کررہے ہیں اور بہت سے امریکی اور سائنسی ایوارڈ لے چکے ہین ( میں نے بہت سے سائنسدانوں کے اعزازات پر نہیں لکھا ، کہ بہت زیادہ ہو جاتا )

ڈاکٹر حفیظ ہارونی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جدید سائنس سرن لیب کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہے ، ڈاکٹر حفیظ ہارونی ، سرن لیب میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں ، وہ پارٹیکل فزکس اور سرعاتی طبعیات ( accelerator physics) کے ماہر سائنسدان ہیں اور سرن میں انتہائی اہم ریسرچ انجام دے رہے ہیں ، انکے علاوہ بیس کے قریب مزید پاکستانی سائنسدان بھی سرن لیب میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور مسلم سائنسدانوں کی بھی ایک بڑی تعداد سرن لیب میں موجود ہے ، ناسا میں تو بہت سے سائنسدان اور ماہرین مسلمان موجود ہیں اسکے علاوہ یورپی خلائی ایجنسی ، کنیڈین خلائی ایجنسی اور بھاری خلائی پروگرام میں بھی مسلمانوں کا نمایاں کردار ہے

حرف آخر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل تو کرتا ہے کہ میں اور بہت سی ایجادات اور مسلم سائنسدانوں کا ذکر کروں ، مگر شاید ان چند مسلم مشاہیر کے بارے میں آپ جان لیں تو آپ اب کبھی بھی کسی کو یہ نہیں کہنے دیں گے کہ ہم نے تو دنیا کی ترقی میں کوئی کردار ادا ہی نہیں کیا ، میں نے اپنے قریبی دوستوں اور ان استاتذہ کا ذکر نہیں کیا جنہوں نے بہت کچھ تخلیق کیا اور نئے نئے فارمولوں پر کام کیا ، ڈاکٹر سعید جو پاکستان میں سی لینگیویج کے ماہر تھے ، میرے وہ دوست جو چپ سرکٹ بنانے میں میرے ساتھ رہے ، وہ لوگ جنہوں نے پہلی سولر کار سامبا بنائی ، ون کیلون حاصل کیا ، سولڈ راکٹ فیول پر کام کیا ، ایڈز کی انسٹنٹ ٹیسٹنگ کٹ بنائی ۔ ۔ ۔
میں نے فاطمہ فرٹیلائزر کے سانسدانوں کا ذکر نہیں کیا ، جنہوں نے بنا دھماکہ خیز کیمیکل کے کھاد بنائی ، دنیا کے پہلے پلاسٹک مقناطیس بنانے والے نوید زیدی کا ذکر نہیں کیا ، بھاری پانی کے اخراج کو کنٹرول کرنے والے سسٹم بنانے والے سلطان بشیر کا ذکر نہیں کیا ،میں نے کمپیوٹر کے سیکیورٹی سسٹم برین بنانے والے کا ذکر نہیں کیا ، میں ساگر وینا کا ذکر نہیں کیا، خلا میں صاف پانی بنانے والے پاکستانی ڈاکٹر سہیل کا ذکر نہیں کیا

کیا کروں ؟ میں کیسے مان لوں کہی مسلم سائنسدان کچھ بھی نہیں ، جدید دور کی کوئی ایجاد مسلمانوں نے نہیں کی ، مسلمان ایک جاہل اور تخریبی قوم ہے ۔ ۔ ۔۔ ایسا نہیں ہے ، بس ہمیں بتایا نہیں جاتا اور ہم شاید جاننا بھی نہیں چاہتے ، بس کسی نے کہ دیا تو مان لیا ، خود تحقیق کی ہی نہیں ، جب کہ قرآن ہمیں بار بار غور و فکر کی دعوت دیتا ہے ، مگر ہم کہاں مانتے ہیں قرآن کی ۔ ۔۔ ہماری نظر میں مغرب ہی سب کچھ ہے ۔ ۔۔ اور یہ سوچ ہماری نئی نسل میں زہر کی طرح بھری جا رہی ہے ۔۔ ۔ اللہ ہمیں ہدایت دے ، آمین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس مضمون کی تیاری میں ، مختلف ویب سائٹس اور یوٹیوب کی وڈیوز کا سہارا لیا گیا ہے ، اسکے علاوہ میں نے اپنی یاداشتوں کو بھی شئیر کرنے کی کوشش کی ہے ، کیونکہ اچھے وقت میں میرا وقت کچھ علم والوں کی مجلس میں گذرا اور ان سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا ، چند ریفرنس کی تفصیل یہ ہے

۔ ١١١ مسلم سائنسدان از محمد زکریا ورک
۔ https://en.wikipedia.org/wiki/List_of_Pakistani_inventions_and_discoveries
۔ https://www.parhlo.com/9-mind-blowing-inventions-that-you-did-know-were-made-by-pakistanis/
۔ https://en.wikipedia.org/wiki/List_of_scientists_in_medieval_Islamic_world
۔ https://www.youtube.com/watch?v=NZS4MM9KjyU
۔https://www.youtube.com/watch?v=yvSwvtwbUXM
۔ مختلف اخبارات و رسائل

اظہر الحق نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY