جوڈیشل کمپلیکس سے قبل خودکش بمبار کہاں حملہ کرنا چاہتا تھا؟ گرفتار ملزمان کے دوران تفتیش اہم انکشافات

0
854

اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس کے باہر خودکش حملہ آور کے گرفتار سہولت کار اور ہینڈلر نے تحقیقات میں اہم انکشافات کیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آورنے جوڈیشل کمپلیکس سے پہلے فیض آباد ناکے کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی، خودکش حملہ آور فیض آباد ناکے پر حملے کے لیے پہنچ چکا تھا۔

تفتیشی ذرائع کا بتانا ہے کہ دھماکا کرنے کی کوشش کے دوران خودکش حملہ آور بارودی مواد کی پن نہ نکال سکا، ملزم کو دھماکا کرنے میں ناکامی ہوئی، پن نہ نکلنے پر ملزم واپس راولپنڈی چلاگیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے چند دن بعد جوڈیشل کمپلیکس پر خودکش حملہ کیا جس کے نتیجے میں 13 افراد شہید اور 30 زخمی ہوئے۔

خودکش حملہ آور کا تعلق افغانستان کے علاقے ننگر ہار سے تھا اور گرفتار سہولت کار اور ہینڈلرز بھی افغانستان میں فتنۃ الخواج کے رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں تھے اور افغانستان سے کالعدم ٹی ٹی پی کے کمانڈر مسلسل ہدایات دے رہے تھے۔

انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی کمانڈر سعید الرحمان عرف ”داد اللہ“ نے ٹیلی گرام ایپ کے ذریعے رابطہ کر کے اسلام آباد میں خودکش حملہ کرنے کی ہدایت کی، داد اللہ نے ساجد اللہ عرف ”شینا“ کو خودکش بمبار عثمان عرف ”قاری“ کی تصاویر بھیجیں تا کہ وہ اسے پاکستان میں وصول کرے، خودکش بمبار عثمان عرف ”قاری“ کا تعلق شینواری قبیلے سے تھا اور وہ ننگرہار، افغانستان کا رہائشی تھا۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد کے باہر ہونے والے دھماکے میں ملوث خودکش بمبار کے معاون دہشتگرد گرفتار کرلیے گئے، انٹیلی جنس بیورو اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی میں ٹی ٹی پی، فتنہ الخوارج کے دہشت گرد سیل کے 4 ارکان کو گرفتار کیا ہے۔

انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی کمانڈر سعید الرحمان عرف ”داد اللہ“ نے ٹیلی گرام ایپ کے ذریعے رابطہ کر کے اسلام آباد میں خودکش حملہ کرنے کی ہدایت کی، دوران تفتیش خودکش حملہ آور کے ہینڈلر ساجد اللہ عرف ”شینا“ نے اعتراف کرلیا۔

داد اللہ نے ساجد اللہ عرف ”شینا“ کو خودکش بمبار عثمان عرف ”قاری“ کی تصاویر بھیجیں تا کہ وہ اسے پاکستان میں وصول کرے، خودکش بمبار عثمان عرف ”قاری“ کا تعلق شینواری قبیلے سے تھا اور وہ ننگرہار، افغانستان کا رہائشی تھا۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی، فتنہ الخوارج کے کمانڈر داد اللہ کی ہدایت پر ساجد اللہ عرف ”شینا“ نے پشاور سے خودکش جیکٹ حاصل کی اور اسے اسلام آباد پہنچایا، دھماکے کے روز ساجد اللہ نے خودکش بمبار عثمان عرف ”قاری“ کو خودکش جیکٹ پہنائی، ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجود اعلیٰ قیادت ہر قدم پر اس نیٹ ورک کی رہنمائی کر رہی تھی۔

یاد رہے کہ تین روز قبل اسلام آباد میں ضلع کچہری کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور 30 زخمی ہوئے تھے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

اسلام آباد کچہری حملے کے سہولت کار اور ہینڈلر کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کچہری حملے کا سہولت کار گزشتہ ایک ماہ سے راولپنڈی میں رہائش پذیر تھا جسے راولپنڈی سے اور ہینڈلر کو خیبرپختونخوا سے گرفتار کیا گیا۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ ہینڈلر اور سہولت کار دہشتگرد کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے اور سکیورٹی اداروں نے دونوں ملزمان کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق خودکش دھماکے سےقبل سہولت کار اورخودکش حملہ آور نے متعدد بارجوڈیشل کمپلیکس کا جائزہ لیا۔

واضح رہے اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس دھماکے میں 12 افراد شہید اور 36 زخمی ہوئے تھے جب کہ گزشتہ روز سکیورٹی اداروں نے حملہ آور کو جوڈیشل کمپلیکس تک لانے والے موٹرسائیکل رائیڈر کو گرفتار کیا۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد میں خود کش اور قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے شہر وانا میں کیڈٹ کالج پر حملے کرنے والوں کا افغانستان سے تعلق ہے۔

سینیٹ اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان دونوں واقعات میں ملوث افراد تک پہنچ چکے ہیں، دونوں واقعات میں ملوث افراد افغانی تھے۔

محسن نقوی نے کہا کہ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ وہ (افغانستان سے) ہم پر بمباری کررہے ہیں اور ہم جا کر ان سے کہیں کہ ہم سے مذاکرات کریں یہ تو نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے سری لنکا کی بہادری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سری لنکن وزیر دفاع سے بات کی اور کھلاڑیوں کی سکیورٹی سے متعلق یقین دہانی کروائی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں 11 نومبر کو میڈیا کو بتایا تھا کہ وانا کیڈٹ کالج پر حملہ کرنے والے تمام افراد کو جان سے مار دیا گیا ہے جبکہ کالج میں موجود تمام طلبہ اور عملہ محفوظ ہے۔

سینیٹ کے اجلاس سے خطاب میں محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نے طالبان حکومت کو بار بار کہا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کو ختم کیا جائے لیکن باز وہ نہیں آ رہے ہیں، اس حکومت کا سب سے بڑا ہدف پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کو واپس ان کے وطن بھیجنا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY