کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں سرکار کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔
کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملے کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی، ایکسپلوزو ایکٹ، قتل سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
مقدمے میں ملزمان سے ملنے والی سب مشین گنز کے نمبرز درج ہیں، مقدمہ میں کراچی اسٹاک ایکس چینج سے قبضے لیے گئے دو موبائل فونز کا بھی اندارج کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق قبضے میں لیے گئے موبائل فونز میں سے ایک موبائل فون اینڈرائڈ جبکہ ایک سادہ موبائل فون تھا۔
اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گرد حملے میں چاروں دہشت گردوں کو مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا جبکہ حملے میں ایک پولیس افسر اور 3 سیکیورٹی گارڈ شہید اور 2 سیکیورٹی گارڈز سمیت 6 افراد زخمی ہوئے تھے۔
……………………
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر ہونے والے حملے میں استعمال کی گئی گاڑی کی خرید و فروخت کی دستاویزات جیونیوز نے حاصل کرلی۔
حملے میں استعما ل ہونے والی گاڑی ہلاک دہشت گرد نے اپنے نام پر کچھ عرصہ قبل کراچی سے ہی خریدی تھی۔
گاڑی کارساز کے قریب شاہراہ فیصل پر واقع شو روم سے خریدی گئی، شو روم پر سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔
گاڑی کے کاغذات پر دہشت گرد کی ولدیت اور پتہ بھی درج ہے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گروں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا سیکیورٹی فورسز نے 4 دہشت گروں کو ہلاک کردیا ہے، فائرنگ کے تبادلے میں پولیس اہلکار سمیت 4 سیکیورٹی گارڈ بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔
ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق حملےمیں ملو ث تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے ،جبکہ کلیئرنس آپریشن جاری ہے، بی ڈی ایس کے عملے کو طلب کرلیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق پیر کی صبح 10 بجے کے قریب 4 دہشتگردوں نے پہلے اسٹاک ایکسچینج کے گیٹ پر دستی بم حملہ کیا اور پھر اندھا دھند فائرنگ کی۔
ڈی آئی جی ساوتھ کا کہناہے کہ دہشت گرد جس گاڑی میں آئے تھے اسے بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے، پولیس حکام کے مطابق دہشت گردوں کی فائرنگ سے 2 افراد بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دہشت گروں کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر جدید اسلحہ اور دستی بموں سے حملہ کیا تھا۔
ایس ایس پی سٹی مقدس حیدر کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے پولیس اہلکار اور 4 سیکیورٹی گارڈ جاں بحق ہوئے ہیں ، جبکہ سول اسپتال میں 7 زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے۔













