سید محمد جعفری کی وفات

٭7 جنوری 1976ء کو اردو کے نامور مزاح گو شاعر سید محمد جعفری‘ کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ 27 دسمبر 1905ء کو پہرسر‘ بھرت پور کے ایک ذی علم گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔1906ء میں ان کے والد سید محمد علی جعفری‘ اسلامیہ کالج لاہور سے منسلک ہوگئے یوں سید محمد جعفری کی تمام تر تعلیم لاہور میں ہوئی۔قیام پاکستان کے بعد سید محمد جعفری مرکزی محکمہ اطلاعات میں اہم منصب پر فائز ہوئے‘ اسی ملازمت کے دوران انہیں ایران میں بحیثیت پریس اور کلچرل اتاشی خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔
سید محمد جعفری نے ایک صاحب اسلوب شاعر تھے انہوں نے سیاسی اور سماجی موضوعات پر 900 کے لگ بھگ نظمیں تحریر کیں۔ ان کے یہاں کلاسیکی شاعری کی تمام التزامات نظر آتے ہیں خصوصاً انہوں نے غالب اور اقبال کے جن مصرعوں کی تضمین کی ہے اس کی کوئی اور مثال اردو شاعری میں نظر نہیں آتی۔
سید محمد جعفری کے انتقال کے بعد ان کی شاعری کے دو مجموعے شوخی تحریر اور تیرنیم کش کے نام سے شائع ہوئے۔ وہ کراچی میں خراسان باغ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
—————————
انور پیرزادو کی وفات

٭7جنوری 2007ء کو سندھی اور انگریزی زبان کے مشہور شاعر،ادیب اور صحافی انور پیرزادو کراچی میں وفات پاگئے۔
انور پیرزادو 25 جنوری 1945ء کو بالھریجی تعلقہ ڈوکری ضلع لاڑکانہ میں پیدا ہوئے تھے۔1969ء میں انہوں نے انگریز ادبیات میں ایم اے کا امتحان پاس کیا اور اسی برس سندھ یونیورسٹی میں لیکچرار کے طور پر عملی زندگی کا آغاز کیا۔ 1970ء میں وہ کچھ وقت کے لئے پاکستان ایر فورس میں بھی رہے مگر ایک سیاسی خط لکھنے کی پاداش میں گرفتار ہوئے اور پھر انہوں نے صحافت کو اپنی زندگی کا محور بنالیا۔ وہ لاڑکانہ اور سکھر میں ڈان کے نامہ نگار کے فرائض انجام دیتے رہے تھے اوروہ عوامی آواز، برسات، سندھ ٹریبیون اور ریجنل ٹائمز آف سندھ کے مدیر رہے تھے۔ انہوں نے آزادی صحافت کی جدوجہد میں دو مرتبہ جیل یاترا بھی کی تھی۔
انور پیرزادو کی سندھی شاعری کا مجموعہ اے چند بھٹائی کھے چھیجن کے نام سے اشاعت پذیر ہوا تھا جبکہ ان کی مرتبہ انگریزی کتب میں سندھ گزیٹئر، لاڑکانہ گزیٹئر اور بے نظیر بھٹو اے پولیٹیکل بائیو گرافی شامل ہیں۔
———————————

جمشید نصروانجی کی پیدائش

٭ کراچی کے معمار‘ جناب جمشید نصروانجی رستم جی مہتہ 7 جنوری 1886ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔
جمشید نصروانجی مہتہ کا شمار ملک کے صف اول کے سماجی کارکنوں میں ہوتا تھا۔ وہ 1914ء میں کراچی میونسپلٹی کے رکن بنے اور 1933ء تک اس کے رکن رہے۔ اس دوران 1922ء سے 1933ء تک وہ گیارہ سال تک مسلسل کراچی کے میئر رہے۔ جمشید نصروانجی نے اپنی میئر شپ کے زمانے میں کراچی کے توسیع کے متعدد منصوبے بنائے۔ کھلی سڑکیں، باغات اور کھیلوں کے میدان تعمیر کروائے۔ شہر کو مختلف وارڈوں میں تقسیم کیا اور ہر وارڈ میں ایک پرائمری اسکول، ایک ڈسپنسری اور میٹرنٹی ہوم قائم کیا۔ فائر بریگیڈ اور ایمبولینس کا اہتمام کیا۔ان کے زمانے میں کراچی ایک چھوٹے سے قصبے سے بڑھ کر ایک بڑا اور جدید شہر بن گیا۔ کراچی کی مشہور سڑک جمشید روڈ کا نام انہی کے نام پر رکھا گیا ہے۔
یکم اگست 1952ء کو جناب جمشید نصروانجی رستم جی مہتہ نے وفات پائی۔

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY