ابھی بھی وقت ہے۔۔۔ شمس جیلانی

0
829

حضرت عمر فاروق ؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو نصیحت کی تھی انہیں ایرا ن بھیجتے ہوئے کہ “ اللہ کا کسی سے کوئی رشتہ نہیں ہے سوائے اطاعت کے “تاکہ یہ انکے ذہن سے نکل جائے کہ وہ حضور ﷺ کےرشتہ دار ہیں۔ یہ نصیحت مجھے اتنی اچھی لگی کہ میں اسے پہلے بھی کئی دفعہ دہرا چکا ہوں، آج پھر پیش کررہا ہوں اس لئے کہ اس میں ہمارے لئیے وہ سبق پوشیدہ ہے جس کی وجہ سے پچھلی قومیں شیطان کے چکر میں آکر تباہ ہوتی رہی ہیں۔جنکا ذکر قرآن نے تو کیا ہی ہے؟ لیکن دنیا کی تاریخ بھی ان سے بھری پڑی ہے۔ بہت سی قومیں خدا تعالیٰ کے غضب کا شکار اس لیئے ہوئیں کہ جو پہلے کبھی اپنے صالح اعمال کی بنا پسند یدہ رہ چکی تھیں۔انہوں نے اطاعت تو چھوڑدی مگر ان کے دل یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ ہمارے اعمال اب ویسے نہیں رہے ہیں جیسے پہلے تھے اور جس کی وجہ سے ہم نوازے گئے تھے۔ لہذا اب اس سے بغیر توبہ کے امید بھی وہ مت رکھو جو پہلے تم رکھتے ؟
چونکہ وہ بغیر انتباہ کبھی عذاب نازل نہیں فرماتا لہذا اتمام حجت کے لیئے پہلے وہ ڈرانے کے لئے نبی ؑ ارسال فر تا تھا اوروہ آکر انہیں خوشخبری بھی سناتا تھا تاکہ توبہ کی طرف مائل ہوجا ئیں تو اللہ سبھانہ تعالیٰ پہلے طرح انہیں پھر نوازنے لگے۔ کیونکہ یہ ہی اس کی سنت ہےاور وہ اپنی سنت کبھی تبدیل نہیں فرماتا اور معاف کرنا بھی اس کی سنت ہے کہ قرآن میں اس کا فرمان ہے کہ میں کسی کو سزا دیکر خوش نہیں ہوں۔
۔ اب چونکہ اس نے دین مکمل فرمادیا ہے اور کوئی نبی ؑ نہیں آناہے، اس لئے یہ کام اس امت کے سپرد کردیاگیا۔ جب تک اس امت میں ڈرا نے والے موجود رہے اور امت اللہ سے ڈرتی اور اطا عت کرتی رہی، اس وقت تک یہ پھلتی پھولتی رہی۔لیکن بعد میں وہ ڈرانے بھی خود مختلف وجوہات کی بنا پرڈرنے اور اپنے فرائض سے پہلو تہی کرنے لگے کہ کہیں ہماری روزی بند نہ ہوجا ئے۔تو حالات بدلتے چلے گئے اور مسلمان بجا ئے غالب ہونے کے مغلوب ہوتے چلے گئے۔ تب جیسا اس کا متبادل قرآن میں تحریر فرمایا ہے، ڈرانے کے لیئے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے طرح طرح کے عذاب بھیجے اور ابھی تک بھیج رہا جیسےکہ آپس میں لڑاکر مسلمانوں کا تکڑے ہوجانا، یا جیسے آجکل “کارونا“ جس نے بہت سے خانصا حبوں کی خان صاحبی نکال دی، ساتھ میں ٹڈی دل کا آنا اور فصلوں کا کم ہونا وغیرہ وغیرہ۔ مگر کوئی بھی اس کو عذاب ماننے کو اور اپنی روش بد لنے کو تیار نہیں ہے۔ نہ اس طور پر ابھی سوچا نہ کسی نے پر واہ کی ،اور ابھی تک اسی غلط فہمی میں مبتلہ ہیں کہ ہم حضور ﷺکی امت ہیں ہمیں کچھ نہیں کہا جا ئے گا۔اگر اس پر جو غور کریں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں جو بار بار فرمایا ہے کہ میری تمام رحمتیں ان کے لیئے ہیں جو میرے اطاعت گزار ہیں، اور ان کے لیئے نہیں جوکہ میرے باغی ہیں۔ اسی قرآن میں وہ اپنی اطا عت کو مشروط قرار دیتا ہے نبی ( ص)کی اطاعت سے، اس لیئے کہ وہی ؑ اللہ کی دنیا میں نمائندگی فرماتے ہیں۔ کیونکہ وہ خود تو سب کے پاس آنے یا انہیں اپنے پاس بلانے سے رہا کہ اس جیسا کوئی ہے ہی نہیں۔نہ آنکھ اس کی ذات کااحاطہ کر سکتی ہے کہ وہ لا محدود ہے، نہ ہی کوئی ہستی اسے دیکھ سکتی ہے کہ وہ لطیف ترین ہے۔ نہ اس کے قریب کوئی ہستی آسکتی ہے نہ اس سے بات کرسکتی ہے۔ ان میں کسی بات کے لیئے کسی قوم یا فرد نے ضد کی تو اسکاانجام کیا ہوا۔ وہ قرآن میں پڑھ لیجئے۔لیکن ہمارا عالم یہ ہے کہ ہم ابھی تک اسی نشہ میں مست ہیں کہ ہم کچھ بھی کریں ہمارا بگڑے گا کچھ نہیں۔ اور اسی نشے نے ہمیں دنیا میں خوار کردیا ہے۔ مگر ہمیں یقین ہی نہیں آتا۔دل کو یہ کہہ کر بھلا لیتے ہیں یہ آیتیں تو پچھلی قوموں کے لئے ہیں ہمارے لئے نہیں ہیں۔ علماء اس کی تردید اس لئے نہیں کرتے وہ رازق اللہ کے بجائے،نعوذ باللہ بندوں کو ماننے لگے ہیں اور انہیں سے ڈرتے ہیں کہ انکی مقبولیت ختم ہوجا ئے گی ،انکی روٹیوں کے لالے پڑ جا ئیں گے وغیرہ وغیرہ جبکہ اللہ فرماتا ہے کہ سب سے زیادہ ڈرنے کا حقدار میں ہوں مجھ ہی سے ڈرو۔ میں اس مفروضے کو غلط ثابت کرنے کے لئے کہ قرآن میں جو پچھلی قوموں کے قصے ہیں وہ ہمارے لیئے نہیں ہیں۔ دوآیتیں سورہ آل عمران کی پیش کر رہا ہو ں۔ کیونکہ وہ صرف ہمارے اور ہمارے ہی لیئے ہیں پچھلی قوموں کے لئے نہیں ہیں۔ یہ ہیں آیت 31 اور 32۔ انہیں قرآن شریف میں جا کر دیکھ لیں ان کا ترجمہ میں یہاں پیش کردیتا ہوں جوکہ لفظ بہ لفظ وہی ہے جو کہ تفسیر ابن ِ کثیر ؒ کے مترجم نےکیا ہے۔ “ کہدے اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تم سے محبت کریگا۔ اور تمہارے گناہ معاف فرمادے گا اللہ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے(31)کہدے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو، اگر یہ منہ پھیر لیں تو بیشک اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا(32)۔ آئیے اب ان کی روشنی میں باتیں کرتے ہیں۔ پہلے تو یہ کہ ان میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کااندازِ تکلم حاکمانہ ہے۔ پھر اس میں جو مندرِ جہ جات ہیں وہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ صرف حضور ﷺ کے امتیوں کے بارے میں ہی ہے کہ “یہ اگر آپ بات مانگیں گے تو ان کے لئے رحمتیں ہی رحمتیں اور منہ پھیر لیتے ہیں یعنی اگر نہیں تو مانتے تو ان کے لیئےعذاب ہی عذاب ہے اس لیئے کہ وہ کافروں کو دوست نہیںرکھتا۔آپ (ص)انہیں، انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجئے۔ جبکہ آجکل ہماری حالت یہ ہے کہ ہم میں اطاعت گزار ڈھونڈے سے ہی ملتا ہے۔ اور یہ ہی برائی سے روکنے والوں کا حال ہے کہ وہ بھی ہمارے معاشرے میں ناپید ہیں۔ دن بھر دعا کی درخواست توایک دوسرے سےکرتے ہیں ۔ مگرایک دوسرے کو جانتے ہوئے کبھی توبہ کرنے کے لیئے کہتے ہوئے نہیں دیکھے گئے۔ تو بات بنے گی کیسے کہ ہم کہہ کر مکر جانے کا بھی ریکارڈ رکھتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY