میں پورے عصری شعور کے ساتھ جنھگوی گجراتی چنگڑوی تحفظ بیان اسلام بل کو مسترد کرتا ہوں
کیونکہ یہ فیڈریشن کی ایک اکائی ( صوبہ ) کی طرف سے مجھے حکم ہے کہ ایک خاص عقیدے کی مذہبی اصطلاحات کو ایمان کے طور پر قبول کروں
جبکہ پاکستان ایک کثیر قومیتی اور کثیر المسالکی ملک ہے
اس ملک کی بانوے چورانوے فیصد مسلم آبادی بھی مختلف الخیال مسالک کی پیرو کار ہے اس صورتحال میں یہ ممکن ہی نہیں کے کسی ایک طبقے کی مسلکی سوچ کی بنیاد پر قانون سازی کی جائے
ریاست یا اس کی اکائیوں (صوبوں ) کا کام لوگوں کے مذہبی عقیدوں میں مداخلت یا عقائد کے حوالے سے متنازعہ قانون سازی کرنا ہر گز نہیں
بلکہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست اور اکائیوں کی حدود میں آباد لوگوں کے مذہبی شہری معاشی اور سیاسی حقوق کا نہ صرف تحفظ کریں بلکہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ کوئی فرد یا مسلکی طبقہ طاقت یا سازش کے ذریعہ اپنا عقیدہ دوسروں پر مسلط کرنے پائے اور نہ ہی ان کی کسی بھی طرح تکفیر کر سکے













