گاہے گاہے بازخواں ایں ، نصرت نسیم ۔قسط نمبر 30

0
750

ابھی تک توزندگی ایک ہی ڈگر پر رواں تھی. جہاں ارد گرداخبار اور رسالوں کے دھنک رنگ تھے. کتابوں کی رنگا رنگ دنیا آباد تھی. اور تخیل وتصور کے رتھ پر سوار کبھی نسیم حجازی کے ناولوں کی فضا میں سانس لیتے. تو کبھی اے آر خاتون کے ناول اور تہذیب و تمدن کی ایک مخصوص فضا رکھ رکھاو، شائستگی ووقارلئے ہوے ڈھیر سارے کرداروں میں گم ہوجاتے.
پھر شفیق الرحمان کی کتابیں حماقتیں، مزید حماقتیں،حکومت آپا، شیطان ان کی شرارتیں اور لطیفے کہ اکیلے بیٹھے بیٹھے ہنسی میں ڈوب جاتی. کلب، جہاز کے عرشے، چاندنی راتیں، برساتیں، برساتی کیسی کیسی دنیاوں کی سیرکی.اوردل میں مسرتوں کے کیسے کیسے شگوفے کھلے کہ آج اتنے طویل عرصے بعد بھی نقش دھندلاے نہیں. پھر

“میرے بھی صنم خانے ” کے کرداروں کی شوخ و شنگ منڈلی کا حصہ بن کر سارے میں گھومتے پھرے اور کبھی سائکل اٹھا کر نکل پڑے
ہاے سائکل آج اپنی پوتی یمنی کو شوخ و تیزی طراری کے ساتھ پارک میں سائکل چلاتے دیکھ کر لطف اندوز بھی ہوتی ہوں. اوربچپن کی وہ آرزو کہ سائکل پر اڑتی پھروں مگر
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

تب لڑکیوں کو سائکل کون لے کر دیتا تھا.یہ ارمان اور خواہش اس وقت بھی جاگی جب کینڈا میں موسم بہار میں لیک شور جاتے ہوے مردوزن کوبے فکری سے سائکل چلاتے بلکہ دوڑاتے دیکھا. اور اب رسالپور کی کشادہ پر سکون سڑکوں کو دیکھ کر حسرت جاگ اٹھتی پے. کہ کاش سائکل چلانی آتی تو اب ان سڑکوں پر چلاتے ہوے کیسا مزا آتا. خیر …-
رات گئے تک ریڈیو اوراس سے نکلتے مدھر گیت اورنغمے پھر ٹیپ ریکارڈر آگیا. بڑا سا اور اسکی بڑی سی کیسیٹ اور اس سے نکلتی سریلی آوازیں -!
ناہید نیازی کا گیت
ایک بار پھر کہو زرا
اور اس طرح کی کئ غزلیں جنہیں سنتے ہوے کئ کہانیوں کے تانے بانے بنتی رہتی. اور آج بھی سفر کرتے ہوے، گیت سنتے ہوے ایک آمد کی کیفیت طاری ہوجاتی پے. اور خیال کے آڑن کھٹولے پر کسی اور دنیا میں جا نکلتی ہوں.
سردیوں کی طویل شامیں اورگرمیوں کی لمبی دوپہر یوں سہج سہج کر دھیرے دھیرے گزرتیں. کہ ناول ایک ہی دن میں ختم کر ڈالتے. اور پھر ایک انقلاب آگیا. وقت کی طوالت عدیم الفرصتی میں اور تخیل وتصور کی جگہ متحرک تصویر نے لے لی. جی ہاں آپ ٹھیک سمجھے. ہمارے گھر ٹی وی آگیا.
بڑا سا نیشنل کا ٹی وی جس کے آگے دروازے تھے ان دروازوں کو سرکاتے تو سکرین نظر آتی. اس ٹی وی کا انٹینا لمبے سےبانس کےساتھ لگا ہوا اوپر چھت پر ایستادہ تھا. آندھی، بارش، طوفان کی صورت میں انٹینا اپنا رخ کیا پھیرتا کہ اس کی اور ہماری جان پر بن آتی کہ انکل بھاگ کر چھت پر جا کر انٹینا ٹھیک کرتے اورتصویر دیکھ کر ہمیں آواز لگانی پڑتی کہ تصویر آگی ہے. بس بس اور یہ سننے سے پہلے ہی کچھ اور رخ موڑ دیتے. تصویر پھر روٹھ جاتی. یہ مشق آدھ پون گھنٹہ جاری رہتی. کبھی کبھی اچھی بھلی تصویر میں ترمرے ناچتے دکھائی دے جاتے تو پھر اسی مشق کو دہرایا جاتا. کبھی ٹی وی کے بٹنوں کو بار باربار گھماتے پھراتے تاوقتیکہ وہ مطمئن نہ ہوتے ادھر سارے گھر والے حالت اضطراب میں کہ پروگرام دیکھنے دیں. یہ وہ زمانہ تھا. کہ خال خال گھروں میں ٹی وی تھا. لہذا قریبی رشتے دار نشریات شروع ہونے سے پہلے ہی آجاتے. اور برآمدے میں رکھی کرسیوں پر اپنی نشست سنبھال لیتے. نشریات کا مخصوص دورانیہ تھا. نشریات کا آغاز ہونے سے پہلے ٹی وی کے مونو گرام کے ساتھ مخصوص ساز بجتا -اور سب لوگ سکرین پر نظریں جمائے منتظر رہتے کہ کب آغاز ہوگا. پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوتا. پھر پروگرامز کی تفصیل اور وقت بتایا جاتا. بچوں کے پروگرام سر فہرست ہوتے جن میں کوئز شو
9اور موسیقی سکھانے کے پروگرام سر فہرست تھے. شروع میں ناہید نیازی بچوں کو سارے گاما پادہا نی سا کی مشق کرواتے اور سارے بچے لہک لہک ےکر سر لگاتے. کبھی کبھی ہم بھی سر لگانے کی کوشش کرتے مگر بےسرے ہی رہے. ناہید نیازی کا ایک گیت بھی ان دنوں بہت مشہور تھا –
چلی رے چلی رے میں تو دیس پیا کے چلی رے
اور بہت ساری خوبصورت غزلیں بھی -بچوں کو موسیقی سکھانے کے اس پروگرام میں ان کے شوہر مصلح الدین بھی ان کے ساتھ ہوتے -پھر بہت بعد میں سہیل رانا نے اس پروگرام کو سنبھالا اور ان بچوں میں سے کئ لوگ شہرت کی بلندیوں تک پہنچے. جن میں افشاں، مونا سسٹرز

نازیہ حسن اورزوہیب قابل ذکر ہیں -یہ وہ دور تھا کہ ابھی ہمارا ایک بازو کٹا نہیں تھا. خبریں اردو، انگریزی کے علاوہ بنگلہ زبان میں بھی پیش کی جاتیں. ٹی وی پر ڈھاکہ ٹی وی کے تیار کردہ بنگلہ زبان کے پروگرام بھی پروگرام کا حصہ ہوتے. بنگالی زبان کے رقص و موسیقی کے پروگرام بہت اعلی پاے کے ہوتے
ہفتہ وار رقص کا ایک پروگرام نرتر تالے تالے کے نام سے پیش کیا جاتا. جس میں کلاسیکل رقص پیش کئے جاتے -اکثر رقص میں حرکات وسکنات کے زریعے پوری کہانی پیش کر دی جاتی -موزوں لباس اورمہذب انداز کے یہ رقص اس مقولے پر پورا اترتے کہ رقص اعضا کی شاعری ہے -آجکل تو چاے کے اور ہر دوسرے تیسرے اشتہار میں نامناسب لباس اور ایسے ناز و انداز لئےرقص ہوتے ہیں -کہ طبیعت مکدر ہوجاتی ہے. –
ٹی وی بلیک اینڈ وائٹ تھا -مگر نشریات میں رنگینی اور ہر زوق کے لوگوں کے لئے تفریح طبع کا سامان موجود ہوتا. انگریزی ڈرامے اور پروگرام ایسے ہوتے کہ سب بے چینی سے انتظار کرتے. “فیوجیٹیو”بەت ہی مقبول ڈرامہ تھا. لوسی شو اور کچھ اور مقبول سلسلے تھے مگر اب یاد نہیں آرہے -شعر و ادب کے افق پر کہکشاں سجی تھی -ہماری خوش قسمتی کہ مشاعروں میں فیض احمد فیض، جوش، احمد فراز اور بےشمار بڑے بڑے شعرا کو کلام پڑھتے دیکھا سنا.

جوش ملیح آبادی کا مخصوص جوشیلا انداز جو دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا -ادبی مذاکرے اعلی پاے کے ہوتے. ایک ادبی پروگرام کے میزبان باقی صدیقی تھے. طنز و مزاح کا ایک اعلی پروگرام “گر تو برا نہ مانے “تھا -بعد ازاں الف نون نے رنگ جمایا -اظہر لودھی آغاز میں خبروں کے علاوہ اناؤنسمنٹ بھی کرتے. اپنے باوقار اور شائستہ انداز سے انہوں نے بھی دلوں میں جگہ بنائی. رات گئے پکے راگ سنواے جاتے -کلاسیکل موسیقی اور راگوں کے بارے میں بتایا جاتا -غزلوں کے بڑے میعاری پروگرام ہوتے -ہر اہم دن پر مشاعرے ہوتے بڑے بڑے -جس میں تمام ملک کے سرکردہ شعرا شامل ہوتے .محرم الحرام کے دس دن موسیقی والے اشتہار بھی بند کر دیے جاتے. محفل مسالمہ، مرثیہ نو تصنیف کے علاوہ انیس ودبیر کے مرثیے بہترین انداز اور تحت الفظ میں پیش کئے جاتے –
پہلی دفعہ شام غریباں دیکھی اور سنی علامہ رشید ترابی کی.
سجدے سے بات شروع کی اور آخر امام حسین علیہ السلام کے سجدے اور میر انیس کے اشعار پر ختم کی. میں ان کے انداز وبیان کی کیا تعریف کروں.یہ سب سننے سے تعلق رکھتا-زیڈ اے بخاری کی آواز میں میر انیس کا مرثیہ مجھے تب بھی پسند تھا اور اب بھی –

طارق عزیز کا نیلام گھر تو بہت بعد کی بات پے. زہنی آزمائش کا منفرد پروگرام کسوٹی تھا. جس کی نظامت قریش پور کرتے. اور افتخار عارف اور عبیداللہ بیگ 20 سوالوں کی مدد سے مطلوبہ شخصیت، کتاب یا عمارت کو بوجھتے -کراچی سنٹر کے اس پروگرام میں بڑے بڑے دانشور اور شاعر وادیب بلاے جاتے -جو ایک کاغذ پر شخصیت، عمارت اور کتاب میں سے کسی ایک کا انتخاب کرکے لکھتے اور سٹوڈیو میں موجود حاضرین کو دکھا دیتے. ایسا دل چسپ علمی پروگرام پھر نہیں دیکھا -بیس سوالوں میں وہ دونوں بوجھ لیتے -کبھی کبھی ناکام بھی رہتے مگر زیادہ تر بوجھ لیتے. ان کے وسیع مطالعے اور معلومات عامہ پر حیرت ہوتی.خیر بعد میں ہاسٹل میں دوستوں کے ساتھ کسوٹی کسوٹی کھیلا کرتے -ایک دفعہ میری دوست ہاجرہ نے ایک بہت مشکل سوال پوچھ لیا -لگا کہ بس ہار جائیں گے مگر 20 سوال پورے ہونے سے پہلے ہی بوجھ لیا اور ایسی خوشی ہوئ کہ بس کیا بتائیں. پتہ ہےاس نے کیا پوچھا تھا –
اصحاب کہف کا کتا ”
اور اب بات ڈراموں کی کریں تو کیسے کیسے اداکار اور کیسے باکمال ہدایت کار تھے –
لوک کہانیوں اور چاروں صوبوں کی رومانوی داستانوں کو کمال خوبی سے پیش کیا گیا. خالد سعید بٹ اور روحی بانو کئ لوک داستانوں کی مقبول اور خوبصورت جوڑی
کراچی سنٹر سے شوکت صدیقی کاڈرامہ خدا کی بستی بھی بہت متاثر کن اور مقبول ڈرامہ تھا –
زہین طاہرہ نے ماں کا کردار اور انکی بیٹی کا کردار نئ اداکارہ توقیر فاطمہ نے ادا کیا-اورکمال اداکاری کی. قاضی واجد کے علاوہ اور بھی کئ بہترین اداکار اس ڈرامے میں تھے مگر اس وقت زہن سے نکل گئے.بعد کے زمانوں اس کو دوبارہ نئے اداکاروں کے ساتھ ایک دفعہ بلیک اینڈ وائٹ اور پھر رنگین بنایا گیا. مگر پہلے والی بات نہیں بنی.ہاےیە سب لکھتے لکھتے کس دور میں جا نکلی ہوں. کہ یادوں نے اپنے حصار میں لے لیا ہے باقی آئندہ بشرط زندگی رہے نام اللہ کا
)یہ ٹی وی کے آغاز اور70 کی دھای کے کچھ پروگرامز کا تفصیل سے اس لئے ذکر کیا کہ شاید یہ پروگرام لائبریری میں ہوں یانہ تو میرے ہمعصر لوگوں کو تو یاد آجائیں گے اورنئے لوگوں کے لیے پی ٹی وی کا شاندار ماضی !جب صرف اس کی حکمرانی تھی-

SHARE

LEAVE A REPLY