چینی قونصل خانہ حملے کے 5 سہولت کاروں کے خلاف مقدمات درج

0
35

چینی قونصلیٹ پر حملے کے پانچ سہولت کاروں کے خلاف مقدمات درج کرلئے گئے، ملزمان کوتیسر ٹاؤن نزد بلوچ گوٹھ کے خالی پلاٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملے کے سہولت کاروں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کرلئے گئے، گرفتار پانچ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر ملیر کےگلشن معمارتھانے میں درج کی گئیں۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان کو تیسر ٹاون کے بلوچ گوٹھ سےگرفتار کیاگیا ، مسلح دہشت گرد حملہ کرنے کی نیت سے ایک جگہ موجود تھے، ملزمان میں احمد حسنین،نادرخان،علی احمد، عبدالطیف اور اسلم شامل ہیں جبکہ ان کے قبضے سے بھاری تعداد میں اسلحہ اور گئیربکس بھی ملا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمان کو آج ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا، ریمانڈ کے بعد سی ٹی ڈی بھی ان ملزمان شامل تفتیش کرے گی۔

اس سے قبل انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے چائنیز قونصل خانے پر حملہ کے مقدمے میں 8 فروری تک پیش رفت رپورٹ طلب کرلی ہے، تفتیشی افسر کی جانب کی جانب سے مقدمہ داخل دفتر کرنے کی رپورٹ جمع کرائی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کیس میں اب تک کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا۔ جب تک کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوتا کیس داخل دفتر کیا جائے۔ اے کلاس رپورٹ میں اسلم اچھو کو عدم گرفتار ظاہر کیا گیا ہے۔ اسلم اچھو کے مارے جانے کے اطلاع ہیں لیکن تاحال اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ چار کلاشنکوف، 2 آئی ای ڈی بم، ڈیٹونیٹر، ہینڈ گرنیٹ، دھماکہ خیز مواد اور گولیاں بر آمد ہوئی۔

گذشتہ روز ایڈیشنل انسپکٹر جنرل امیر شیخ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ چینی قونصلیٹ حملے کے ملزمان اور سہولت کار گرفتار کرلیے ہیں، منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی جبکہ بھارت نے حملے کو اسپانسر کیا۔

امیر شیخ کا کہنا تھا کہ چینی قونصلیٹ پر حملے کے لیے اسلحہ بلوچستان سے ریلوے کے ذریعے لایا گیا، کراچی پہنچنے کے بعد اسلحہ بلدیہ ٹاؤن میں ایک گھر میں رکھا گیا، گاڑی اوپن لیٹر پر تھی، چینی قونصلیٹ پر حملے کا ماسٹر پلان افغانستان میں بنا۔ حملے کا ماسٹر مائنڈ اسلم عرف اچھو افغانستان میں مارا جا چکا ہے، واقعے میں افغان سرزمین استعمال ہوئی، را بھی ملوث ہے۔

واضح رہے 23 نومبر کو چینی قونصل خانے پر حملے کی کوشش ناکام بنادی گئی تھی ، جس کے نتیجے میں دوپولیس اہلکار اور دو شہری شہید ہوئے جبکہ تین دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا تھا، دہشت گردی کی اس کارروائی میں چینی قونصل جنرل اورتمام عملہ محفوظ رہا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY