اگست 15معروف ومنفرد شاعر وادیب اختر حسین جعفری کا یوم ولادت ھے۔وہ پندرہ اگست انیس سو بتیس کو برطانوی انڈیا کے ہوشیارپورکے ایک موضع میں سید محمد علی قانون گو محکمہ مال کے ہاں پیدا ہوۓ۔انہوں نے سرسولی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور غیرمعمولی ذہانت وفطانت کے سبب سرکاری وظیفہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوۓ۔ ابھی پرائمری کے طالب علم تھے کہ ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ھوگیا جس کے بعد وہ گجرات اپنے دادا شاہ محمد شاہ کے پاس آگۓ ۔۔۔کالج لائف سے ہی ترقی پسند حلقہ میں شامل ھوگۓ۔اسی وجہ سے ان کے استاد جناب صفدر میرکوملازمت اور انہیں کالج سے نکال دیاگیا۔چونکہ قیام پاکستان کے بعد ان کےوالد بھی گوجرانوالہ آگۓ تھے۔۔۔لہذا وہ گوجرانوالہ کے کالج میں داخل ہوۓ اور وہیں سے بی اے کیا۔ بعد ازاں کسٹم ڈیپارٹمنٹ میں ملازم ہوۓ اور ڈپٹی کلکٹر کے عہدے تک پہنچے۔اپنی ریٹائرمنٹ سے چند ماہ قبل تین جون انیس سو بانوے کو اپنے دفتر میں حرکت قلب بند ھو جانے کے باعث مالک حقیقی سے جاملے۔
اختر حسین جعفری جدید شاعری کا بہت بڑا نام تسلیم کیا جاتا ھے۔احمدندیم قاسمی کے مطابق وہ ایسے عظیم المرتبت شاعر تھے کہ وہ اپنے بیمثال کلام کی وجہ سے تاریخ ادب میں صدیوں گونجتے رہیں گے۔انہیں انگریزی ادب سے خاص شغف تھا جس کے سبب ان کے کلام میں کیٹس براؤننگ شیلے اور شیکسپئیر وغیرہ کے فکری اثاثے ان کے کلام میں جابجا نظر آتے ہیں۔۔۔۔بلکہ بعض نقاد تو انہیں بیدل کی طرز کا بے بدل شاعر قرار دیتے ہیں جبکہ بیدل کے بارہ میں دبیرالملک حضرت اسداللہ خان غالب یہ کہنے پر مجبورتھے کہ
طرز بیدل میں ریختہ لکھنا
اسداللہ خاں قیامت ھے
اختر حسین جعفری نے نئی روایات کوجنم دیاشعر کی دنیا کو نئی کہکشاؤں اور نت نۓ افق دکھاۓ کہ عقل دنگ رہ جاتی ھے۔۔۔سچائی اور محبت کا یہ خوبصورت شاعر کالج لائف سے آخری عمر تک طاغوتی طاقتوں سے برسر جنگ و جدل رھا
ضیایزید نے بھی ایک کانفرنس میں پاکستان دشمن شاعروں کو دھمکاتے ڈراتے ہوۓ جن لوگوں کے شعروں کا حوالہ دیا ان میں سرفہرست اختر حسین جعفری کا وہ نوحہ تھا جو انہوں چاراپریل انیس سو اناسی کو جناب ذوالفقارعلی بھٹو کے عدالتی و خاکی قتل پر لکھا تھا۔
وہ نوحہ اور کچھ منتخب اشعار نذر قارئین ہیں
نوحہ۔۔۔۔
اب نہیں ہوتیں دعائیں مستجاب
اب کسی ابجد سے زندان ستم کھلتے نہیں
سبز سجّادوں پہ بیٹھی بیبیوں نے
جس قدر حرف عبادت یاد تھے ،پوپھٹے تک انگلیوں پر گن لئے
اور دیکھا۔۔۔۔۔رحل کے نیچے لہوھے
شیشہء محفوظ کی مٹی ھے سرخ
سطر مستحکم کے اندر بست ودر باقی نہیں
یاالہٰی مرگ یوسف کی خبر سچی نہ ہو
ایلچی کیسے بلاد مصر سے
سوۓ کنعاں آۓ ہیں
اک جلوس بے تماشا گلیوں بازاروں میں ھے
تعزیہ بردوش انبوہ ہوا
روزنوں میں سر برہنہ مائیں،جس سے مانگتی ہیں منّتوں کااجر،خوابوں کی زکوٰة
سبز سجّادوں پہ بیٹھی بیبیو!!!
اب کسی ابجد سے زندان ستم کھلتے نہیں
اب سمیٹو مشک وعنبر،ڈھانپ دو لوح وقلم
اشک پونچھو اور ردائیں نوکِ پاتک کھینچ لو
کچی آنکھوں سے جنازے دیکھنا اچھا نہیں(آئینہ خانہ)
غزل۔۔۔۔۔
ھجراک حسن ھے،اس حسن میں رہنا اچھا
چشم بے خواب کو خونناب کا گہنا اچھا
کوئی تشبیہ کا خورشید نہ تلمیح کاچاند
سرقرطاس لگا حرف برہنہ اچھا
پاراترنے میں بھی اک صورت غرقابی ھے
کشتیء خواب رہِ موج پہ بہنا اچھا
یوں نشیمن نہیں ہرروز اٹھاۓ جاتے
اسی گلشن میں اسی ڈال پہ رہنا اچھا
بے دلی شرط وفا ٹھہری ھے معیارتودیکھ
میں برااورمرا رنج نہ سہنا اچھا
دھوپ اس حسن کی یک لحظہ میسر تو ہوئی
پھر نہ تاعمر لگا ساۓ میں رہنااچھا
دل جہاں بات کرے ،دل ہی جہاں بات سنے
کار دشوار ھے اس طرز میں کہنا اچھا
اور اب آخر میں ایک سلام بھی دیکھیں
مجلس شہ۴ میں نئی سطر معانی پڑھئے
سخن اس پر ہو تو کیوں نظم پرانی پڑھئے
وہی اک درس فنا اول وآخر موجود
چاہے سوبار تجھے عالم فانی،پڑھئے
کس کا اقرار سر نوک سناں شہ۴ نے کیا
بات کیا تھی جو تہِ تیغ نہ مانی پڑھئے
چہرہء احمدمرسل۴کو بہ تفصیل پڑھیں
اسی تفصیل میں اکبر۴ کی جوانی پڑھئے
صفحہء دشت پہ یاریت تھی یا پیاس تھی درج
کہیں پانی تھا تو کیسے اسے پانی پڑھئے
جمع میں کرتا ہوں جلتے ہوۓ خیموں کے حروف
آپ اس شام بیاباں کی کہانی پڑھئے
کہاں ترتیب میں اس طرح کے غم آتے ہیں
اشک عنواں کو یہاں مصرعء ثانی پڑھئےجہاں دریااترتاھے
سید رضامہدی باقری













