سچ یہی ہے کہ عوام کی خاموشی ہی حکمرانوں کو دلیر کرتی ہیں۔۔۔۔۔مگر یہاں عوام کسی نہ کسی سیاستدان کی شخصی محبت میں گرفتار ہیں اور اس قدر ڈوبے ھوئے ہیں کہ اپنا آپ بھی بھولائے بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔اپنے حقوق کے لئے آواز بھی نہیں اٹھاتے۔۔۔۔۔کسی کو منزل نہیں رہنما چاہئیے۔۔۔تو کسی کا بھٹو زندہ ہے تو کسی کا ماننا ہے کہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو ہے اور کوئی کسی کی شخصی محبت میں آنکھیں بند کر کے تبدیلی کے سنہرے خواب دیکھنے میں مگن ہیں لاکھ جھنجھوڑ لیں مجال ہے جو دماغ کی بتی جلے۔۔۔۔۔۔۔جب تک اس خود فریبی کے جال سے اپنے آپ کو ازاد نہیں کراتے ان سب کا کچھ نہیں ھونا۔۔۔۔۔۔۔ ایسے ایسے ان جوکوروں کے حق میں دلائل دیں گے جیسے گھر کا راشن پانی تو یہی ڈلواتے ھو۔۔۔۔۔۔۔۔
مجال ہے جو ان کے خلاف ایک لفظ سن لیں۔۔۔۔۔افسوس تو یہ ہے کہ لوگوں نے ان کے پچھے اپنی دوستیاں اور رشتہ داریاں تک چھوڑ دی ہیں۔۔۔۔۔۔مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں اب شادیاں بھی اپنی پارٹیوں کے حامی گھرانوں میں نہ کرنے کو رواج پڑ جائے۔۔۔۔۔۔ ۔پاکستان کی عوام کو اپنا یہ رویہ بدلنا ھو گا۔۔۔۔۔جو بھی منتخب ھو کر آتا ھے وہ عوام کی خدمت کے لئے آتا ہے اسے کام سے متعلق اور اپنی کارگردگی کے بارے میں جواب دینا پڑے گا۔۔۔۔۔۔لیکن یہاں عوام ایک دوسرے سے صرف اس لئے دست گریباں ہیں کہ ان کے لیڈر اور ان کی پارٹی کو کچھ نہ کہو۔۔۔۔چاہے وہ کام کریں یا نہ کریں۔۔۔۔۔۔
ایسا بیوقوفیانہ رویہ دنیا میں نہیں ملے گا۔۔۔۔۔۔بھئی آپس میں ایک دوسرے کو کیوں لعن طعن کر رہے ھو۔۔۔۔۔سارے ملک کی عام عوام پریشان ہے سب کے دکھ سانجھے ہیں سب ایک طرح کی تکلیف سے گزر رہیں ۔۔۔۔۔۔بہتر ہے اپنے بھائی کی آواز بنو ۔۔۔۔۔ اپنے حق سے پہلے دوسرے کے حق کی فکر کرو۔۔۔۔اس سے قطع نظر کہ کون پٹھان ہے کون پنجابی یا بلوچی، سندھی، مہاجر۔۔۔۔۔ سب پاکستانی ہیں ایک اللہ اور ایک رسول کو ماننے والے۔۔۔۔
۔جیتے جاگتے انسان ہیں ۔۔۔۔۔۔ہوش کے ناخن لیں ابھی وقت ہے۔۔۔۔۔۔سوچ کو بدلیں ۔۔۔۔۔۔۔تبھی یہ کارواں چلے گا۔۔۔۔۔
صبا ذاکر ۔ لندن













