شمالی افریقا کے اہم ملک مراکش میں گذشتہ روز سوشل میڈیا پر”مراکش میں برقع پر پابندی” سے متعلق افواہ کے بارے میں گرما گرم بحث شروع ہوئی جو بعد میں بڑھتے بڑھتے بنیادی حقوق کو لاحق خطرات جیسے سنجیدہ موضوع کے دائرے میں داخل ہو گئی۔
العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق خبر کے حق اور مخالفت میں دلائل دینے والوں نے لباس کے معاملے کو شخصی آزادی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ‘مراکش میں لباس کے کلچر پر منہ ماری کرنے والوں کو ملک سے نکال دیا جائے۔’
یاد رہے کہ مراکش کے بعض اخبارات میں ایک خبر شائع ہوئی تھی جس میں الدار البیضاء نامی شہر میں چند درزیوں نے ‘برقع’ کی سلائی اور فروخت بند کرنے کا عندیہ ظاہر کیا تھا۔ اس بات کو سوشل میڈیا پر مراکش کی اجتماعی ثقافت میں مداخلت قرار دیا جانے لگا۔ بعض مراکشی شہریوں کا کہنا تھا کہ پانچ ڈالر کا برقع خرید کر لوگوں نے چوری ہی کرنا ہوتی ہے، اس لئے ایسے لباس پناہ ہی بھلی۔
سوشل میڈیا بلاسٹ کے ذریعے متذکرہ ‘افواہ’ کو ملکی قانون کا درجہ دے کر دلائل کی آڑ میں ایسا طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا کہ الحفیط الامان ۔۔۔ تاہم اس سارے شور شرابے پر مراکش کی حکومت اور وزارت داخلہ نے مکمل چپ سادھ کر عوام کو باہم لڑنے کے لئے چھوڑ دیا

SHARE

LEAVE A REPLY