اللہ کے رسول کا کردار ہیں حسین۔10. شاہین رضوی۔ مختصر مرثیہ

0
1307

دسویں قسط

19

غازی پہ اب برسنے لگے ہر طرف سے تیر
زخموں سے چور چور سکینہ کا تھا سفیر
حملے کو بڑھ رہا تھا وہاں لشکر کثیر
گھوڑے سے پھر زمین پہ تھا وہ مہہِ مُنیر

اب کی نگہ جری نے تڑپ کر مدینہ پر
غازی یہ سوچ جھُک گئے مشکِ سکینہ پر

20

شاہین اب یہ سینہ زنی کا مقام ہے
اب سخت اضطراب میں میرا امام ہے
غم میں شریک روحِ رسولِ انام ہے
اب اسکے بعد صرف غریبوں کی شام ہے

وا حسرتا حسین ہیں بے آس ہو گئے
بازو کٹا کے نہر پہ عباس سو گئے

اختتام
طالب دعا
شاہین رضوی

SHARE

LEAVE A REPLY