دسویں قسط
19
غازی پہ اب برسنے لگے ہر طرف سے تیر
زخموں سے چور چور سکینہ کا تھا سفیر
حملے کو بڑھ رہا تھا وہاں لشکر کثیر
گھوڑے سے پھر زمین پہ تھا وہ مہہِ مُنیر
اب کی نگہ جری نے تڑپ کر مدینہ پر
غازی یہ سوچ جھُک گئے مشکِ سکینہ پر
20
شاہین اب یہ سینہ زنی کا مقام ہے
اب سخت اضطراب میں میرا امام ہے
غم میں شریک روحِ رسولِ انام ہے
اب اسکے بعد صرف غریبوں کی شام ہے
وا حسرتا حسین ہیں بے آس ہو گئے
بازو کٹا کے نہر پہ عباس سو گئے
اختتام
طالب دعا
شاہین رضوی













