نور ٓ سنسار سے گیا ہی نہیں

0
85

“‎زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں
اور کیا جُرم ہے پتہ ہی نہیں

اتنے حصّوں میں بٹ گیا ہوں میں
میرے حصّے میں کچھ بچا ہی نہیں

زندگی! موت تیری منزل ہے
دوسرا کوئ راستہ ہی نہیں

جس کے کارن فساد ہوتے ہیں
اُس کا کوئ آتا پتا ہی نہیں

زندگی اب بتا کہاں جائیں
زہر بازار میں ملا ہی نہیں

سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے
جھوٹ کی کوئ انتہا ہی نہیں

دھن کے ہاتھوں بکے ہیں سب قانون
اب کسی جُرم کی سزا ہی نہیں

چاہے سونے کے فریم میں جڑ دو
آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں

اپنی رچناؤں میں وہ زندہ ہے
نور ٓ سنسار سے گیا ہی نہیں

کرشن بہاری نور

SHARE

LEAVE A REPLY