تیرہویں قسط
جہاں کہیں
امام وقت کے قافلے کا رخ صحرائے عرب کی طرف ہو جاتا
حر بن یزید تمیمی
آپ کو روک دیتا اور رخ پھیر کر کوفے کی طرف کر دیتا
چلتے چلتے امام حسین علیہ السلام نینوا پہنچ گئے
یہ وہ زمین ہے
جو اب ”حسینیہ“ کے نام سے مشہور ہے
اس جگہ ”سفینہ“ نامی ایک گاؤں ہوا کرتا تھا
اور ۔۔۔یہیں پر
ایک قطعہ افتادہ اراضی کربلا کے نام سے موسوم ہے
جو اب موجودہ شہر کربلا کا مشرقی و جنوبی حصہ ہے
جب آپ ع معہ قافلے وہاں تک پہنچے
ابن زیاد کے ایک قاصد نے حر بن یزید تمیمی کو اس کا خط پہنچایا
جس میں حکم تھا
“ جونہی میرا یہ خط اور میرا قاصد تم تک پہنچے
حسین اور ان کے ساتھیوں کو وہیں روک لو
اور انہیں ایسی جگہ پر اترنے پر مجبور کرو
جو بالکل چٹیل میدان ہو
جہاں نہ کوئی سبزہ ہو
اور ۔۔ نہ پانی کا چشمہ ہو
میرا یہ قاصد
اس وقت تک تمہارے ساتھ ساتھ رہے گا
جب تک
مجھے یہ معلوم نہ ہو جائے
کہ ۔۔۔
جو حکم میں نے تمہیں دیا ہے
تم نے اس کی حرف بحرف تعمیل کی ہے “
حر بن یزید تمیمی نے تمام صورتِ حال سے
امام حسین علیہ السلام کو آگاہ کیا
اور ۔۔ کہا
’’ میں آپ کو اس جگہ نہ رہنے دوں گا
آپ کو اور آگے چلنا ہوگا “
بالآخر
دو محرم الحرام61 ھ بمطابق 2 اکتوبر 680ء کے دن
جب حر بن یزید تمیمی نے امام ع سے کہا
” آپ یہیں اتریں ۔۔ اور آگے نہیں جا سکتے
کیونکہ نہر فرات قریب ہے”
امام ع نے پوچھا
” اس جگہ کا نام کیا ہے؟”
حر اور اس کے ساتھیوں نے کہا
“ كربلا “
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا
“ یہ كَرْب (رنج) اور بَلا کا مقام ہے
میرے والد امیر المومنین علی علیہ السلام
صفین کی طرف جاتے ہوئے یہیں اترے تھے
میں ان کے ساتھ ہی تھا
انہوں اس مقام پر رک کر اس جگہ کا نام پوچھا تھا
تو ۔۔ لوگوں نے بتایا
یہ جگہ “ کربلا “ ہے
اس وقت امیر المومنین نے فرمایا تھا
“یہ سواریاں اترنے کا مقام ہے
اور ۔۔ ان کے خون بہنے کا مقام ہے”
لوگوں نے حقیقت حال کے بارے میں پوچھا
تو آپ امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا
“خاندان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک قافلہ یہاں اترے گا”
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا
“ یہ ہماری سواریاں اور ساز و سامان اتارنے کی جگہ ہے
اور یہ ہمارے خون بہنے کا مقام ہے “
اور اس کے بعدامام وقت نے حکم دیا
کہ سازوسامان یہیں اتار دیا جائے
اور ۔۔ پھر
یہ مختصر سا قافلہ کربلا کے میدان میں اتر گیا
جاری ہے













