قسط اٹھایئس
جناب مسلم بن عقیل نے
اہل کوفہ کے ان تمام حالات سے
امام حسین علیہ السلام کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا
اسی دوران
یزید نے اپنے مشیر سرجون نصرانی سے مشورہ کیا
اور اس کے مشورے پر
کوفہ اور بصرہ کی حکومت ابن زیاد کے سپرد کردی
ابن زیاد بھیس بدل کر
کوفہ میں داخل ہوا اور دارالعمارہ پہنچ کر اپنا تعارف کرایا
ابن زیاد ڈرا دھمکا کر اور لالچ دے کر
اہل کوفہ کو
جناب مسلم بن عقیل کی مدد سے روکنے میں کامیاب ہو گیا
جب ابنِ زیاد کو اس عالم شجاعت کے گھر جانے کا علم ہوا
تو
اس کے سازشی دماغ نے پھر ایک ترکیب سوچی اور حکم دیا
کہ
ایک گلی میں گڑھا کھود کر
اس پے کمزور لکڑیاں اور چٹائی بچھا کے مٹی بچھا دی جائے
اور مسلم کو لڑتے ہوئے اس گلی میں لے جایا جائے
ورنہ وہ شجیع کئی دن قابو میں نہیں آئیں گے
اور جب ایسا کیا گیا تو
لڑائی دیکھ کے تماشا دیکھنے کوفی بھی ان کے ساتھ آ گئے
تو اکیلے کا معرکہ باقاعدہ جنگ میں بدل گیا
زخموں سے چور
مسلم بن عقیل کو
زنجیروں میں باندھ کے ابن زیاد کے دربار میں لایا گیا
تاریخ لکھتی ہے
کہ
مسلم زخمی تھے
کئی کاری زخم تھے
دانت ٹوٹنے کی وجہ سے چہرا خون سے تر تھا
لیکن ۔۔ اپ ایک شیر کی طرح دربار میں داخل ہوئے
کسی نے کہا
کہ
ابن زیاد کو سلام کرو یہ امیرِ کوفہ ہے
مسلم بن عقیل نے بے خوفی سے کہا
کہ
” میرے امیر صرف حسین عیہ السلام ہیں”
اور سلام نہیں کیا
ابنِ زیاد نے پوچھا
کہ
مرنے سے پہلے کوئی وصیت؟
مسلم بن عقیل نے تین وصیتیں کیں
“پہلی وصیت
مجھ پے کچھ قرض ہے وہ میری تلوار اور زرہ بیچ کے ادا کر دیا جائے
دوسری وصیت
مجھے ایک عزت دار مسلمان کی طرح غسل و کفن اور دفن کیا جائے
تیسری وصیت
حسین ابن علی علیہ السلام کو یہ پیغام بھیج دیا جائے
کہ
وہ کوفہ نہ آئیں “
ابنِ زیاد نے صرف پہلی پوری کرنے کی حامی بھری
اور باقی دو رد کر دیں
اور حکم دیا
کہ
انہیں قصرِ عمارہ کی چھت پے لے جا کے سب کو دکھا کے قتل کیا جائے
معتبر روایات کے مطابق
مسلم بہت مطمئن اور اعتماد سے کھڑے رہے
اور پھر انہیں سیڑھیوں پے کھینچ کے
اوپر لے جاتے ہوئے بھی وہ خود جمے ہوئے قدموں کے ساتھ چھت پر پہنچے
اور با اوازِ بلند اللہ اکبر پڑھتے رہے۔
یہاں تک
کہ
آپ کو قتل کر کے
پہلے سر اور پھر دھڑ وہاں سے نیچے پھینک دیا گیا
مسلم اور ہانی کی لاشوں کو
کوفہ کی گلیوں میں پیر میں رسی باندھ کے
گھسیٹنے کا حکم بھی ابنِ زیاد کا تھا
یہ عرب روایت میں دشمن کی سب سے بڑی توہین ہے
اس حال پر بنو مزحج نے شدید لڑائی کے بعد
لاشیں چھین لیں اور ان کی باقاعدہ تدفین کی
لیکن 9 ذوالحجۃ 60ہجری کے دن
مسلم بن عقیل اور ہانی کے سر دمشق بھیج دیے گئے
یہ سب ابن زیاد نے اس لیئے کیا
تا کہ
اہل کوفہ بنو ہاشم کی حمایت نہ کریں
ابن زیاد نے بعد میں
مسلم بن عقیل کے دو بچوں کو بھی
بڑی سفاکی اور بے رحمی سے قتل کروا دیا
دوسری طرف
معلون یزید بن معاویہ نے
عمرو بن سعید بن عاص کو
ایک لشکر کے ساتھ حاجیوں کے لباس میں مکہ بھیجا
اور اسے حکم دیا
کہ
اگر امام حسین علیہ السلام
خانہ کعبہ کے پردوں میں بھی ہوں تب بھی انہیں قتل کردو
امام حسین علیہ السلام تک
جب یہ خبر پہنچی تو
آٹھ ذی الحجہ کو
آپ نے اپنے حج کو عمرہ میں تبدیل کیا اور احرامِ حج کھول دیئے
تاکہ
ان کے قتل سے
کعبہ اور ماہِ حج کی حرمت پامال نہ ہو
اور اس وقت
جناب مسلم بن عقیل کی طرف سے بھی
امام حسین علیہ السلام کو خط مل چکا تھا
جس میں لکھا ہوا تھا
کہ
“ کوفہ والے جان و مال کے ذریعے
فرزندِ بتول کی مدد و نصرت کے لیے تیار ہیں
اور اپنے ملک میں
حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی حکومت کی مثل
حکومت قائم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں “
پس
حضرت امام حسین علیہ السلام
اپنے اہل و عیال کے ساتھ مکہ سے کوفے کے لئے روانہ ہوئے
عبیداللہ بن زیاد کو
امام حسین(ع) کی کوفہ کی جانب روانگی کی خبر ہوئی
تو
اس نے اپنی کوتوالی کے سربراہ
حصین بن تمیم تمیمی کو چارہزار کا لشکر دے کر
“قادسیہ” روانہ کیا تا کہ “قادسیہ” سے “خفان” اور “قُطقُطانیّ” سےلعلع تک
کے علاقوں کی کڑی نگرانی کرے
تا کہ
ان علاقوں سے آمد و رفت کرنے والے افراد کی نقل و حرکت سے آگاہی ہو سکے
حر بن یزید ریاحی کا ایک ہزار کا لشکر بھی حصین کے لشکر کا حصہ تھا
جو قافلۂ حسینی کا راستہ روکنے کے لئے بھجوایا گیا تھا
ابو مِخنَف نے
اس سفر میں
امام حسین(ع) کے قافلے میں شامل دو اسدی افراد سے نقل کیا ہے
کہ
“جب قافلۂ حسینی “شراف” کی منزل سے روانہ ہوا
تو دن کے وسط میں دشمن کے لشکر کے ہراول دستے
اور ان کے گھوڑوں کی گردنیں نظر آنا شروع ہو گئیں
“۔ “پس امام(ع) نے
“ذو حُسَم” کا رخ کیا
حر بن یزید اور اس کے سپاہی ظہر کے وقت
امام حسین(ع) اور آپ کے اصحاب کے آمنے سامنے آگئے
امام(ع) نے
اپنے اصحاب کو حکم دیا
کہ
حر اور اس کے سپاہیوں کو اور گھوڑوں کو پانی پلائیں
چنانچہ انھوں نے
نہ صرف دشمن کے لشکر کو سیراب کیا
بلکہ ان کے گھوڑوں کی پیاس بھی بجھا ئی
اسی دن
عصر کے وقت
امام حسین(ع) نے اپنے اصحاب سے فرمایا
جاری ہے













