ہر ذی روح کے احساس کا پنچھی میدان تخیّل میں اڑان بھر کر آتا ہے تو اپنے ساتھ ان گنت انوکھے منظر نامے لاتا ہے لیکن اگر یہ پنچھی کسی صاحب ذوق سلیم سے وابستہ ہو تو وہ میدان تخیّل کے نشیب و فراز کی اتنی خوبی و مہارت سے منظر کشی کرتا ہے کہ پڑھنے اور سننے والے یہ محسوس کرتے ہیں کہ گویا ان کے اپنے احساسات و جذبات کی ترجمانی کی گئی ہے البتہ یہ ہنر خال خال ہی نظر آتا
ہے
یہاں برطانیہ کہ دارلحکومت لندن میں مقیم محترم جناب سلیم فگار صاحب کے کلام کو پڑھنے اور سننے کا موقع ملا تو ان کی قدرت کلام اور نیرنگیء اسلوب کا اعتراف کرنا پڑا وہ بات کو ایک نئے ڈھب اور نئے زاویے سے کہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور خوبی یہ ہے کہ اس کے لئے وہ کوئی دور دراز کے استعارے اور تشبیہیں استعمال نہیں کرتے بلکہ بظاہر عام سے الفاظ کو اتنی معنی خیزی سے استعمال کرتے ہیں کہ سننے اور پڑھنے والے محظوظ ہوےء بنا نہیں رہتے۔
ستارہ سی کوئی شام سلیم فگار کا پہلا شعری مجموعہ ہے جسے انھوں نے سالہاسال صحراےء ادب کی خاک چھاننے کے بعد بڑی محنت اور محبت سے جمع کیا ہے اسی لیئے یہ ان کا پہلا شعری مجموعہ ہونے کے با وجود کسی نو آموزشاعر کا کلام معلوم نہیں ہوتا اور اس لئے بھی کہ سلیم فگار ۰کاتا اور لے دوڑی ۰کی بجائے خود اپنے کلام کے سب سے بڑے ناقد ہیں اور وہ اپنا پختہ اور بہترین کلام ہی شائع کروانا چاہتے تھے یہ ایک ایسی روش ہے جو اب عام نہیں رہی اور بہت سے شعراء خواتین و حضرات یوں تو کئی کئی کتب شائع کروا لیتے ہیں لیکن ان میں پڑھنے کے قابل کلام بہت ہی کم ہوتا ہے۔
سلیم فگار کی ندرت فکر ان کی شاعری کا ایک نمایاں پہلو ہے اوراسی
لئے آوازوں کے ہجوم میں ان کی شعری آواز بہت الگ اور نمایاں سنائی دیتی ہے
ذرا ان اشعار میں نیرنگیء فکر ملاحظہ کیجئے
کہیں آنکھیں ، کہیں بازو ، کہیں سے سر نکل آئے
اندھیرا پھیلتے ہی ہر طرف سے ڈر نکل آئے
یہ لگتا ہے کہ پتّوں پر رکھی تھیں منتظر آنکھیں
مرے آتے ہی کتنے پھول شاخوں پر نکل آئے
ایک شاعر کی خوبی یہی ہے کہ وہ اپنے ارد گرد بکھرے موضوعات کو شعری پابندیوں کا جامہ پہنا کر خوشنما بنا دیتا ہے اور بعض اوقات
جو بیان یا خیال اپنے اظہار کے لیئے الفاظ کے بے شمار دفاتر کا محتاج ہوتا ہے ایک قادرالکلام شاعر اسے بہت خوبصورتی سے ایک شعر میں سمیٹ لیتا ہے۔ سلیم فگار کہتے ہیں
تجھ کو دیکھا تو کئی اسم کُھلے ہیں مجھ پر
اب مری آنکھ سے حیرت نہیں جانے والی
ہائے میں رو نہ سکا جس گھڑی رونا تھا مجھے
بے بسی کی یہ اذّیت نہیں جانے والی
سلیم فگار کا دوسرا شعری مجموعہ” تغیّر” ہے جس کو پڑھ کر قاری کو اطمینان ہوتا ہے کہ ان کا شعری و فکری سفر بڑی خوبی کے ساتھ ارتقاء کی منازل طے کر رہا ہے۔
ان کے کلام میں موجود استعارے ان کی بیدار فکر کی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں اور صاف ظاہر ہے کہ وہ کوچہ ء شعر میں فقط الفاظ کے تانے بانے لے کر حاضر نہیں ہوئے بلکہ ان کے کلام کا ایک ایک لفظ ان کے ذوق سلیم کے روشن چراغ اپنے اندر سموئے ہوئے شعر در شعر روشنی بکھیرتا نظر آتا ہے۔ وہ کہتے ہیں
نہ جانے رات نے کیا اسم مجھ پہ پھونکا ہے
ہزاروں چاند مرے پاس چل کے آئے ہیں
تھکن اتار رہے ہیں ہزار صدیوں کی
ہم اپنے جسم سے باہر ٹہل کے آئے ہیں
سلیم فگار کے اشعار اپنی تمامتر سادگی کے ساتھ ساتھ اپنے اندر کچھ ایسی برجستگی رکھتے ہیں کہ گویا دامن دل تھام لیتے ہیں
ذرا دیکھئے
اے دست غنا کیسہء معیار میں کچھ ہے
کیا میرے لئے وقت کے بازار میں کچھ ہے
ہر اینٹ کے اندر سے کوئی جھانک رہا ہے
اس شہر پر اسرار کی دیوار میں کچھ ہے
جنگل میں پلٹ آتے ہیں کیوں شام کو طائر
گھر کھینچتا ہے یا گھنے اشجار میں کچھ ہے
لفظوں کے دروبست سے آگے ہے کوئی بات
اس یار طرحدار کی گفتار میں کچھ ہے
سلیم فگار کی غزلیں جہاں اپنے اندر نغمگی و روانی رکھتی ہیں وہیں انکی نظمیں بھی مایوس نہیں کرتیں بلکہ اس زیرک اور حساس شاعر کے تخیّل کو پرت در پرت کھول کر پیش کرتی ہیں جہاں انکی نظم
“بنت حوا” پڑھنے والوں کی فکر کے دریچے ایک نئے انداز سے وا کرتی نظر آتی ہے وہیں
ان کی نظم ” محبّت ہے جبھی تو”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنی بھرپور اور شاندار نظم ہے کہ قاری اور سامع پر سرشاری کی ایک عجیب کیفیت طاری ہو جاتی ہے
ارباب ادب کو سلیم سے بہت سی امیدیں ہیں کہ وہ اپنے شعری و فکری ذوق سے گلشن ادب کی تا عمر آبیاری کرتے رہیں گے اور اس
چمنستان میں نت نئے پھول کھلائیں گے۔
ابھی تو ان کے تخیَل کا سفر جاری ہے
خود ان کے الفاظ میں
میں کائنات سے مصروف گفتگو ہوں ابھی
فلک سے آج بھی میرا سوال جاری ہے













