کسی فاسٹ باؤلر کی طرف سے 600 وکٹیں لینے کا بڑا کارنامہ اگر ایک طرف رکھ بھی دیں تو 156 ٹیسٹ میچ کھیلنا کتنا معنی رکھتا ہے، یہ وہی جان سکتا ہے جس نے کبھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلی ہو۔

17 سال تک فٹ رہنا اور کھیلتے رہنا آپ سے، آپ کے جسم سے اور آپ کے خاندان سے کتنی قربانیاں مانگتا ہے اس کا میں اور آپ صرف اندازہ ہی لگا سکتے ہیں۔ اگر جیمز اینڈرسن کی پھینکی ہوئی گیندوں کا حساب ہی لگایا جائے تو اینڈرسن نے صرف ٹیسٹ کرکٹ میں 33 ہزار 717 گیندیں پھینکی ہیں جو ظاہر ہے فاسٹ باؤلرز کے لیے ایک ریکارڈ ہے۔

جیمز اینڈرسن کا رن اپ 22 سے 24 قدموں کا ہے اور اگر مزید 5 یا 7 قدم پچ پر بھاگنے کے گن لیے جائیں تو ہر گیند کے لیے تقریباً 30 میٹر دوڑنا پڑتا ہے۔ ہلکا سا حساب کریں تو یہ 1000 کلومیٹر بن جاتے ہیں اور پھر واپس رن اپ کے آغاز تک جانے کے 1000 کلومیٹر اس کے علاوہ ہیں اور یہ صرف جیمز اینڈرسن کی پھینکی ہوئی ٹیسٹ گیندوں کے درمیان کا سفر ہے۔

بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ شاید اینڈرسن اس ٹیسٹ میں 600 وکٹیں مکمل کرکے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیں، لیکن فاسٹ باؤلر کے ارادے کچھ اور ہیں اور وہ مزید کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں، اور معاملہ صرف ان کا نہیں بلکہ ان کے کپتان جوئے روٹ، کوچ، سلیکٹرز اور بورڈ سبھی چاہتے ہیں کہ وہ مزید کھیلیں، اور اس کارکردگی کو دیکھنے کے بعد وہ بھلا ایسا کیوں نہیں چاہیں گے؟مان لیا کہ اینڈرسن 38 سال کے ہوگئے ہیں اور ان کے اگلے ٹارگٹ یعنی ایشز کے آغاز سے قبل ہی وہ 39 بہاریں دیکھ لیں گے لیکن یہاں اہمیت ان کی عمر کی نہیں بلکہ فٹنس کی ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ وہ اب تک فٹ بھی ہیں اور وکٹیں بھی لے رہے ہیں۔

اینڈرسن نے پاکستان کے خلاف حالیہ سیریز میں 11 وکٹیں لی ہیں اور تینوں پاکستانی پیسرز نے مل کر 13 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ 30 سال کی عمر کے بعد اینڈرسن 332 وکٹیں حاصل کرچکے تھے جو ویسٹ انڈیز کے کورٹنی واش کی 341 وکٹوں کے بعد کسی بھی فاسٹ باؤلر کی 30 سال کی عمر کے بعد حاصل کی گئی سب سے زیادہ وکٹیں ہیں۔

جیمز انڈریسن کے ریٹائر نہ ہونے اور مزید کھیلنے کی حمایت میں ایک اور بات جمی کی بڑھتی عمر کے ساتھ بہتر ہوتی کارکردگی ہے۔ بہت سال پہلے کہیں پڑھا تھا کہ شراب جتنی پرانی ہو اتنی ہی بہتر ہوتی جاتی ہے۔ کرکٹ کے میدانوں پر اینڈرسن سے بہتر اس کی کوئی مثال نہیں۔ 2009ء تک 35 کی اوسط سے باؤلنگ کرنے والے اینڈرسن اگلے 4 سال میں 27 اور 2014ء کے بعد 22 سے کم کی اوسط سے وکٹیں حاصل کررہے ہیں۔ 2014ء کے بعد سے ٹیسٹ کرکٹ میں 100 سے زائد وکٹیں حاصل کرنے والے تمام باؤلرز میں سب سے بہتر اوسط اینڈرسن کی ہی ہے۔ اوسط کے ساتھ ہی اسٹرائیک ریٹ اور فی میچ وکٹوں کی تعداد بھی بہتری کی جانب گامزن ہے۔

اس کارکردگی میں بہتری کی بڑی وجہ بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والوں کے خلاف پہلے سے بہتر باؤلنگ بھی ہے۔ شروعات میں اینڈرسن کو اس حوالے سے کافی مشکلات پیش آئیں لیکن اب لیفٹ ہینڈرز کے خلاف ریکارڈ بہت بہتر ہوگیا ہے جس کا ثبوت شان مسعود اور لاہیرو تھریمانے کے خلاف ان کا حالیہ ریکارڈ ہے۔

اینڈرسن کے ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو ان کی زیادہ تر وکٹیں انگلینڈ کے میدانوں پر ہیں کیونکہ وہاں انہوں نے زیادہ میچ کھیلے ہیں۔ پچھلے کئی سالوں سے بیرونِ ملک دوروں پر انگلش بورڈ اینڈرسن کو کم اور نوجوان فاسٹ باؤلرز کو زیادہ استعمال کر رہا ہے۔ پھر اینڈرسن نے صرف انگلینڈ میں زیادہ وکٹیں ہی حاصل نہیں کیں بلکہ باؤلنگ اوسط بھی انگلینڈ میں بہترین ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ باقی ملکوں میں ان کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ ماسوائے سری لنکا، جمی کی کارکردگی تمام ممالک میں بہتر رہی ہے۔ سب سے حیرت انگیز کارکردگی اینڈرسن کی متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے خلاف رہی جہاں انہوں نے انگلینڈ سے بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

تو مسلسل فٹ رہنے اور اچھی کارکردگی دکھانے کا نتیجہ 600 وکٹوں کی صورت نکلا ہے، یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جو اس سے پہلے کوئی بھی فاسٹ باؤلر انجام نہیں دے سکا۔ جب 700 وکٹوں سے متعلق اینڈرسن سے پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا ’کیوں نہیں‘۔

SHARE

LEAVE A REPLY