ریڈیو پاکستان ملتان کی توجہ درکار ہے۔ طارق اقبال

0
1118

اکیس نومبر 1970ء کو ریڈیو ملتان کی نشریات شروع ہوئیں ۔ چھاؤنی کی عید گاہ کے سامنے جو وسیع و عریض گراؤنڈ ایک عرصے سے ویران تھا اور جو قیامِ پاکستان سے قبل دسہرہ گراؤنڈ کے نام سے جانا جاتا تھا کہ یہاں ہندوؤں کا مذہبی اجتماع منعقد ہوا کرتا تھا اور اس موقع پر ایک بڑا میلہ منعقد ہوتا تھا وہی گراؤنڈ سرائیکی علاقے کے ایک بڑے ثقافتی مرکز میں تبدیل ہو گیا۔ اس علاقے کے ادیبوں، شاعروں ، گلوکاروں ، موسیقاروں کا دیرینہ خواب پورا ہوگیا ۔ ایک ایسا خواب جو وہ برسوں سے دیکھ رہے تھے۔ وہ جن کی کوئی آواز ہی نہیں تھی انہیں آواز مل گئی

ریڈیو پاکستان ملتان کے سٹوڈیوز کی تزئین و آرائش کا کام ایک کروڑ تنتالیس لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل
– آج میڈیم ویوز 1035 کے ساتھ ساتھ ایف ایم 103 ، ایف ایم 93 ، ایف ایم صوت القرآن 93.4 یعنی چار اسٹیشن کام کر رہے ہیں
ریڈیو پاکستان ملتان کا قیام انقلاب تھا ، ریڈیو پاکستان ملتان نے قومی اور عالمی سطح پر وسیب کے شاعروں کو متعارف کرایا ۔ ادیبوں شاعروں اور دانشوروں کی آواز بنا ۔ریڈیو سے وابستہ بہت سے لوگوں کو روزگار حاصل تھا مگر ریڈیو پاکستان ملتان میں ایک عرصے سے شعبہ موسیقی بند ہے ، ادبی پروگرام دھکے سے چلایا جا رہا ہے۔ مشاعرہ ، ڈرامہ وغیرہ آج بھی بند ہے-
وسیب کے ادیبوں شاعروں اور دانشوروں کے مطالبے پر 21 نومبر 1970 ء کو ریڈیو پاکستان ملتان کا آغاز ہوا ۔ اس وقت کے وزیرِ اطلاعات و نشریات نوابزادہ شیر علی خان نے ریڈیو پاکستان ملتان کا ایک سادہ مگر پُر وقار تقریب میں افتتاح کیا۔اس موقع پر سٹیشن کے پہلے ڈائریکٹر شمس الدین بٹ اور ریٖڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل مفیض الرحمٰن بھی موجود تھے ۔ فیصلہ کیا گیا کہ ریڈیو ملتان سے جو پہلی آواز نشر ہو اس میں مشرقی پاکستان کے مصیبت زدگان کے لئے ہمدردی اور دلجوئی کے جذبات کا اظہار ہونا چاہئے ۔سو ریڈیو ملتان ملک کا پہلا ریڈیو سٹیشن قرار پایا جس کا آغاز ہی تعزیتی پیغام سے ہوا۔اور شاید ایسا اس لئے بھی ہوا کہ اس سٹیشن نے بعد ازاں اس خطے کے دکھوں کو بھی اجاگر کرنا تھا ۔ ان لاکھوں افراد کو حوصلہ دینا تھا اور ان کی دلجوئی کرنا تھی جو صدیوں سے محرومیوں کا شکار تھے ۔
ریڈیو کی پالیسی کے مطابق پروگراموں کی شرح 60 فیصد مقامی زبان میں اور 40 فیصد قومی زبان میں ۔ سرائیکی پروگرام کی نشریات سے وسیب میں انقلاب آ گیا ۔ پہلے ہم لسنر تھے ، دور سے ریڈیو کی آواز سنتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حالت جنگ یا حالت امن میں ریڈیو کی خدمات دیگر ذرائع ابلاغ سے بہت زیادہ ہیں ۔ سرائیکی خطہ دریاؤں کی سرزمین ہے ۔ سیلاب اور وسیب کا ایک دوسرے سے چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ سیلاب کے دوران جب آبادیاں صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں ، لوگ بے گھر اور بے سروساماں ہو کر دور دراز ٹیلوں پر پہنچتے ہیں تو وہاں نہ اخبار ہوتا ہے اور نہ ٹیلی ویژن ۔ وہاں ایک ہی ذریعہ ہوتا ہے ، وہ ہے ریڈیو ۔ آج تو سوشل میڈیا کے ذریعے کچھ سہولت ہوئی ہے ورنہ آج سے ایک دو عشرے پہلے یہی کیفیت تھی ۔ آج ریڈیو پاکستان کی ابتر پوزیشن ہے ۔ریڈیو ملتان آنے جانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ بہت سی چیزوں کی جانکاری ملتی ہے ۔70 ء کے عشرے میں ریڈیو پاکستان ملتان میڈیم ویوز 1035 ایک اسٹیشن تھا اور جملہ سٹاف کی تعداد تقریباً 200 تھی ۔ جبکہ آج میڈیم ویوز 1035 کے ساتھ ساتھ ایف ایم 103 ، ایف ایم 93 ، ایف ایم صوت القرآن 93.4 یعنی چار اسٹیشن کام کر رہے ہیں اور سٹاف کی تعداد 45 ہے ۔
ریڈیو کے چار بنیادی شعبے ہیں ۔ جن میں پروگرامز ، انجینئرنگ ، نیوز سیکشن اور ایڈمن سیکشن شامل ہے ۔ حالت یہ ہے کہ چاروں شعبوں میں سٹاف نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ریڈیو پاکستان ملتان کے تین اسٹیشن علیحدہ علیحدہ مقامی طور پر پروگرام پروڈیوس اور نشر کرتے ہیں ۔ ریڈیو پاکستان کا صدر دفتر اسلام آباد میں ہے ، تمام کام صدر دفتر کی ہدایات کے مطابق سر انجام دیئے جاتے ہیں ۔ صدر دفتر نے ریڈیو پاکستان ملتان میں 30 ملازم کنٹریکٹ پر رکھے ہیں مگر ان کا علیحدہ سے بجٹ نہیں دیا ۔ ان کو تنخواہیں پروگراموں کے بجٹ سے کاٹ کر دی جاتی ہیں ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ہر ماہ ریڈیو اسٹیشن ملتان کو پروگراموںکے لئے 15 لاکھ کی ضرورت ہے جبکہ جو رقم بھیجی جا رہی ہے ، وہ 5 لاکھ 70 ہزار ہے ۔ اس رقم سے نہ تو کنٹریکٹ ملازمین کا خرچ پورا ہوتا ہے اور نہ آرٹسٹوں کو پیمنٹ ہو سکتی ہے۔ غریب آرٹسٹ دور دراز سے کرایہ بھر کر آتے ہیں مگر کئی کئی سال گزر جانے کے باوجود ان کو چیک نہیں ملتے ۔

 ریڈیو پاکستان کا قیام آرٹسٹوں کے فن کو اجاگر کرنے ، ان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور ایک شہری کی حیثیت سے ان کا اعتماد بحال کرنے کیلئے لایا گیا تھا ۔ مگر آج آرٹسٹوں کی حالت یہ ہے کہ ان کے چولہے ٹھنڈے ہو چکے ہیں ، جوان بچوں کے سروں چاندی آ گئی ہے ۔ بیٹے بے روزگار ہیں ، گھروں میں عسرت اور بیماری کے سوا کچھ نہیں ۔ کیا اسی کا نام تبدیلی ہے ؟ اس ملک میں آرٹ کو کیا فروغ ملے گا جہاں آرٹسٹ مر رہے ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ سرائیکی وسیب کے لوگ ہر معاملے میں محرومی کی دہائی دیتے ہیں جبکہ اگر ہم تقابلی جائزے کی بات کریں تو یہ حقیقت ہے کہ ریڈیو پاکستان لاہور جس کی نشریات کا دورانیہ ریڈیو پاکستان ملتان کے برابر ہے ، اس کو ماہانہ صرف پروگرام کی مد میں 20 لاکھ دیا جاتا ہے ، جبکہ اس کے ایف ایم ریڈیو 101 اور دوسرے یونٹس کو علیحدہ سے فنڈز مہیا کئے جاتے ہیں ، ریڈیو پاکستان ملتان کے سٹاف کا کہنا ہے کہ ہمیں سال ہا سال سے نہ تو کوئی میڈیکل کی سہولت ملی ہے اور نہ ہی سفری الاؤنس جبکہ لاہور اور اسلام آباد میں سہولتوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے دور دراز دیہاتوں میں جا کر ہم پروگرام پروڈیوس کرتے تھے ، ریڈیو کے پاس فنڈز تھے ، اب ریڈیو ملتان کے پاس تین گاڑیاں ہیں مگر تینوں کھٹارہ اور فیول کی مد میں کوئی پیسہ نہیں ۔ ریڈیو پاکستان ملتان کے پنشنرز کی بھی حالت بہت ابتر ہے ۔ ۔پہلے حکومت تخت لہور کی تھی مگرآج مرکز اور صوبے کا اقتدار وسیب کے پاس ہے ، مگر سرائیکی وسیب کے اسٹیشنوں میانوالی ، بہاولپور ،ڈیرہ اسماعیل خان، سرگودھا اور ملتان وغیرہ پر کوئی توجہ نہیں ہے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ گزشتہ دورِ حکومت میں ریڈیو پاکستان ڈیرہ اسماعیل خان کو اپ گریڈ کیا گیا اور ریڈیو پاکستان ملتان میں بھی نئی مشینری لانچ کی گئی مگر فنڈز کی عدم دستیابی سے یہ سب کچھ ناکارہ ثابت ہو رہا ہے۔ یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ حکمران ریڈیو پاکستان ملتان کے مسئلے حل کرنے کی بجائے مسائل میں اضافہ کر رہے ہیں ۔ پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کا اپنا ایک ضابطہ ہے ، اسی ضابطے کے تحت پورے ملک میں پروگرام کے اوقات ترتیب دیئے ہوئے ہیں ، اس ضابطے کے تحت ہر اسٹیشن 60 فیصد مقامی اور 40 فیصد قومی زبان میں پروگرام نشر کرتا ہے ۔ ضابطے کے مطابق ریڈیو پاکستان ملتان سرائیکی اور اردو میں پروگرام نشر کر رہا ہے ، خلاف ضابطہ بلوچی سروس شروع کرائی گئی اور اس کا الگ سے کوئی فنڈ بھی مہیا نہیں کیا گیا ۔ اب حالت یہ ہے کہ ریڈیو پاکستان ملتان کی مقامی انتظامیہ سخت پریشان ہے کہ پہلے سے موجود کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہیں نہیں ہیں ۔ اوپر سے نئی بلوچی سروس آ گئی اور اس کی حالت یہ ہے کہ ملتان میں نہ تو بلوچی پروگرام کرنے والے ملتے ہیں اور نہ ہی ریڈیو میں کوئی بلوچی جاننے والا ایکسپرٹ موجود ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے لئے عذاب ہے کہ ہم ایک آدھ طالب علم یونیورسٹی سے پکڑ کر لے آتے ہیں ، ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کیا بول رہا ہے ؟ دعا دے رہا ہے یا بد دعا ؟ پاکستان کے حق میں بات کر رہاہے یا پاکستان کے خلاف ؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ فنڈز مہیا کئے جائیں اور خلاف ضابطہ بلوچی سروس ختم کی جائے ۔

طارق اقبال

SHARE

LEAVE A REPLY