کرکٹ کی تاریخ ,نظر کمزور عینک لگا کر کھیلتے

0
1046

کرکٹ کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو ایسے کرکٹرز بھی ملتے ہیں جو ایک آنکھ سے محروم تھے لیکن ایسے کرکٹرز بھی تھے جن کی نظر کمزور تھی اور وہ ایک عینک لگا کر کھیلتے تھے۔

انہوں نے نظر کی کمزوری کو اپنے کھیل پر حاوی نہیں ہونے دیا اور بہترین کھیل پیش کیا۔ بعض کرکٹرز نے شروع میں عینک کا استعمال شروع کیا۔

ہم ذیل میں ان مشہور کرکٹرز کے بارے میں اپنے قارئین کو بتاتے ہیں جنہوں نے عینک لگا کر کرکٹ کھیلی اور اس کھیل میں نام پیدا کیا۔

پال ایلٹ

انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے سابق کرکٹر پال ایلٹ نے 14 ستمبر کو اپنی سالگرہ منائی۔ آجکل وہ ایک مشہور ٹی وی چینل کیلئے تبصرہ نگاری کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں لیکن جب وہ کھیلتے تھے تو ان کا شمار ان چند کرکٹرز میں ہوتا تھا جو باقاعدگی سے عینک کا استعمال کرتے تھے۔ انہوں نے انگلینڈ کی طرف سے کھیلنے کیلئے بڑی جدوجہد کی۔ انہیں اس حقیقت کا ادراک تھا کہ عینک کے ساتھ کھیلنے والے کئی اعلیٰ درجے کے کرکٹرز بین الاقوامی کرکٹ کھیل چکے ہیں۔

نریندر ہروانی

یہ بھارت کے وہ باؤلر تھے جو سر پرپٹی اور آنکھوں پر عینک لگا کر کھیلتے تھے۔ انہوں نے 19 سال کی عمر میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا اور کیا خوب کھیلا۔ انہوں نے چنائی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 16 وکٹیں حاصل کیں۔ ہروانی بڑے اچھے باؤلر تھے۔ انہوں نے 21 سال تک فسٹ کلاس کرکٹ کھیلی اور 732 وکتیں اپنے نام کیں۔

ایم جے کے سمتھ

انگلینڈ کے یہ مشہور کھلاڑی 60ء کی دہائی میں اپنے عروج پر تھے۔ انہوں نے انگلینڈ کی طرف سے 25 ٹیسٹ میچوں میں کپتانی کے فرائض سر انجام دیئے۔ سمتھ نے فسٹ کلاس کرکٹ میں 40000 رنز اور 69 سنچریاں بنائیں۔

اگرچہ انگلینڈ کی طرف سے کھیلتے ہوئے انہوں نے 31.63 رنز کی اوسط سے رنز بنائے۔ انہوں نے 5 جون 1958 کو نیوزی لینڈ کیخلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔ انہوں نے 50 ٹیسٹ میچوں میں 31.6 رنز کی اوسط سے 2278 رنز بنائے۔ جن میں تین سنچریاں اور 11 نصف سنچریاں شامل ہیں۔

انہوں نے اپنا آخری ٹیسٹ آسٹریلیا کیخلاف 1972 میں کھیلا۔ سمتھ نے 1951 سے لیکر 1975 تک فسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔ انہوں نے کئی ٹیسٹ اور ون ڈے میچز میں آئی سی سی ریفری کے فرائض بھی سر انجام دیئے۔

انہیں “MJK” کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے والے سمتھ کو بہترین کاؤنٹی بیسٹمین قرار دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بڑے صاف گو اور بے غرض کپتان تھے۔ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کے سبھی معترف تھے۔

یہ بھی اپنی جگہ بڑی حیران کن بات ہے کہ انہوں نے 50 ٹیسٹ میچز کھیلے اور ان میں سے 25 ٹیسٹ میچز میں کپتانی کے فرائض سر انجام دیئے۔ ان کے بیٹے نیل مائیک سمتھ نے انگلینڈ کی طرف سے چند ایک روزہ میچز کھیلے اور وارک شائر کاؤنٹی کی کپتانی بھی کرتے رہے۔ جے کے سمتھ حیات ہیں اور 87 برس کے ہو چکے ہیں۔

ڈیوڈ سیٹل

انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیوڈ سیٹل بڑے بہادر اور جرات مند کھلاڑی تھے۔ عینک لگا کر کھیلنے والے اس کھلاڑی نے 1975 کی ایشنر سیریز میں اپنے پہلے میچ میں اس وقت کے خطرناک فاسٹ باؤلرز ڈینس للی اور جیف تھامسن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

اس وجہ سے ڈیوڈ سیٹل کو انگلش کرکٹ کی تاریخ میں اہم مقام حاصل ہے۔ اگرچہ ڈیوڈ نے صرف آٹھ ٹیسٹ میچز کھیلے لیکن جرأت مندانہ کھیل کی وجہ سے وہ قومی ہیرو بن گئے اور انہوں نے ’’بی بی سی سپورٹس مین آف دی ایئر‘‘ کا ایوارڈ بھی اپنے نام کیا۔

ڈیوڈ سیٹل نے آٹھ ٹیسٹ میچوں میں 42-1 رنز کی اوسط سے 673 رنز بنائے۔ ان میں ایک سنچری اور پانچ نصف سنچریاں شامل تھیں۔ انہوں نے صرف ایک روز میچ کھیلا اور آٹھ رنز بنائے۔ انہوں نے 1976 میں اپنا آخری ٹیسٹ ویسٹ انڈیز کیخلاف کھیلا۔ انہوں نے کئی سالوں تک کاؤنٹی کرکٹ بھی کھیلی۔ ڈیوڈ سیٹل نے 19-50 رنز کی اوسط سے دو وکٹیں بھی حاصل کیں۔

مڈل آرڈرڈ بلے باز ڈیوڈ سیٹل نے اپنے آٹھ ٹیسٹ میچز میں اس دور کے برق رفتار باؤلرز کا مقابلہ کیا جن میں ڈینس للی، جیف تھامسن‘ اینڈی رابرٹس‘ مائیکل ہولڈنگ‘ وائن ڈینئل اور وینبرن ہولڈر شامل ہیں۔ 1979 میں انہیں ڈربی شائر کاؤنٹی کا کپتان بنا دیا گیا لیکن چھ ہفتوں کے بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔

ٹرینٹ برج میں انہوں نے ویسٹ انڈیز کیخلاف سنچری بنائی لیکن اس کے بعد انہیں بھارت کے دورے کیلئے نظرانداز کر دیا گیا اور اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ وہ سپن باؤلرز کو نہیں کھیل سکتے۔

اس کے بعد وہ دوبارہ کاؤنٹی کرکٹ کی طرف آگئے اور 1984 میں ان کا کاؤنٹی کیریئر بھی ختم ہوگیا۔ انہوں نے 22000 رنز بنائے۔ انہیں 1976 میں ’’وزڈن کرکٹر آف دی ایر‘‘ بھی قرار دیا گیا۔ ڈیوڈ سیٹل زندگی کی 78 بہاریں دیکھ چکے ہیں۔

دلیپ دوشی

بھارت سے تعلق رکھنے والے دلیپ دوشی ایک عمدہ لیگ سپن باؤلر تھے۔ انہوں نے 30 برس کی عمر میں انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز کیا۔ انہوں نے پانچ سال تک کرکٹ کھیلی اور 100 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے 33 ٹیسٹ میچز اور 15 ایک روزہ میچز کھیلے۔ انہوں نے پہلا ٹیسٹ میچ آسٹریلیا کے خلاف کھیلا۔ اس سیریز کے بعد انہوں نے ٹیم میں اپنی جگہ مستحکم کرلی لیکن اس کے بعد آہستہ آہستہ ان کی باؤلنگ میں وہ کاٹ نظر نہ آئی۔

اگرچہ وہ مستقل مزاجی سے درست لائن اینڈ لینتھ پر باؤلنگ کرتے تھے۔ وہ بھارت کیلئے ایسی باؤلنگ نہ کرا سکے جس سے ان کی ٹیم فتح سے ہمکنار ہوئی ہو۔ ان کے حوالے سے ایک مشہور واقعہ ہے۔ 1982-83 میں جب بھارت کی ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تو دلیپ دوشی بھی اس ٹیم کا حصہ تھے۔

ایک ٹیسٹ میچ میں جاوید میاں داد بلے بازی کے دوران بار بار ان سے پوچھتے تھے ’’بول تیرا روم نمبر کیا ہے‘‘ دلیپ دوشی کو سمجھ نہ آئی کہ آخر اس کا مطلب کیا ہے؟۔ بعد میں پتہ چلا کہ جاوید میاں داد یہ جاننا چاہتے تھے کہ دلیپ دوشتی کے ہوٹل کا کمرہ نمبر کیا ہے تاکہ وہ شاٹ مار کر گیند وہاں پہنچا سکیں۔

سنیل گواسکر اکثر یہ واقعہ سناتے ہیں اور سننے والوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہو جاتا ہے۔ دلیپ دوشی نے ٹیسٹ میچز میں 30 اور ایک روزہ میچز میں 23 رنز کی اوسط سے وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی بہترین باؤلنگ 102 رنز کے عوض چھ وکٹیں تھیں۔ وہ جتنی مستقل مزاجی سے باؤلنگ کراتے تھے اس سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ عینک لگا کر کھیلتے ہوئے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ڈینئل ویٹوری

نیوزی لینڈ سے تعلق رکنے والے اس کرکٹر نے بہت شہرت حاصل کی۔ وہ آل راؤنڈر تھے اور نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔ 18 برس کی عمر میں عینک لگانے والے ڈینئل ویٹوری ایک پیشہ ور کرکٹر سے زیادہ ہیری پوٹر کا کوئی کردار لگتے تھے وہ بائیں ہاتھ سے بہت عمدہ سپن باؤلنگ کراتے تھے اور ان کی بلے بازی بھی قابل تحسین تھی۔ انہوں نے ہر قسم کی کرکٹ کھیلی اور 32 ٹیسٹ میچوں میں نیوزی لینڈ ٹیم کی کپتانی بھی کی۔ 2015 کے ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو فائنل تک پہنچانے میں ویٹوری نے اہم کردار ادا کیا۔ اس ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے بعد ڈینئل ویٹوری ریٹائر ہوگئے۔ اس وقت وہ 705 انٹرنیشنل وکٹیں حاصل کر چکے تھے۔

ڈینئل ویٹوری نے 113 ٹیسٹ میچز کھیلے اور 30 رنز کی اوسط سے 4531 رنز بنائے۔ انہوں نے چھ ٹیسٹ سنچریاں اور 23 نصف سنچریاں اپنے نام کیں۔ اسی طرح انہوں نے 295 ایک روزہ میچز کھیل کر 2253 رنز بنائے۔ ویٹوری نے 34 ایک روزہ میچز بھی کھیلے اور 12-8 رنز کی اوسط سے 205 رنز بنائے۔

ٹیسٹ اور ایک روزہ میچز میں 300سے زائد وکٹیں اپنے نام کیں۔2007میں انہیں نیوزی لینڈ ٹیم کا کپتان بنایا گیا۔ اس سے پہلے بھی وہ اس وقت کپتانی کے فرائض انجام دیتے تھے جب سٹیفن فلیمنگ دستیاب نہیں ہوتے تھے۔

ویٹوری کے پاس ایک اور ریکارڈ ہے۔ آٹھویں نمبر پر بلے بازی کرنے والے وہ واحد بلے باز ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ سنچریاں بنائیں۔ ویٹوری نے 4000ٹیسٹ رنز بنائے۔

وریندر سہواگ

بھارت کے جارحانہ انداز میں کھیلنے والے بلے باز وریندر سہواگ کبھی کبھی عینک کا استعمال کرتے تھے۔ انہوں نے 1999ء میں انٹر نیشل کرکٹ کھیلنا شروع کی اور دنیا بھر کے بائولرز کیلئے دہشت کی علامت بن گئے۔

ان کا کھیلنے کا انداز بہت جارحانہ ہوتا تھا۔ انہوں نے 8586ٹیسٹ رنز بنائے جن میں23سنچریاں شامل تھیں۔ وہ کبھی کبھی آف سپن بائولنگ بھی کراتے تھے۔ 104ٹیسٹ میچز میں انہوں نے 49.3کی اوسط سے جبکہ 251ایک روزہ میچز میں انہوں نے 35.0رنز کی اوسط سے رنز بنائے۔

ایک روزہ میچز میں انہوں نے 15سنچریاں بنائیں وریندر سہواگ نے 19ٹی 20میچز بھی کھیلے اور21.9رنز کی اوسط سے394رنز بنائے۔ایک روزہ میچز میں انہوں نے دو نصف سنچریاں بنائیں وہ افتتاحی بلے باز تھے اور انہوں نے دو ٹرپل سنچریاں اور کئی ڈبل سنچریاں بھی بنائیں۔ انہوں نے تیز ترین ڈبل سنچری بھی بنائی۔ شروع شروع میں وریندر سہواگ کا مقابلہ سچن ٹنڈولکر سے کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کئی بار یہ تسلیم کیا کہ جوانی میں وہ سچن ٹنڈولکر کے کھیلنے کے انداز سے متاثر تھے۔

وریندر سہواگ سکوائر کٹ اور لیٹ کٹ کھیلنے کے ماہر تھے۔ 2005ء میں انہیں دنیا کا سب سے پر جوش افتتاحی بلے باز قرار دیا گیا۔ خاص طور پر وہ ٹیسٹ میچز میں بہت جارحانہ انداز میں کھیلتے تھے۔ 20اکتوبر 2015کو سہواگ نے ہر قسم کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔

ظہیر عباس

پاکستان کے سابق کپتان ظہیر عباس کو حال ہی میں آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل کیا گیا ہے۔ انہیں رن مشین کہا جاتاتھا۔ انہیں ایشیا کا بریڈمین بھی کہا گیا۔ ظہیر عباس بڑے دلکش بلے باز تھے۔ خاص طور پر ان کی کور ڈرائیو کا کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ شروع سے ہی عینک لگا کر کھیلتے تھے۔

وہ واحد ایشیائی کرکٹر تھے جنہوں نے سنچریوں کی سنچریاں مکمل کی۔ وہ گلوسٹر شائر کی طرف سے کائونٹی کرکٹ کھیلتے تھے اور وہاں انہیں ایک لیجنڈ کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ آئی سی سی کے صدر بھی رہے۔

انہوں نے چار ڈبل سنچریاں بنائیں۔ دو انگلینڈ کے خلاف اور دو بھارت کے خلاف۔ ان کو شہرت اس وقت ملی جب انہوں نے انگلینڈ کے خلاف 1971میں ایجبسٹن میں ڈبل سنچری بنائی۔

ان کے 274رنز کی بڑی دھوم مچی۔ ظہیر عباس کو رنز بنانے کی ہمیشہ بھوک رہتی تھی۔ ان سے بھارتی کھلاڑی اکثر کہتے تھے ’’ظہیر اب۔۔ بس ‘‘۔80کی دہائی کے شروع میں انہوں نے عینک اتار کر لینز کا استعمال شروع کر دیا۔ وہ 1985ء میں کرکٹ سے ریٹائر ہو گئے۔

کلائیو لائیڈ

کلائیو لائیڈ ویسٹ انڈیز کے کپتان اور مڈل آرمڈ بلے باز تھے۔ بطور کپتان بھی انہوں نے بڑی کامیابیاں سمیٹیں اور بطور بلے باز بھی ان کا ریکارڈ شاندار رہا ان کی کپتانی میں ویسٹ انڈیز نے دوبار کرکٹ ورلڈ کپ جیتا۔ وہ کیرئر کے آخر تک عینک کا استعمال کرتے رہے اور اب بھی عینک لگاتے ہیں۔

انہوں نے 110ٹیسٹ میچز میں39.54رنز کی اوسط سے 46.67رنز کی اوسط سے7515رنز بنائے جن میں19سنچریاں اور 39نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ان کا ایک اننگز میں زیادہ سے زیادہ سکور 242 رنزناٹ آئوٹ رہا۔

کلائیو لائیڈ نے 87ایک روزہ میچوں میں 39.54 رنز کی اوسط سے 1977رنز بنائے۔ انہوں نے 10ٹیسٹ وکٹیں بھی اپنے نام کیں۔ انہیں خوش قسمت کپتان بھی کہا جاتا تھا۔

انہیں کے دور میں اینڈی رابرٹس، رچرڈز، مائیکل ہولڈنگ ، میلکم مارشل، کالی چرن، گورڈن گرینج، ڈیسمنڈہینز ، کولن کرافٹ اور جوئیل گارنر جیسے کرکٹرز ویسٹ انڈیز کی طرف سے کھیلے۔

ایک روزہ میچوں میں ان کی سب سے حیران کن جیت 1975کے ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف تھی۔ وہ طاقتور سٹروک پلیئرز تھے اور ان کا کھیل واقعی قابل دید ہوتا تھا۔ 1984ء میں انہوں نے اپنا آخری ٹیسٹ کھیلا۔

ان کے علاوہ پاکستان کے اوپنر امام الحق بھی عینک پہن کر کھیلنے والوں میں شامل ہیں ۔ اگرچہ وہ نئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ وہ بھی لینز لگا کر کھیلیں لیکن ان کے بارے میں مفصل نہیں لکھا جارہا۔

تحریر: عبدالحفیظ ظفر

SHARE

LEAVE A REPLY