وطن عزیز ابلاغ کے پروپیگنڈہ کی زد میں۔ محمد نعمان طیب چنگوانی

0
879
پاکستانی عوام کے جذبات اور احساسات کے ساتھ کھیل کر کوئی بھی شخص باآسانی مذہب کے نام پر اپنے مفادات حاصل کر سکتا ہے۔ یہاں باآسانی پروپیگنڈہ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ وطن دشمن قوتیں پاکستان کی جڑوں کو بڑے ہے مربوط طریقے سے کاٹ رہی ہیں۔ حقائق کو اس قدر اس مسخ کرکے وہ چہرہ دکھایا جارہا ہے جس میں یہاں کی سادہ لوح عوام کو بس سب بے عیب دکھائی دیتا ہے۔ میں کافی دنوں سے اس موضوع پر لکھنا چاہ رہا تھا مگر مصروفیت کے سبب وقت گزرتا رہا مگر اب قارئین سے گزارش ہے کہ اس ساری تحریر کو اختتام تک پڑھیں کہ کتنے ہے منظم انداز میں جھوٹ بولے جاتے ہیں ۔محترمین، یہ پروپیگنڈہ ہی ہے کہ آپ کو پاکستان بنانے والوں کے وارث، سیاستدان پاکستان کے ازل سے ہی کرپٹ، وطن دشمن، نکمے اور بے کار دِکھتے ہیں اور پاکستان میں غیرآئینی مداخلتیں کرنے والے پاکباز، محب الوطن، جفاکش اور سودمند معلوم پڑتے ہیں۔ یہ پروپیگنڈہ کا ہتھوڑا ہی ہے جو آپ کے اذہان کو مرضی سے توڑے، موڑے اور مسخ کیے چلا جاتا ہے کہ جس میں آپ پاکستان کے پانچویں بڑے انفرادی ٹیکس پئیر اور تقریبا 30 کروڑ روپے ٹیکس ادا کرنے والے شاہد خاقان عباسی کو کرپٹ اور نالائق اور پاکستان کو نقصان پہنچانے والا سمجھتے ہیں۔ جبکہ تقریبا تین ارب کی ظاہر شدہ جائیداد رکھنے والے، محترم عمران نیازی صاحب، جنہوں نے سال 2018۔ 19 میں 103,763 روپے ٹیکس ادا کیا، کو ایمانداری اور شفافیت کا ایورسٹ سمجھتے ہیں۔  حقیقی امر یہ ہے کہ اگر حقائق کو مسخ کرکے توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے اسلوب کی پختگی آپ کو حاصل ہے، تو یقین مانیے آپ عوام کو گمراہ کرسکتے ہیں۔ جابجا آپ کا ہی ڈنکا بجایا جائے گا۔ آمریت کے دور میں لکھنے والے موہوم اشاروں میں بات لکھتے تھے اور انسان تشکیکیت میں مبتلا رہتا ہے کہ رویا جائے یا ہنسا جائے۔ اگر کسی کو سمجھ آگیا تو مسئلہ پیدا ہوجائے گا، کیونکہ اس وقت نہ دلیل دی جاسکتی ہے، نہ ہی پروپیگنڈا کیا جاسکتا ہے، بس حکم ماننا ہوتا ہے۔ ایک سادہ سی مثال ہے کہ اگر وطن عزیز کے گزشتہ ستر سالہ دور سے واقفیت ہو، تو آپ یہ جانتے ہوں گے کہ اس ملک پر چار ڈکٹیٹر مسلط کردئیے گئے تھے۔ چاروں کو فرشتہ صفت بتا کر ایسا تاثر دیا گیا کہ یہ خدا کی جانب سے بھیجے گئے ہیں، جو عوام کو مسائل سے نکالنے کا واحد ذریعہ ہیں۔ کسی میں جرأت نہیں کہ ان کے دور عروج میں ان کے خلاف کوئی بول پائے، اقتدار کے مالک تھے، نہ عدالت میں پیشی کا ڈر تھا نہ ہی پارلیمان کو جوابدہ تھے۔ سرکشی کے گھوڑے کی لگام بھی ان ہی کے ہاتھوں میں تھی۔ ان کے غلام جمہوریت اور آئین کے حامیوں پر کیچڑ اچھالا کرتے تھے۔ وہ بھی کیا کریں، آخر ان کے ذمے جو کام دیا گیا ہے، وہ تو اسے جانفشانی کے ساتھ پورا کرتے رہے۔ بات کرنے کو یہاں زبان کٹتی ہے اور دن کے اجالوں میں آپ کو گھر سے بھی اٹھا لیا جاتا ہے اور اگر زبان کھولیں تو بڑی دلیری سے وطن فروش اور غدار کا لقب دے دیا جاتا ہے۔ قوانین کی آڑ میں اکثر صحافت پر قدغن لگا دی جاتی ہے۔ سرکاری میڈیا پر کبھی عوام کا اعتماد نہیں رہا اس لئے کہ یہاں سے صرف ’’سب اچھا‘‘ کی خبریں آتی ہیں چاہے معاملات کتنے ہی برے ہوں۔ مدیر کا ادارہ ختم ہونے سے ذمہ دارانہ صحافت کو سب سے زیادہ نقصان ہوا۔ بہت سے مالکان خود مدیر بن بیٹھے اور توجہ خبر سے ہٹ کر اشتہارات پر چلی گئی۔ اشتہارات پر سرکاری کنٹرول کو حکومتوں نے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا اور اب بھی یہی ہو رہا ہے۔ اب تو مداخلت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ میڈیا پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ اس اینکر کو رکھ لیں اور اس کو نہ رکھیں۔
من گھڑت قصے کہانیاں، فرضی واقعات، جملے بازی، دلیل سے خالی بے بنیاد باتوں کو منوانے کے جتن کرنا، گری ہوئی باتوں کو گمراہ کن مثالیں دے کر وزنی کرنا، اپنی عظمت کی ڈینگیں مارنا۔ زہر اگلتی، جھوٹ بولتی زبانیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ حقیقت خرافات میں کھوگئی ہے۔
وطن عزیز اس وقت پروپیگنڈہ کا شکار ہے اور
 پروپیگنڈہ ایک ایسے طریقے کار کا نام ہے جس کو استعمال میں لاتے ہوئے لوگوں کو ایک مخصوص نظریہ قبول کرنے میں ذہنی و نفسیاتی حوالے سے تیار کیا جاتا ہے۔ پروپیگنڈہ کی اشاعت کے لئے اخبارات، رسائل، ٹی وی، سوشل میڈ،جلسے جلوس، مظاہرے، پمفلٹ اور دیگر ذرائع شامل ہیں۔پروپیگنڈہ کو عوام میں لانے کے کچھ اصول ہوتے ہیں جس کو استعمال کرتے ہوئے کوئی بھی ریاست تنظیم ایک بہتر طریقے سے عوام میں اسکی اشاعت کرسکتاہے۔  پروپپیگنڈہ انگریزی زبان کا لفظ ہے- عام بول چال میں اس لفظ کے معنی دروغ گوئی، ترغیب و تحریص یا غلط افواہ کا پھیلانا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اکثر اوقات سیاسی انجمنیں یا حکومتیں غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے اپنے فوری اور ذاتی مفاد کے پیش نظر غلط روایات و واقعات کا چرچا کرکے اپنی مطلب برداری کر لیتی ہیں، لیکن یہ لازم نہیں ہے کہ پروپیگنڈے کی بنا جھوٹ پر ہی ہو۔ پروپیگنڈا سچا بھی ہوتا ہے اور عوام کے فائدے کا باعث بھی ہوتا ہے۔ مگر اس وقت پا کستان میں منفی پروپیگنڈہ عروج پر ہے اور سب اچھا کا راگ الاپ کر مخالفین  پرچور چور کے نعروں سے عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے۔
SHARE

LEAVE A REPLY