اردوکے معروف شاعر ، محقق ، نقاد اور استاد پروفیسر ڈاکٹرمظفر حنفی اس دار فانی سے کوچ کر گئے ۔انا للہ و انا الیہ راجعون
ان کا اصل نام محمد ابوالمظفر اور تخلص مظفر تھا۔یکم اپریل 1936ء کو کھنڈوہ (مدھیہ پردیش) میں پید ا ہوئے۔ان کا آبائی وطن ہسوہ، فتح پور(یوپی) ہے۔ 1960ء میں مدھیہ پردیش محکمہ جنگلات میں ملازم ہوکر بھوپال منتقل ہوگئے۔اسی ملازمت کے دوران انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے اور بھوپال یونیورسٹی سے ایم اے ، ایل ایل بی اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کی تحقیق کا موضوع ’’شاد عارفی۔ شخصیت اور فن‘‘ تھا۔انھیں شاد عارفی سے تلمذ بھی حاصل ہے۔ 1976ء سے وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو میں ریڈر کی حیثیت سے تدریس کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ 1989ء میں کلکتہ یونیورسٹی نے انھیں ’’اقبال چیئر‘‘ کے پروفیسر کی حیثیت سے فائز کیا۔وہ اچھے افسانہ نگار، مترجم ، شاعر اور نقاد تھے ۔ وہ تیس سے زائد کتابوں کے مصنف تھے ۔ چند نام یہ ہیں: ’پانی کی زبان‘، ’تیکھی غزلیں‘، ’عکس ریز‘، ’صریرخامہ‘، ’دیپک راگ‘، یم بہ یم‘، ’کھل جا سم سم‘(شاعری)، ’دوغنڈے‘، ’دیدۂ حیراں‘(افسانے) ، ’نقد ریزے‘، ’جہات وجستجو‘، ’باتیں ادب کی‘، ’لاگ لپیٹ کے بغیر‘، ’وضاحتی کتابیات‘، ’غزلیات میرحسن‘، (تحقیق وتنقید)، ’’روح غزل‘(انتخاب)، ’شاد عارفی۔ ایک مطالعہ‘، ۔ ان کی مجموعی خدمات کے اعتراف میں مغربی بنگال اردو اکادمی نے ان کو کل ہند’’پرویز شاہدی ایوارڈ‘‘ ،غالب انسٹی ٹیوٹ (دہلی) نے کل ہند فحرالدین علی احمد’’غالب ایوارڈ‘‘ برائے تحقیق وتنقید پیش کیا ۔ اس کے علاوہ انھیں مختلف ریاستی اردو اکادمیوں سے اٹھارہ انعامات ملے۔کل ہند میراکادمی لکھنؤ کا ’’میرایوارڈ‘‘ بھی ملا۔
وقار زیدی













