افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز میں جاری شدید لڑائی کے باعث ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فریقین سے شہریوں کے انخلا کے لیے محفوظ راستہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

طالبان نے صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ پر کنٹرول کے لیے رواں ہفتے بڑی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ افغان فورسز اور طالبان میں گزشتہ کئی دن سے لڑائی جاری ہے۔ اس لڑائی میں افغان فورسز کو امریکہ کی فضائی مدد بھی حاصل ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق لشکر گاہ اور قریبی علاقوں سے لگ بھگ پانچ ہزار خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ان خاندانوں کے 35 ہزار سے زائد افراد مختلف علاقوں میں جا چکے ہیں جب کہ مزید افراد بھی نقل مکانی کر رہے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا کے سربراہ عمر وڑائچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لشکر گاہ کے حالات عام شہریوں کے لیے انتہائی خراب ہو چکے ہیں جب کہ آنے والے دنوں میں ان کا مزید تیزی سے خراب تر ہونے کا اندیشہ ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY