امریکہ میں گزشتہ ہفتے بے روزگاری الاؤنس کے لیے آٹھ لاکھ 98 ہزار امریکیوں نے درخواستیں دی ہیں جو کہ دو ماہ کے عرصے میں تاریخی اضافہ ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی بھی عکاسی کرتے ہیں کہ عالمی وبا کے دنوں میں ملازمتوں سے فارغ کیے جانا معیشت کی بحالی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

امریکہ کے لیبر ڈپارٹمنٹ کی جاری کردہ رپورٹ دیگر حالیہ ڈیٹا سے مطابقت رکھتی ہے جن میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ روزگار کی فراہمی سست روی کا شکار ہے۔

اس سال موسمِ بہار میں عالمی وبا کی وجہ سے کل 22 ملین یعنی دو کروڑ 20لاکھ ملازمتیں ختم ہو گئی تھیں، جن میں سے ایک کروڑ 70 لاکھ ملازمتیں ابھی تک بحال نہیں ہو سکیں ہیں۔

گزشتہ ماہ سے کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد میں ملک بھر میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے امریکی اب باہر کھانا کھانے، شاپنگ اور دیگر تجارتی سرگرمیوں سے اجتناب برت رہے ہیں۔

ملک بھر میں بے روزگاری مراعات کے لئے درخواستوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب اسٹمولس پیکج یعنی کاروباروں میں جان ڈالنے کے منصوبے کے تحت امدادی رقوم کی فراہمی پر مذاکرات، ایوان کی سپیکر نینسی پیلوسی اور وزیرخزانہ سٹیو منوچن کے درمیان تعطل کا شکار ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY