عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ نوجوانوں اور صحت مند افراد کو کرونا کی ویکسین آنے کے بعد بھی ایک سال تک اس کی دستیابی کا انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
بعض ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ نوجوان اور صحت مند افراد کو ویکسین کے لیے انتظار کرنا ہو گا۔
عالمی ادارۂ صحت کی چیف سائنٹسٹ سومیا سوامی ناتھ کا کہنا ہے کہ لوگ سوچ رہے کہ یکم جنوری یا یکم اپریل کو ویکسین دستیاب ہو گی اور سب کچھ پہلے کی طرح نارمل ہو جائے گا۔ یہ کام اس طرح بالکل نہیں ہوتا۔
آن لائن سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی بہت سی ہدایات سامنے آنی ہیں۔ لیکن ممکنہ طور پر ایک صحت مند اور نوجوان فرد کو ویکسین کے لیے 2022 تک انتظار کرنا ہوگا۔
خیال رہے کہ ماہرین پہلے بھی بتا چکے ہیں کہ نوجوان بھی کرونا وائرس کے سبب بیمار ہو سکتے ہیں یا ان کی موت بھی ہو سکتی ہے۔ یا ان سے بیماری پھیل بھی سکتی ہے۔ البتہ یہ شواہد موجود ہیں کہ نوجوان یا صحت مند افراد کے مقابلے میں بڑی عمر یا پیچیدہ بیماریوں کے شکار افراد کرونا وائرس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔












