حُسین شناسی کا سفر۔71۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
866

قسط 71

کربلا میں کرب و بلا ٹھہر چکی تھی
ایک ہو کا عالم تھا ۔۔ ساکنان چمن چپ تھے
نسیم سحر اداس ۔۔ پھول رستہ بھول چکے تھے
خوں رنگ آفتاب دشت نینوا میں گریہ کناں تھا
خدا کی پوری کائینات
جیسے آج مغموم سرجھکائے کھڑی تھی
زرہ زرہ محو گریہ ۔۔
شام غریباں آ چکی تھی
سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کی
” صدا ئے استغاثہ “ ہر طرف گونج رہی تھی
” کوئی ہے جو میری مدد کرے
کوئی ہے جو میری نصرت کرے
میں پیاسا ہوں ۔۔ پیاسا شہید کیا گیا ہوں
روئے زمین پر
حق و انصاف اور اسلام و قرآن کی حکمرانی قائم کرو
جس دن
ظالموں کا خاتمہ ہوگا میری پیاس بجھ جائے گي “
امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد
قیس بن اشعث اور بحر بن کعب نے آپ کی قمیص
اسود بن خالد اودی نے آپ کے نعلین‌ مبارک
جمیع بن خلق اودی نے آپ کی تلوار شمشیر
اخنس بن مرثد نے آپ کا عمامہ
بجدل بن سلیم نے آپ کی انگلی سمیت انگوٹھی
اور ۔۔۔۔۔عمر بن سعد نے آپ کا زرہ اتار لیا تھا
اس کے بعد
لشکر یزید بحکم عمر بن سعد
خیام حسین پر حملہ کیا
اور ان میں موجود تمام اشیاء لوٹ لیں
اور اس کام میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے تھے
روز عاشور
امام زین العابدین(ع) سخت بیمار تھے
مردوں میں سے صرف آپ زندہ بچے تھے
سیدہ زینب(س) سمیت
اہل حرم کے دوسرے افراد کے ساتھ آپ بھی اسیر ہوئے
ابن زیاد کے حکم پر
عمر سعد نے اپنی فوج کے دس سپاہیوں کے ذریعے
امام حسین(ع) اور ان کے با وفا اصحاب کی سر بریدہ لاشوں پر گھوڑے دوڑائے
جس سے شہداء کے جنازے پامال ہو گئے
اسحاق بن حویہ ، اخنس بن مرثد ، حکیم بن طفیل
عمرو بن صبیح، رجاء بن منقذ عبدی، سالم بن خیثمہ جعفی
واحظ بن ناعم ، صالح بن وہب جعفی، ہانی بن ثبیت حضرمی
اور ۔۔۔ اسید بن مالک
شہداء کی بدن پر گھوڑے دوڑانے والوں میں پیش پیش تھے
عمر بن سعد نے
اسی دن امام حسین(ع) کے سر مبارک کو
خولی اور حمید ابن مسلم کے ساتھ
عبیداللہ بن زیاد کے پاس کوفے بھیج چکا تھا
اسی طرح
اپنی سپاہیوں کو دیگر 72 شہداء کے سروں کو بھی
ان کے جسم سے جدا کرنے کا حکم دیا
اور انہیں
شمر بن ذی الجوشن، قیس بن اشعث، عمرو بن حجاج
اور عزرہ بن قیس کے ساتھ کوفہ روانہ کر دیا
گیارہ محرم ۔۔۔۔
سادات کی اسیری شروع ہو گئی
بے سرو سامان قافلہ کربلا سے براستہ کوفے شام کو چلا
زوال کے بعد
عمر سعد نے حکم دیا

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY