حُسین شناسی کا سفر۔76۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
723

قسط 76

قربان جائیں
سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی جرات اور عزم و استقلال پر
کہ
آپ سلام اللہ علیہا نے
نہ صرف بھائی کے ساتھ سوئے کربل جانے کا ارادہ فرمایا
بلکہ نانا کے دین کی محافظت اور سر بلندی کی خاطر
اپنے دو معصوم بچوں عون و محمد کو بھی شاملِ سفر کیا
اور میدانِ کربلا میں
جب جانثارانِ حسین اپنی جانوں کے نذرانے
امامِ حسین علیہ السلام کے مقدس مشن کی تکمیل کے لیے لٹا رہے تھے
تو
سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے
اپنے دونوں بیٹے عون و محمد علیہما السلام کو بھی پیش کیا
معرکہ کربلا میں
آپ س اپنے حصے کا پانی بھی نوش نہیں فرماتی تھیں
بلک
بچوں کو پلادیا کرتی تھیں
ایسے بحرانی حالات اورمصا ئب و آلام کے ماحول میں
جہاں ہر انسان کے قدم متزلزل ہوجایا کرتے ہیں
جناب زینب سلام اللہ علہیا ثابت قدم رہیں
ظالموں اور جابروں سے ڈٹ کر مقابلہ کیا
اورموقع و محل کے مطابق
گوناگوں حالات میں بہترین کردار کامظاہرہ کیا
آپ نے کبھی دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر
اپنے عظیم خطبوں کے وار سے
ان کے دلوں پر کاری ضربیں لگائیں
تو کبھی
غمزدہ بیبیوں اور بچوں کی تسکین کے لئے
نرم ومہربان مشفقانہ لہجے میں دلجوئی کی
اور امام وقت سید سجاد زین العابدین ع کی جان کی حفاظت کرتے ہوئے
انہیں جلتے ہوئے شعلوں سے نکال کر
امام حسین کے بعد
حسینی انقلاب کی قیادت و پاسبانی کے فرائض ادا کئے
اور ایسے خطرناک مراحل میں
صرف خداوند عالم سے مدد طلب کی
آپ نے کربلا سے کوفہ اورکوفہ سے شام کے سفر کے دوران
ظالم و جابر ستمگروں کے دربار
اور
لوگوں کے ہجوم میں
اپنے حکیمانہ خطبوں اور تقریروں سے
کربلا کے انقلاب کوحیات نو عطاکی
خطابت کے علاوہ
آپ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی تھی
کہ
آپ نے جگہ جگہ
وقت و حالات کے مطابق
بالکل صحیح و بجا مستحکم فیصلے کئے ہیں
اسیری کے بعد
جب جناب زینب دیگر اہل حرم کے ساتھ
کوفہ کے دربار میں
ابن زیاد کے سامنے لائی گئیں
جناب زینب س نے اپنی شعلہ بار تقریروں سے
ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا اور ان کی نیندیں حرام کردیں
جناب زینب س کے خطبات ، دینی معارف سے مالامال ہیں
ہمیشہ اپنے خطبے کا آغاز پرودگار عالم کے ذکر سے کرتیں
آپ خدا کی یاد میں اس قدر غرق تھیں
کہ
رضائے الہی کے مقابل تمام مصیبت و آلام کومعمولی تصور کرتی تھیں
جب کوفہ کے گورنرابن زیاد نے آپ سے پوچھا
کہ
اپنے بھائی کے سلسلے میں خدا کے امرکو کیسا پایا
تو
آپ نے بڑے ہی اطمینان و یقین کے ساتھ جواب دیا
“ ہم نے اچھائی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا
خدا کی طرف سے
یہ فیصلہ ہو چکا تھا
کہ
انہیں مقتول دیکھے
اوراب وہ لوگ خدا کی ابدی بارگاہ میں آرام کررہے ہیں
عنقریب ہی
خداوند عالم تمہیں اورانہیں قیامت کے دن محشور کرے گا
پس تم لوگ
اس دن کے بارے میں فکرکرو
کہ
اس دن حقیقت میں کون کامیاب ہوگا “
یہ عظیم روحانی اقتدار
جو دشمن کی ذلت و حقارت کا سبب بنا
خداکی جانب سے مدد و نصرت پر اعتماد واطمینان کا سرچشمہ ہے
۔ گویا
جناب زینب س نے خود کو خدا کی لازوال طاقتوں سے متصل کرلیا تھا
حضرت زینب س معاشرے کی ہدایت و رہنمائی میں
امام ع کے کردار اور مقام و منزلت سے بخوبی واقف تھیں
اسی لئے واجب سمجھتی تھیں
کہ
اپنے بھائی امام حسین ع اور بھتیجے امام زین العابدین (ع) کے عظیم مقام کو
اسلامی معاشرے میں
امام و راہبر کے اعتبار سے پہچانیں
لہذا
آپ نے
کوفیوں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا
تم لوگ فرزند پیغمبر
جوانان بہشت کے سردار امام حسین
اور ان کے بچوں کے قتل سے
اپنے دامن پر لگے ننگ و عار کے بدنما داغ کو کس طرح مٹاو گے
اس عظیم ہستی کے قتل کا داغ
جو
تمہارے لئے بہترین پناہ گاہ، امن و اتحاد کا علمبردار
تمہارے دین کا ذمہ دار اور شریعت کا پاسباں تھا “
امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY