سندھ اور پنجاب میں سیلاب سے تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔ سیم نالوں اورنہروں میں شگاف پڑگئے۔ دریائے سوات میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب جب کہ دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

این ڈٰی ایم اے نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے تازہ اعداد و شمار جاری کردئیے۔ بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق ہونیوالے افراد کی تعداد 1061 ہوگئی۔

دریائے کابل میں پانی کا بہاؤ مزید بڑھ گیا، چشمہ، تونسہ، گدو اور سکھر بیراجز پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ 349 ہلاکتیں صوبہ سندھ میں ہوئیں، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں 242، 242 اور پنجاب میں 168 افراد جاں بحق ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق سیلاب سے آزاد کشمیر میں 38 افراد، گلگت بلتستان میں 17 اور اسلام آباد میں ایک شخص جاں بحق ہوا۔

سندھ

سندھ میں سیلاب سے تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔ مٹیاری کےعلاقے کھنڈو میں 2 دیہات سیلابی پانی میں ڈوب گئے اور300 سے زائد مکانات منہدم ہوگیا۔ ایک مکان گرنےسے 7 بچے اور خاتون زخمی ہوگئیں۔

سانگھڑ میں سیم نالے میں شگاف پڑنے سےخیرپور جانے والی شاہراہ زیرآب آگئی۔

میہڑکے قريب سپربند میں 30 فٹ چوڑا شگاف ہوگیا جس سے6 یونین کونسلوں کو خطرے لاحق ہیں۔

بدين ميں ایل بی او ڈی میں 300 فٹ چوڑے شگاف سے شہر سمن سرکاراور روشن آباد ڈوبے ہوئے ہیں۔ اس وقت سیلابی ریلہ پنگریو شہر کی طرف بڑھ رہا ہے اور لوگ گھر بارچھوڑ کرمحفوظ مقامات کی تلاش میں ہیں۔

قمبرشہداد کوٹ میں سیلاب متاثرین مشکلات کا شکار ہیں۔اسپتالوں میں بیماروں کی آمد جاری ہے تاہم انڈس ہائی وے پرزچہ بچہ کا اسپتال خود پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔

نوشہروفیروزکے گاؤں غلام محمد میں سیلابی پانی داخل ہوچکا ہے۔ شہر کاخیرپور سے گزشتہ 4 روز سےرابطہ منقطع ہے۔ علاقے میں خواتین اوربچوں سمیت کئی افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنرکے مطابق روزانہ 500 افراد کو ریسکیو کرکے سرکاری عمارتوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔

ٹھٹہ کےعلاقےمکلی میں مدد نہ ملنے پرمتاثرین نےآٹے سے بھرے 3 ٹرکوں پر دھاوا بول دیا اورآٹے کی بوریاں لے گئے۔

سکھر کا نواحی گاؤں یارمحمد گھمرو مکمل طور پر بارش کے پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔اگرچہ بارش تین روز سے تھم چکی ہےتاہم متاثرہ علاقے میں پانی نکالنے کے لیے کام شروع نہیں ہوسکا ہے۔

بیراجوں کی صورتحال

ادھر سکھر بیراج اورگڈو بیراج پر 1 ہفتے سے اونچے درجے کا سیلاب ہے اوراطراف کے 600 دیہات زیرِآب ہیں۔لوگ مدد کا انتظار کررہےہیں۔

سکھراور گڈو بیراجوں پر ایک ہفتے سے اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ سکھر بیراج پر پانی آمد اور اخراج 5لاکھ 44ہزار 711 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

گڈو بیراج پر پانی آمد اور اخراج 5 لاکھ کیوسک سے تجاوز کرگیا ہے۔2 روز کے بعد پانی میں دوبارہ اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ دریائے سندھ میں چشمہ بیراج کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔ جناح بیراج میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور دونوں بیراجوں میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ فلڈ کنٹرول روم کے مطابق 7 لاکھ کیوسک پانی کا ریلا 24 گھنٹوں کے دوران کسی بھی وقت گزر سکتا ہے۔

خیبرپختونخوا

مینگورہ کے نواحی علاقے تا حال پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کمراٹ اور تھل کا زمینی راستہ بھی بحال نہ ہوسکا۔

سوات میں مینگورہ کے نواحی علاقوں سے تاحال پانی کی نکاسی نہ ہوسکی۔نشیبی علاقوں میں مکانات زیرآب ہیں جب کہ متاثرین کو بھی امداد کی فراہمی شروع نہیں ہوسکی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY