توہین رسالت کے نام پرمشال قتل : رپورٹ آج سپریم کورٹ میں جمع ہوگی

0
121

مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالب علم مشال کے قتل میں مزید 3ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے،آئی جی خیبرپختونخوا آج واقعے کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائیں گے۔

پولیس کے مطابق 3افراد کی گرفتاری کی بعد اب قانون کی گرفت میں آنے والے ملزمان کی تعداد 19ہوگئی ہے۔

پولیس کے مطابق گزشتہ جن 8ملزمان کا ایک روزہ ریمانڈ لیا تھا انہیںآج عدالت میں پیش کیاجائے گا جبکہ واقعے کے فوری بعد پکڑگئے 8ملزمان پہلے ہی 4روزہ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے نوٹس لینے کے بعد پولیس مشعال قتل کیس میں متحرک ہوگئی ہے،ڈی آئی جی آفس مردان میں آئی جی خیبر پختونخواہ صلاح الدین محسود کی زیر صدارت مشعال قتل کیس کے حوالے سےاہم اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ڈی آئی جی مردان محمد عالم شنواری، ڈی پی او مردان ڈاکٹر میاں سعید احمد،سمیت اعلی افسران نے شرکت کی۔ڈی آئی جی مردان نےمشعال قتل کیس کے حوالے سےبریفنگ دی۔جس میں بتایا گیا کہ نامزد ملزمان میں سےاب تک 22کوگرفتارکرلیا گیا ہے جبکہ تفتیش میں تیزی سے پیشرفت ہو رہی ہے۔چند گرفتاریوں اور سوالات کے علاوہ زیادہ تر معلومات سامنےآگئی ہے۔

آئی جی پی خیبر پختونخوانے پولیس کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ تفتیش درست سمت میں جارہی ہے،انہوں نے پولیس افسران کو ہدایات دی کہ باقی ماندہ ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے،واقعےکی ہر پہلو سے غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کا اطلاق اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے،اجلاس چارگھنٹے تک جاری رہا اور اس کیس کے حوالے سے تمام پہلؤوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا

مردان کی عبد الولی خان یونیورسٹی میں تشدد کر کے قتل کیے جانے والے طالب علم مشال خان کے والد اقبال خان کا کہنا ہے کہ بیٹے کے قتل کا معاملہ فوجی عدالت میں منتقل کیا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں۔

صوابی میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے مقتول مشال خان کے والد نے کہا کہ ملک میں پہلے بھی کئی مواقع پر اہم مقدمات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیے گئے لیکن آج تک کسی ایک کمیشن کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔جوڈیشل کمیشن اور از خود نوٹس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ اگرحکومت سنجیدہ ہے تو اس معاملے کو فوجی عدالت میں منتقل کیا جائے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اقبال خان نے کہا کہ میرے بیٹے کا قتل دراصل دہشتگردی ہے اور جب ملک میں انسداد دہشتگردی عدالتیں موجود ہیں تو یہ کیس انہیں کیوں نہیں منتقل نہیں کیا جارہا جس کا سارا فائدہ فوج اور حکومت کو ہی ہو گا۔اگرحکومت حقیقت میں یہ کیس حل کرانا چاہتی ہے اور سچ سامنے لانا چاہتی ہے تو تمام تر ثبوت پہلے سے موجود ہیں کیونکہ پورے واقعے کی ویڈیو دستیاب ہے، صرف کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

مشال خان کے والد نے مزید کہا کہ میرا بیٹا تو اب اس دنیا میں نہیں رہا مگریہ مسئلہ صرف ہمارا نہیں پورے ملک کے نوجوانوں اور بچوں کا معاملہ بن گیا ہے۔ اگر حکومت نے انصاف فراہم نہیں کیا تو اس کا براہ راست فائدہ غیرریاستی عناصر کو ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ تاحال پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کیس کی تفتیش اور پیشرفت سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا

بعض تنظیموں کی طرف سے بیٹے کے قتل سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش سے متعلق سوال پراقبال خان نے جواب دیا کہ ایسا ہردور میں ہوتا رہا ہے لیکن اگر یہ فائدہ اس طرح ہو کہ ملکی نظام میں کوئی بہتری آئے تو ہم کہیں گے کہ بیٹے کا خون رائیگاں نہیں گیا۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کی ڈسٹرکٹ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں دو روز قبل مشتعل ہجوم نے شعبہ صحافت کے طالبعلم مشال خان کو توہین مذہب کے الزام میں قتل کر دیا تھا۔ تشدد کے اس واقعے میں دو طالبعلم زخمی بھی ہوئے تھے

SHARE

LEAVE A REPLY