نظم سروں کی دیوی۔ | نظم نگار: صائمہ قمر
انتخاب ۔ ظفر معین بلے جعفری
جہان بھر کے
سروں کے جھرنوں کا
لے کے
اجلا سنہری پانی
ملا ئی اس میں گلاب رنگت
چمبیلی خوشبو
ذرا سا صندل
ذرا سا کیسر
ہتھیلی پر چاند اور سورج
کی لو اتاری
بڑھا کے ہاتھوں کو
کہکشائیں سمیٹ لیں اور
اس آمیزے کو
چاند چرنوں میں رکھ کے آیا
تو دیوتاؤں نے آگے بڑھ کے
اسے اٹھایا
اپنے ہونٹوں سے مس کیا
اور ایک دیوی کے
نرم و نازک گلو میں اس کو
اتارا ایسے
کہ جیسے سینے میں اترے اشلوک
وہ ایک عالم جو اس سے گونجا
ہے نام اس کا
سروں کی دیوی
مری لتا جی
لتا جی
جیوے ہزارہا برس
گرہ جو
اب کےلگی برس کی
ہزار گرہیں لگاتی جائے
حسین مالا بناتی جائے
سروں کی دیوی
لتا کا مکھڑا سجاتی جائے













