حُسین شناسی کا سفر۔79۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
608

قسط 79

یزید بن معاویہ سے خاموشی کے سوا کوئی جواب نہ بن پڑا
تو
اہل بیت رسول خداص کی خواتین اور یتیموں کی جانب متوجہ ہوا
زینب و کلثوم اور علی بن حسین( علیہم السلام) کو اپنے پاس طلب کیا
حضرت زینب کی نگاہیں
جونہی سر اقدس پر پڑیں بے تاب ہو کر فریاد کناں ہوئیں
واجداہ … وا محمداہ
اور یزید سے مخاطب ہو کر فرمایا
تم نے
اپنی عورتوں کو
سرا پردہ عزت و حجاب میں بٹھا رکھا ہے
اور اللہ کے رسول کی بیٹیوں کو
اس بے پردگی کے ساتھ اونٹوں پر سوار کرایا
اور
مردوں کے اس مجمع میں اپنے سامنے طلب کیا
کل قیامت کو اس بارے میں کیا جواب دو گے؟
یزید نے پوچھا
یہ عورت کون ہے؟
لوگوں نے بتایا یہ حسین کی ہمشیرہ زینب ہیں
آپ س نے
سورہ احزاب کی تینتیسویں آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے
اپنے خاندان اور اپنی مادرگرامی فاطمہ زہرا س
اپنے والد ماجد مولائے کائینات علی علیہ السلام
اور اپنے دونوں بھائیوں کی عصمت و طہارت کا اعلان کرتے ہوئے
شجاعت و شہامت کے ساتھ فرمایا:
اس خدا کا شکر
جس نے ہمیں پیغمبر کے ذریعے شرف و کمال عطا کیا
اور ہرطرح کے نجاست سے پاک و پاکیزہ رکھا
اسی طرح
سیدہ زینب س نے سورہ آل عمران کی ایک سو اٹھہترویں آیت کی تلاوت کی
یزید لعین سے کہا
تیری یہ عیش و عشرت کی زندگی جلد ہی ختم ہوجائے گی
اور
تیری یہ بادہ نوشی و مد ہوشی عارضی اور چند روزہ ہے
خدا وندعالم تجھ سے سخت مواخذہ کرے گا
یہ دنیا اور اس کی زندگی
گناہگاروں کے لئے مہلت ہے
کہ
وہ اپنے عذاب میں اور زیادہ اضافے کے لئے مواقع فراہم کریں
کربلا کی شیر دل خاتون نے بارہا
اپنے خطبوں میں یزید و ابن زیاد کو ذلیل و خوار کیا
اور ان کی کھل کر مذمت کی
قران و اسلام سے ان کی دیرینہ دشمنیوں کو یاد دلایا
آپ س نے
خدا و پیغمبر کے خلاف
یزید کی سرکشی کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا
” تونے اس کام کے ذریعے
خدا کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہے
اور پیغمبر اسلام ، قران اور احکام اسلامی کا انکار کیا
اگر مصیبتوں ، پریشانیوں ، سختیوں اور موجودہ حالات نے
ہمیں ایسی منزل پر لاکر کھڑا نہ کیا ہوتا
کہ
میں تجھ سے کلام کرنے پر مجبور ہوتی
تو
تجھ جیسے بدترین فاسق و فاجر سے کبھی بھی کلام نہ کرتی
میں تیرے ظاہری رعب و دبدبے کو
تیری حقیقی حالت سے بہت زیادہ پست جانتی ہوں
اور تجھ پر بے حساب لعنت بھیجتی ہوں
حضرت زینب س نے
یزید کو مخاطب کرتے ہوئے بھرے دربار میں فرمایا تھا
اے یزید
دنیا کی زندگی بہت ہی مختصر ہے
اور تیری دولت اور عیش و عشرت کی زندگی
اسی طرح ختم ہوجائے گی
جس طرح
ہماری دنیوی مصیبتیں اور مشکلیں ختم ہوجاتی ہیں
مگر کامیابی و کامرانی ہمارے ساتھ ہے
کیونکہ حق ہمارے ساتھ ہے
سیدہ کلثوم
جوفرط جذبات سے
امام عالی مقام کے لب و رخسار کو چوم رہی تھیں
شدتِ غم سے بے ہوش ہوکر گر پڑیں
جب ہوش میں آئیں تو یزید کے حق میں بددعا فرمائی اور بولیں
اے یزید …!
تجھے دنیا سے متمتع ہونا نصیب نہ ہو
اور جس طرح
تونے
ہمیں آلام و مصائب میں مبتلا کیا ہے
اسی طرح تو بھی خوشی اور مسرت نہ دیکھ سکے
یزید نے پوچھا
کیا یہ بھی حسین کی بہن ہے
لوگوں نے اثبات میں جواب دیا
تو یزید
اما م زین العابدین کی جانب متوجہ ہوا اور پوچھا
کہ
یہ لڑکا کون ہے؟
لوگوں نے بتایا یہ علی بن حسین بن علی ہے
یزید بولا
میں نے تو سنا ہے
کہ
حسین کا بیٹا قتل کر دیا گیا ہے
وہ بولے حسین کے تین بیٹے
علی اکبر ، علی اوسط اور علی اصغرتھے
علی اکبر اور علی اصغر دو نوں قتل کر دیے گئے
اور علی اوسط بیمار تھے اس لیے انہیں قیدی بنا کر لایا گیا
یزید بن معاویہ
جناب زین العابدین سے مخاطب ہوا
اے لڑکے!
تمہیں معلوم ہے
تمہارے باپ نے یہ خواہش کی
کہ
وہ مسند خلافت پر بیٹھے
اور منبروں پر اس کے نام کے خطبے پڑھے جائیں
الحمدللہ!
کہ وہ اپنی مراد تک نہ پہنچ سکا
علی ابن حسین نے فرمایا
اے یزید!
بتا یہ منبر ہمارے اب و جد نے قائم کیے یا تمہارے آباء نے
خلافت و امامت ہمارے اب و جد سے قائم ہے
جنہوں نے راہِ خدا میں جہاد کیا
یا
تمہارے اسلاف سے
جو خدا کی ذات کے ساتھ شرک کے مرتکب ہوتے تھے
ہمارا تمہارا فیصلہ تو بروزِ حشر ہوگا
یہ کہہ کر
آپ ع نے آیہ کریمہ کی تلاوت فرمائی
سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون
(“و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون” ( سورۃ الشعراء 226)
( عنقریب ظالم اپنےظلم کا انجام دیکھ لیں گے )
اس کے بعد
یزید نے حکم دیا
اہل بیت و آل رسول کے تمام اسیروں کو
ان کی فرودگاہ پر لے جایا جائے
اور
حسین ع کے سر کو
دمشق کے دروازہ پر آویزاں کر دیا جائے
سید الشہداء کا سر اقدس
تین روز تک دمشق کے دروازہ پر آویزاں رہا

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY