محمد علی سدپارہ کے نام نظم
چھوغوری (کے ٹو)
سنا ہے
گلگت بلتستان کے برف زار بڑے بے قرار رہتے ہیں
آنے جانے والوں سے
کوہ پیماؤں کا پوچھتے رہتے ہیں
اور
چھو غوری
سطح سمندر سے
آٹھ ہزار چھ سو گیارہ میٹر کی بلندی پر کھڑی
اپنی کافر اداؤں سے
کوہ پیماؤں کو پکارتی رہتی ہے
اے پہاڑوں کے بیٹے
کہا تھا تم سے
چھو غوری
برف زادوں سے کم کم ملتی ہے
سنا ہے
سی فور یعنی شولڈر 8 ہزار میٹر کی بلندی پر ہے
اس کے بعد
بوٹل نیک آتا ہے
جو 8211 میٹر کی بلندی پر
تنگ 60 ڈگری کی ڈھلوان ہے
اور ۔۔۔ اور
آٹھ ہزار میٹر سے آگے کا یہ پوراعلاقہ ڈیتھ زون کہلاتا ہے
اے پہاڑوں کے بیٹے
کون جانے
ڈیتھ زون میں
تم
چشمہ حیات کی تلاش میں تھے
کہ
جنوں کے رکھ رکھاؤ نبھاہ رہے تھے
جو بھی تھا ۔۔ پر
ڈیتھ زون سے سرخرو نکل آئے تھے
کوہ پیما کہتے ہیں
بوٹل نیک کے بعد
ہر رستہ
موت کو چھو کر چلتا ہے
اور ۔۔
صرف 400 میٹر کا فاصلے پر
چھو غوری
تنہا
جنون کی گواہ ہوتی ہے
اے پہاڑوں کے بیٹے
محمد علی سد پارہ
تمہیں برفاب ہوئے
چھ دن ہو چکے ہیں
پر ۔۔
ہم نے
امید کے دیئے یقین کے طاق پر سجا رکھے ہیں
بصیرت جتنی بھی بصارت سے لڑے
ہم نے دعاؤں کے پر پھیلا رکھے ہیں
اے پہاڑوں کے بیٹے
تمہیں تمہاری
چھو غوری کی قسم
صد پارہ ہونے سے پہلے
سد پارہ لوٹ آؤ
…………….
ڈاکٹر نگہت نسیم












