قسط 88
اسیران کربلا
یزید کی قید میں 10 روز کے بعد
شام سے براستہ کربلا مدینے کے لئے روانہ ہوئے
بیس 20 صفر 61 ہجری کو کربلا پہنچے
امام حسین علیہ السلام کے سر انور کو بدن مبارک کے ساتھ دفن کیا
اربعین امام حسین علیہ السلام کی مجالس ہویئں
گریہ اور ماتم ہوا ۔۔
زیارت اربعین اس طرح پڑھی گئی
سلام ہو ولي خدا اور حبيب خدا پر
سلام ہو خليل خدا اور اللہ کے نجيب بندے پر
سلام ہو اللہ کي برگزيدہ ہستي پر اور اس کي برگزيدہ ہستي کے فرزند پر
سلام ہو حسين مظلوم و شہيد پر
سلام ہو اس ہستي پر جو مصائب ميں گھر گئي اور رواں آنسؤوں کے مقتول پر
بارخدايا!
ميں سچي گواہي ديتا ہوں
کہ
امام حسين عليہ السلام
تيرے ولي اور تيرے ولي کے فرزند ہيں
تيرے برگزيدہ بندے اور برگزيدہ بندے کے فرزند ہيں جو کامياب ہوئے
تو نے اپني کرامت سے ان کي تکريم کي
تو نے انہیں شہادت کے عوض گرامي اور عزير و محبوب بنايا
اور سعادت کے لئے مخصوص کرديا اور ان کو پاک پيدا کيا
انہيں سادات اور بزرگوں ميں سے قرار دیا
انہيں پيشرو قائدين ميں سے قرار ديا
انہيں حق کا دفاع کرنے والوں میں سے قرار ديا
تو نے انہیں
انبياء عليہم السلام کا ورثہ عطا کيا اور انہيں ان اوصياء ميں سے قرار ديا
جو تيري مخلوق پر تيري حجتيں ہيں
انہوں نے لوگوں کو دعوت دينے ميں کوئي بھي بہانہ کسي کے لئے نہيں چھوڑا
اور بے دريغ خيرخواہي اور نصيحت کي
اور تيري راہ ميں اپني جان کا نذرانہ پيش کيا
تاکہ
تيرے بندوں کو جہالت و سرگرداني کے بھنور مبں گرفتار ہونے
گمراہي کي وادي ميں بھٹکنے سے اور سرگرداني سے نجات ديں
پر ۔۔۔۔
دنيا کا فريب کھانے والي پستيوں کے عوض
اپنا سرمايہ
پستيوں کے عوض بيچنے والے
ان کے خلاف ايک دوسرے کے ساتھ مل گئے
اور انہوں نے اپني آخرت کو نہايت پست قيمت پر بيچ ڈالا
اور اپنے آپ کو ہوا و ہوس کے کنويں ميں پھینک ديا
انہوں نے تجھ کو اور تيرے پيغمبر (ص) کو غصبناک کيا
انہوں نے تيرے بندوں کے درميان ان لوگوں کي پيروي کي
جو
دوگانگي اور نفاق (منافقت) والے تھے
اور گناہ کے عظيم بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے
اور اسي بنا پر دوزخ کي آگ کے مستحق قرار پائے تھے
آپ (ع) نے
جب يہ سب کچھ ديکھا
تو
صبر و استقامت
اللہ کي جزاء کي اميد کے ساتھ ان کے خلاف جہاد کيا
حتي کہ
ان کا خون تيرے پيروي کي راہ ميں زمين پر جاري ہوا اور ان کا مقدس حريم توڑ ديا گيا
بار خدايا!
ان پر لعنت بھيج
ايسي لعنت جو بال و پر رکھتي ہو اور انہيں دردناک عذاب ميں مبتلا کردے
سلام ہو آپ پر اے فرزند رسول اللہ (ص)
سلام ہو آپ پر اے سيد الاوصياء کے فرزند
ميں گواہي ديتا ہوں
کہ
بتحقيق
آپ خدا کے امين (امانت دار) اور خدا کے امانتدار کے فرزند ہيں
آپ سعادتمند جئے اور دنيا سے رخصت ہوئے
جبکہ
دنيا میں آپ کي حمد و ستائش کي جارہي ہے
آپ نے
گم گشتہ، ستمزدہ اور شہيد ہوکر موت کو گلے لگايا
میں گواہي ديتا ہوں
کہ
خداوند متعال
بتحقيق
اس وعدے کي وفا کرنے والا ہے جو اس نے آپ سے کيا تھا
اور تباہ و ہلاک کرنے والا ہے
آپ کي نصرت و مدد سے ہاتھ کھينچنے والوں کو
اور عذاب دينے والا ہے آپ کے قاتلوں کو
میں گواہي ديتا ہوں
کہ
آپ نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اپنے وعدے پر بخوبي عمل کيا
آپ نے جہاد کيا اس کي راہ ميں اپني موت کے لمحے تک
خدا !
لعنت کرے ان پر جس نے آپ کو قتل کيا
لعنت کرے ان پر جنہوں نے آپ پر ظلم و ستم روا رکھا
لعنت کرے ان پر جنہوں نے آپ کے قتل کا واقعہ سنا اور اس پر راضي ہوئے
خداوندا!
ميں تجھے گواہ بناتا ہوں
کہ
ميں ان سب سے محبت کرتا ہوں
جو ان سے (يعني امام حسين عليہ السلام سے) محبت کرتے ہيں
میں دشمني کرتا ہوں
ان سے جو امام حسين عليہ السلام سے دشمني کرتے ہيں
ميرے ماں باپ قربان ہوں
آپ پر اے فرزند رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم
میں شہادت ديتا ہوں
کہ
آپ نور تھے بلند مرتبہ اور پاکيزہ نسلوں ميں سے تھے
چنانچہ
زمانہ جاہليت کے حالات آپ کو آلودہ نہ کرسکے
اور نہ جہالت کے ميلے لباس آپ کو اپنے لپيٹ ميں لے سکے
میں گواہي ديتا ہوں
کہ
آپ حقيقتاً دين کے ستون اور مسلمانوں کے ستون اور مومنوں کي پناہگاہ ہيں
میں گواہي ديتا ہوں
کہ
آپ حقيقتا نيکوکار، باتقوي
پسنديدہ امام و پيشوا اور ہدايت يافتہ راہنما ہيں
میں گواہى ديتا ہوں
کہ
بے شک
آپ کي نسل سے آنے والے ائمہ (ع)
تقوي کي روح اور حقيقت اور ہدايت کي نشانياں
حقيقتا
حق و فضيلت کي مضبوط رسياں
اور دنيا کي مخلوقات پر اللہ کي حجتيں ہيں
ميں گواہي ديتا ہوں
کہ
آپ (معصومين عليہم السلام) پر ايمان رکھتا ہوں
آپ کي بازگشت اور واپسي اور اپنے دين کے قوانين پر يقين رکھتا ہوں
ميرا دل آپ کے دلوں کے سامنے سرتسليم خم کئے ہوئے ہے
ميرے امور و افعال و اعمال آپ کے کاموں کے تابع ہيں
اور
ميري نصرت آپ کے لئے آمادہ ہے
حتي کہ
خداوند متعال آپ کو ظہور کا اذن عطا فرمائے
پس
ميں آپ کے ساتھ ہوں نہ کہ آپ کے دشمنوں کے ساتھ
اللہ کے تمام درود ہوں آپ پر اور آپ (اہل بيت) کي پاک روحوں پر
اور
آپ کے پيکروں پر
آپ ميں سے حاضرين پر اور غائبين پر اور آشکار و نہاں پر
آمينَ رَبَّ الْعالَمينَ۔
جاری ہے












