برادران ِ عزیز و خواہران ِ محترم سترہ نومبر معروف شاعر،ادیب ، صحافی ، مرثیہ نگار،محقق ، براڈکاسٹر اور عالمی اخبار کے میر ِکارواں جناب صفدر علی ھمٰدانی صاحب کا 70 واں یوم ولادت ہے جس پر انہیں اس پوری بزم کی جانب سے ڈھیروں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
صفدر ھمٰدانی لاہور کے ایک علمی اور ادبی گھرانے میں 17 نومبر 1950 کو پیدا ہوئے۔ صفدرؔ ھمٰدانی کے پردادا ایران کے شہر ھمٰدان سے ہجرت کر کے پاکستان آے تھے۔ والد محترم جناب مصطفیٰ ھمٰدانی تھے جنہوں نے 13 اور 14 اگست کی رات ٹھیک 12 بجے لاہور میں واقع پاکستان براڈکاسٹنگ سروس سے قیام پاکستان کی خوشخبری سنائی تھی۔ وہ ایک بہترین شاعر بھی تھے اور اردو کے علاوہ فارسی میں بھی مشق سخن کرتے تھے. صفدر ھمٰدانی نے اپنے والد گرامی کو چار مصرعوں میں یوں خراج عقیدت پیش کیا
ہم مناتے ہیں جو یہ روز سعید
سچ تو یہ آزاد لوگوں کی ہے عید
قبر میں تا حشر صفدر اس کی نور
صبح آزادی کی دی جس نے نوید
صفدر ھمٰدانی نے ایف سی کالج سے گریجویشن کے بعد جامعہ پنجاب سے صحافت میں ایم اے کیا اور 1973 میں ریڈیو پاکستان سے بطور پروڈیوسر وابستہ ہوگئے. صفدر ھمٰدانی نے ریڈیو پاکستان میں اپنی ملازمت کے دوران ریڈیو کی اکیڈیمی کے علاوہ ریڈیو ہالینڈ اور تین برس سے زائد عرصے تک ریڈیو جاپان میں بھی خدمات سرانجام دیں ہیں .انکی غزلوں کا پہلا مجوعہ’ کفن پہ تحریریں’ 1974 میں لاہور میں شائع ہوا تھا اور بعد ازاں مختلف تصانیف کی اشاعت کے بعد 2003 میں انکی کتابیں ‘فرات کے آنسو’.مرثیوں کا مجموعہ.نورِ کربلا عزائی شاعری پہ تحقیق. اور’معجزہءِ قلم’رباعیات ،قطعات و قصائد کا مجموعہ. فروری 2004 میں شائع ہوا جبکہ انکی تالیف اور تدوین”کلیات حسن” مرحوم و مغفور جناب حسن عباس زیدی کی شاعری کی کلیات 2005 میں طبع ہوئی جو کہ صفدر ھمٰدانی کے سسر یعنی ممتاز نیوز کاسٹر مہ پارہ صفدر کے والد گرامی تھے۔ اگست 2006 میں صفدر ھمٰدانی کا پہلا سفر نامہ” تہران اور گر عالمِ مشرق کا جنیوا” شائع ہوا. 2007 میں مرثیے کی دو کتابیں شائع ہوئیں جن میں سے ایک”زینت ہستی” ماں کے موضوع پر لکھا ہوا مرثیہ ہے جبکہ دوسری ”عطائے رضا” کے نام سے امام رضا علیہ السلام کا مرثیہ ہے۔ ” رو رہا ہے آسماں” مرثیوں کا ایک اور مجموعہ. مرثیہ نو تصنیف پڑھنے کے سلسلے میں وہ برطانیہ کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران،جاپان، پاکستان (کراچی،لاہور،ملتان،مظفر گڑھ،اسلام آباد)، نیدرلینڈ، ہیگ ،ایمسٹرڈیم ،جرمنی میں فرینکفرٹ ،برلین،فشتہ، سٹٹگارٹ،فرانس،ناروے،سویڈن میں سٹاک ہولم ، ڈنمارک ،یونان، دبئی، ترکی، بلجیم،امریکہ (میامی ،ہیوسٹن،فلوریڈا ،نیوجرسی،کینڈا میں وینکور اور ٹورنٹو، شام, مصر ، فن لینڈ اور آسٹریلیا میں سڈنی اور میلبورن کے علاوہ آسٹریا میں ویانا اور کویت جیسےملکوں اورشہروں کا سفر کر چکے ہیں ۔
صدیوں سے ایک زندہ روایت ہے مرثیہ
پیش فرات پیاس کی طاقت ہے مرثیہ
ہو ذکر ِ اہلبیت تو عزت ہے مرثیہ
یا یوں کہوں بہار ِ عبادت ہے مرثیہ
مصرعے اترتے ہیں یہاں الہام کی طرح
لفظوں کی کاٹ ہوتی ہے حسام کی طرح
مجھ کو ہر سال نیا مرثیہ ہوتا ہے عطا
مجھ پہ کرتا ہے کرم آلِ محمدﷺ کا خدا
چومتی ہے لبِ قرطاس کو ہاں بادِ صبا
پہن کر لفظ نکلتے ہیں ہواؤں کی قبا
مرثیہ ہی مری پہچان حوالہ ہے میرا
قرعہ فعال فرشتوں نے نکالا ہے میرا
صفدر ھمٰدانی صاحب کو اپنی مرثیہ گوئی پر ایک عجیب قسم کا فخر اور یقین ہے ملاحظہ فرمائیے۔
کفن میں میرے اک خاک شفا اک مرثیہ رکھنا
میں اسنادِ شفاعت لے کے خود محشر میں جاونگا
۔۔۔۔۔۔۔
مطمئن ہوں گا بہت دیکھنا روز محشر!
مرثیہ ہی مری بخشش کی ضمانت ہو گا
۔۔۔۔۔
مرثیہ لکھتا ہوں ہر سال نیا اہلِ عزا
مجھ پہ شبیر کی رحمت ہے یہ زینب کی دعا
۔۔۔۔۔
کیا معجزہ ہو قبر میں کہہ دیں ملائکہ
صفدر سنا دو شعر کوئی اک سلام سے

صفدر ھمٰدانی کے مرثیوں کا امتیاز عہد حاضر کی کربلا کا ذکر اور اس عہد کے یزیدوں کے چہروں سے نقاب اتارنا ہے اور اسکے لیئے وہ روشنی خانوادہ اہل ِبیت سے ہی حاصل کرتے ہیں۔ صفدر ھمٰدانی کا مزاج بھی مزاحمتی شاعری کا ہے نہ کہ درباری شاعری کا
اس کربلا کا دوستو بھولیں نہیں پیام
اس عہد کے یزید کو پہچان لیجئے
۔۔۔۔۔۔
کہتا ہے کون ختم ہوئی کربلا کی جنگ
ہم لڑ رہے ہیں آج بھی فوجِ یزید سے
۔۔۔۔۔
صدیوں کے بعد آج بھی ہم کربلا میں ہیں
لیکن خدا کا شکر حصارِ دعا میں ہیں
۔۔۔۔۔
طاقت کے فلسفے کی حکایت پرانی ہے
دشمن میرا نیا ہے عداوت پرانی ہے
شان علیؑ پڑھوں گا میں نیزے کی نوک پر
نوکِ سناں پہ پڑھنے کی عادت پرانی ہے
صفدر ھمٰدانی کے تمام مراثی میں اور خاص طور پر ١٥٠ بند سے زائد کے ایک مرثیے میں لگ بھگ ٦٢ بند شان رسولِ اکرمﷺ میں ہیں . ایک بند ملاحظہ کیجیے
لولاک کا قصیدہ ِ ذیشاں مرا نبیﷺ
قرآں کی آیتوں میں نمایاں مرا نبیﷺ
حسن خدا کی نظموں کا دیواں مرا نبیﷺ
شان ِ علیؑ غزل ہے غزل خواں مرا نبیﷺ
معراج اس کے پاؤں کی مٹی کی دھول ہے
قرآں خدا کے لہجے میں نعت ِ رسولﷺ ہے
مدح خامس آل ِ عبا حضرت امام حسینؑ
حسینؑ بادل حسین بارش حسین موسم حسین پانی
حسینؑ مقتل لہو کا جنگل کٹا کے سر در گُزر کا بانی
حسینؑ حمدو ثنا کی مستی حسین اک سوزِ نوحہ خوانی
حسینؑ شاہِد حسین واحِد کہاں سے لاؤ گے اُس کا ثانی
حسینؑ میرا حسین تیرا حسین سب کا
حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب کا
وہ جس نے لکھا ہے موت کا اپنی آپ عنواں حسینؑ وہ ہے
وہ نام جس کا سُنیں تو ظلمت کدے ہوں لرزاں حسینؑ وہ ہے
قسم خُدا کی خُدا پہ بھی جس جری کا احساں حسینؑ وہ ہے
وہ جس کی آمد پہ سب ملائک ہوئے غزلخواں حسینؑ وہ ہے
حسینؑ میرا حسین تیرا حسینؑ سب کا
حسینؑ حیدرؑ کا مصطفیٰﷺ کا حسین رب کا
صفدر ھمٰدانی ایک عہد ساز شخصیت کا نام ہے۔ مرثیہ کہتے ہوئے صفدر صاحب کو نصف صدی ہو گئی ہے مرثیے کا پہلا مجموعہ سرمایہ حیات 1991 میں جاپان میں شائع ہوا تھا جو آج تک جاپان میں شائع ہونے والا واحد مراثی کا مجموعہ ہے۔ 1992 کے آخر میں جب جاپان ریڈیو ٹی وی سے بی بی سی لندن آے تو آٗزل ورتھ کے عزا خانے میں جناب یاور عباس مرثیہ انیس کے چند بند پڑھا کرتے تھے جب صفدر صاحب نے مرثیہ نوتصنیف پڑھنا شروع کیا تو ابتدائی چند سال بہت مشکل پیش آئی لیکن حوصلہ نہیں ہارا جنت مکانی عاشور کاظمی نے بہت ساتھ دیا اور پھر چند برس بعد ایک ہی نشست میں ہلال نقوی، قمر زیدی اور صفدر ہمدانی نے تین مرثیے پڑھے۔ صفدر صاحب نے لندن کے تین گھروں سے بارہ پندرہ برس سے مجالس مرثیہ کی بنیاد رکھی جو آج بھی منعقد ہوتی ہیں۔
سجدہ جو کیا دل کو مدینہ کیا میں نے
معیارعلیؑ والوں کا طے کر دیا میں نے
محفل میں لیا جب بھی کبھی نام علیؑ کا
لکھا ہوا چہروں پہ نسب پڑھ لیا میں نے
آپ برطانیہ میں مقیم ہیں مگر چلتے ہوئے حالات کی ابتری پر آپ کا قلم حالات کے مطابق چلتا ہے۔ پاکستان سے متعلق ہر بحران کی نشاندہی اپنے کلام کے ذریعے بھی کرتے ہیں. مثلا
ہمارے درمیان اترا ہے کیسا قہر کوفے کا
دلوں میں خون کی صورت بھرا ہے زہر کوفے کا
امن ہو جان کی صفدر تو پوچھیں حکمرانوں سے
مدینے کی ریاست ہے نئی یا شہر کوفے کا
کچھ عرصے قبل جب وکیلوں نے پروٹیسٹ کے دوران ایک ہسپتال پر حملہ کیا تو صفدر ھمٰدانی بول اٹھے
ہر روز اک ملال نیا ہے ملال پر
پڑھ لیجئے گا فاتحہ اب اعتدال پر
صفدر ہے ساری قوم ندامت میں مبتلا
حملہ کیا وکیلوں نے جو ہسپتال پر
غنیم انسانیت کا کیا احتساب ہوگا؟
حکومت وقت کے پاس کوئی جواب ہوگا؟
جب سفاک قاتلوں سے مذاکرات کی بات ہونے لگی
قاتلوں سے گفتگو کی ابتدا ہونے لگی
شرم کی بے غیرتی کی انتہا ہونے لگی
ظلم کے ہاتھوں پہ بیعت جوں رواں ہونے لگی
زندگی اب جس طرح سے اک سزا ہونے لگی
لوٹ ڈالا قافلے کو قافلہ سالار نے
بات پھیلا دی وطن میں سرخی اخبار نے
عزاداری سے متعلق تین بہترین بند
عشق ہے آل ِ محمدﷺ سے عزاداری کا نام
یہ عزاداری ہے انسان کی بیداری کا نام
انبیا کہتے ہیں فردوس کی سرداری کا نام
ظلم سے جبر سے تا حشر یہ بیزاری کا نام
ہاں ملائک کی عبادت کی عزاداری ہے
صورتِ مہر ِ صداقت یہ عزاداری ہے
عشق شبیرؑ میں اعزاز عزاداری ہے
نوحہ و سوز کی آواز عزاداری ہے
مثل کن فلسفہ ِ راز عزاداری ہے
اپنا انجام ہے آغاز عزاداری ہے
میں نہیں کہتا آئمہ نے یہ فرمایا ہے
جو کبھی گھٹتا نہیں ہے یہ وہ سرمایا ہے
آنکھ میں عاشق ِ شبیرؑ کے اشکوں کے گہر
قبر کے سارے عذابوں سے برأت کی خبر
چادر ِ زہرا کا سایہ ہے بروز محشر
یہ عزاداری ہے اکبرؑ کی جوانی کا ثمر
نعمت خاص ہے یہ قوت ایماں کے لیے
معجزہ پلکوں پہ اشکوں کے چراغاں کے لیے
شعبان 2019 کی بات ہے کہ صفدر ھمٰدانی ایک بڑے طویل عرصے بعد برطانیہ کے شہر واٹفورڈ میں جناب سہیل چوہان کے گھر منبر افروز ہوئے اور َعلم ِ حضرت عباسؑ پر ایک ایسی مسدس پڑھی جس کے پرشکوہ مصرعے آج بھی ذہن میں گونج رہے ہیں 2 بند پیش خدمت ہیں
اعلان ِ انقلاب ہے عباسؑ کا علم
ہر ظلم کا جواب ہے ہے عباسؑ کا علم
پیاسوں کا انتخاب ہے عباسؑ کا علم
عباسؑ کا شباب ہے ہے عباسؑ کا علم
ابھرا تھا چاند بن کے جو نہر ِ فرات پر
لہرا رہا ہے آج بھی وہ کائنات پر
حسن ِ جہاد ، قوت لشکر ہے یہ َعلم
چشم حضور ، بازوے حیدر یہ َعلم
تاریکیوں میں مہر ِ منور ہے یہ عَلم
“ہاں سینہ ِ یزید میں خنجر ہے یہ عَلم”
عباسؑ کے علم میں ہے طاقت حسینؑ کی
اصغرؑ کا زور جرآت و ہمت حسینؑ کی
اسی جشن میں ایک منفرد موضوع “تسبیح ِ فاطمہؑ” پر بھی مسدس پڑھی. تسبیح فاطمہ پر کچھ شعرا نے مسدس اور مرثیے میں ایک دو بند کہے ہیں لیکن میں نے صفدر صاحب کے علاوہ اس مضمون پر کسی کا پورا کلام نہیں دیکھا. یہ ایک طویل مسدس ہے۔ کچھ بند آپ کی نذر دیکھیے کیا طہارت و پاکیزگی ہے ماشاللہ
نغمہ ملک جو گائیں وہ تسبیحِ فاطمہؑ
حیدرؑ جو گنگنائیں وہ تسبیح فاطمہؑ
جو خود نبیﷺ سنائیں وہ تسبیح فاطمؑہ
جبریلؑ لے کے آئیں وہ تسبیح فاطمہؑ
یہ وہ ہیں جن سے عورتیں دنیا کی باشرف
خود عصمت بتولؑ ہے کان ِ ُدر ِ نجف
طاقت خدا کے نام کی تسبیح فاطمؑہ
قدرت نے انتظام کی تسبیح فاطمہؑ
گردش ہے صبح و شام کی تسبیح فاطمؑہ
خواہش ہر اک غلام کی تسبیح فاطمؑہ
سب جہاں کا پردہ ہے چادر بتولؑ کی
مریمؑ سے بھی سوا ہے یہ بیٹی رسولﷺ کی
الفاظ کی روانی ہے تسبیحِ فاطمہؑ
اسلام کی جوانی ہے تسبیحِ فاطمہؑ
دنیاے فہم و معنی ہے تسبیحِ فاطمہؑ
ہو کربلا تو پانی ہے تسبیحِ فاطمہؑ
تسبیحِ فاطمہؑ میں بھی شامل امام ہے
اس کے ہر ایک دانے میں الله کا نام ہے
دو بند عظمت حضرت زینبؑ بنت علیؑ پر ملاحظہ کیجیے
زینبؑ یزیدیت پہ مسافر کا ایک وار
رمزِ حسینؑ اسوہ ء زینبؑ سے آشکار
زینبؑ ہے کربلا کے شہیدوں کی یادگار
زینبؑ کے دَم سے آج یہ مجلس ہے برقرار
ہر اک دیار میں ہے جو ماتم یتیم کا
صدقہ علیؑ کی بیٹی کے عزمِ صمیم کا
زینبؑ حسینیت کی بقا کا پیام ہے
زینبؑ کلامِ عکسِ امام الکلام ہے
زینبؑ یزیدیت سے عداوت کا نام ہے
زینبؑ دراصل فاتحِ دربارِ شام ہے
لہجے میں مرتضیٰؑ کے وہ جب بولنے لگی
بنیادِ ظلم وجورو جفا ڈولنے لگی
معراج ساری ماؤں کی بنتِ رسولﷺ ہے ۔۔۔ طویل مرثیے سے چند بند
’’ماں‘‘ مرثیے کا موضوع ہے یہ دھیان میں رہے
مصرعہ ہر اک شعور کی میزان میں رہے
رتبہ نبیﷺ کی ماں کا بھی پہچان میں رہے
حق پر نظر تو دل مرا قرآن میں رہے
اے بابِ علم اذنِ سخن چاہیے مجھے
عزمِ حسین و حلمِ حسن چاہیے مجھے
پروردگار ماں کی محبت کی ہے دلیل
اور ماں ہے خود خلوص کی ایثار کی فصیل
سینے پہ کائنات کے احساس کی ہے جھیل
عادل خدا کی ذات تو یہ ماں بھی ہے عدیل
اس ماں سے بڑھ کے کون ہے بالا بتایئے
اس ماں سے بڑھ کے چاہنے والا بتایئے
رحمت خدا کی عظمتِ نسواں ہے ماں کا نام
افسانۂ حیات کا عنواں ہے ماں کا نام
دولت وفا کی عزتِ انساں ہے ماں کا نام
بے شک خدائے پاک کا احساں ہے ماں کا نام
لفظوں سے جس کے آتی ہے خوشبو وہ پھول ہے
معراج ساری ماؤں کی بنتِ رسولﷺ ہے
صفدر دو رب کو ماں کی محبت کا واسطہ
بنتِ نبی کی عفت وعصمت کا واسطہ
اُن کے کرم کا رحمت و عظمت کا واسطہ
اصغر سے شیر خوار کی تُربت کا واسطہ
یہ مرثیہ بھی بنتِ نبی کو قبول ہو
ہر ماں کی قبر پر تری رحمت نزول ہو
کربلا کے میدان سے
صبحِ عاشور میں اکبرؑ کی اذان کی آواز
نکتۂ جنگ کا ٹھہرا یہی لمحہ آغاز
تیر چلنے لگے دشمن کے کھُلا جبر کا راز
جان دینے کو تھے آمادہ یہاں اہلِ نماز
وہ گھڑی آلِ محمد پہ بہت سخت ہوئی
اک سنان سینۂ اکبرؑ میں جو پیوست ہوئی
بعدِ اکبر علی اصغرؑ کا یزیدوں سے خطاب
شیر خواری میں بھی بچے نے دکھایا وہ شباب
تیرِ حُرمل کا دیا خشک گلے سے یوں جواب
کھِل گئے ہونٹوں پہ اصغرؑ کے لہو رنگ گلاب
خون حُرمل نے بظاہر علی اصغر کو کیا
سچ کہوں قتل مگر فکرِ پیمبرﷺ کو کیا
خونِ بے شیر ملا شہ نے رُخِ انور پر
ہر طرف نوحہ کُناں سینہ زناں جن و بشر
لاش ہاتھوں پہ تھی معصوم کی حیران پدر
آ کے خیمے میں کہا مادرِ اصغر ہو کدھر
علی اصغرؑ تمہیں ملنے کے لیئے آیا ہے
خونِ ناحق نے ترے بچے کو مہکایا ہے
عرش پہ جن و ملک نے کہا انا اللہ
تشنہ لب مارا گیا فاطمہؑ کا نورِ نگاہ
خون سے سرخ زمیں ہو گئی تاریخ سیاہ
نوکِ نیزہ کی بلندی پہ محبت کا گواہ
سر کو معراج تلاوت کو صدا حاصل ہے
خونِ ناحق سے محبت کو بقا حاصل ہے
یہ ایک مختصر تحریر تھی مرد ِ قلندر جناب صفدر ھمٰدانی پر ۔ ہم دل کی گہرائیوں سے ان کی صحت و سلامتی کے لیئے دعا گو ہیں اور دعا ہے کہ شاعری میں خصوصا مرثیہ گوئی میں ان کے قلم کا سفر یونہی ہمیشہ رواں دواں رہے۔ پروردگار اردو ادب خصوصا مرثیے سے شغف رکھنے والوں کو توفیق دے کہ اس گراں قدر سرمایہ ِ اردو ادب سے رہنمائ حاصل کرسکیں۔
ذیشان زیدی













