بے نامی جائیدادوں کو ضبط کرنے کے حوالے سے سینیٹ میں متفقہ طور پر ایک بل پاس کرلیا گیا، یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاناما گیٹ اسکینڈل عدالت میں زیر سماعت ہے اور میڈیا پر سرخیوں کی زینت بنا ہوا ہے۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس اور ریونیو کی جانب سے بے نامی ٹرانزیکشن بل 2016 میں ہونے والی درجنوں ترامیم کے بعد ایک نئی ترمیم کے ساتھ اپوزیشن لیڈر اعتزاز احسن نے یہ بل سینیٹ میں پیش کیا۔

یاد رہے کہ قومی اسمبلی پہلے ہی اس بل کو پاس کرچکی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے مقرر کی گئی تاریخ پر بل کو لاگو کردیا جائے گا۔

بل میں موجود ترمیم کو اکثریتی ووٹرز کی جانب سے منظور کیا گیا جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر ریٹائرڈ جنرل صلاح الدین ترمذی نے رائے کے اظہار سے گریز کیا، جن کے اس اقدام کو پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب سے خوش آئند قرار دیا گیا۔

فاٹا کے قانون سازوں نے بھی حکومت کا ساتھ دینے کی روایت کو توڑتے ہوئے اپوزیشن کے ساتھ ووٹنگ کی۔

سینیٹ سے پاس ہونے کے بعد بل واپس قومی اسمبلی جائے گا اور سینیٹ کی نئی ترامیم کے ساتھ منظوری اور صدر مملکت کی جانب سے دستخط کے بعد قانون کا حصہ بن جائے گا۔

واضح رہے کہ بے نامی کے معنی ’بغیر نام‘ کے ہیں اور جائیداد کے معاملے میں بے نامی کا مطلب یہ ہے کہ جائیداد جس کے نام پر موجود ہو اس کے بجائے کوئی اور اس سے فائدہ اٹھائے۔

وزیر قانون زاہد حامد نے وزیر خزانہ کی جانب سے یہ بل سینیٹ میں پیش کیا، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اس سے ملتا جلتا قانون خطے کے دیگر ممالک میں بھی موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بے نامی جائیداد ٹیکس اتھارٹیز کے لیے تشویش کا باعث ہیں جبکہ اس کا سہارا لے کر دیگر غیرقانونی اور قابلِ سوال مقاصد کو بھی پورا کیا جاتا ہے جن میں ٹیکس چوری بھی شامل ہے۔

زاہد حامد کے مطابق بل کو پیش کرنے کا مقصد ٹیکس چوری اور بلیک منی جیسے مسائل سے نمٹنا تھا بالخصوص رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں تاکہ دوسرے لوگوں کے نام پر ہونے والی لین دین کا اندازہ لگایا جاسکے

SHARE

LEAVE A REPLY