قسط 95
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا
کہ
میرا مقصد امر بالمعروف و نہی عن المنکرہے
ایک دوسرے مقام پر بیان فرمایا
کہ
اے اللہ!
امربالمعروف ونہی عن المنکر کو بہت دوست رکھتا ہے
سوال یہ ہے
کہ
کیا ملت اسلامی امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر عمل کر پائی ؟
امام عالی مقام علیہ السلام نے فرمایا
کہ
لوگ دینا پرست ہیں
جب آزمائش کی جاتی ہے تودیندار کم نکلتے ہیں
سوال یہ ہے
کہ
کیا ملت اسلامی
اپنے ایمان، دینی پابندی و حق پرستی کے دعووں کوپرکھ سکی ؟
امام حسین علیہ السلام کے سامنے دو راستے تھے
ایک ذلت کے ساتھ زندہ رہنا
اور
دوسرا عزت کے ساتھ موت کی آغوش میں سوجانا
امام نے ذلت کو نہ پسند کیا اور عزت کی موت کو قبول کرلیا
آپ ع نے فرمایا ہے
کہ
ابن زیاد نے
مجھے تلوار اور ذلت کی زندگی کے بیچ لا کھڑا کیا ہے
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ میں ذلت کوقبول کرنے والا نہیں ہوں
سوال یہ ہے
کہ
کیا ملت اسلامی زلت اور عزت کے درمیان فرق کر پائی ؟
امام حسین علیہ السلام کی تحریک
طاغوتی طاقتوں کے خلاف تھی
اس زمانے کا طاغوت یزید بن معاویہ تھا
امام حسین علیہ السلام نے
کربلا میں
پیغمبراکرم (ص) کے قول کو سند کے طور پر پیش کیا ہے
کہ
” اگر کوئی ایسے ظالم حاکم کو دیکھے
جو
اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال
اور
اس کی حلال کی ہوئی چیزوں کوحرام کررہا ہو
تواس پر لازم ہے
کہ
اس کے خلاف آواز اٹھائے
اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اسے اللہ کی طرف سے سزا دی جائے گی“
سوال یہ ہے
کہ
کیا ملت اسلامی حرام حلال کا فرق سمجھ پائی ۔۔اعلان جہاد کیا ؟
امام حسین علیہ السلام نے
اپنے عمل سے بتایا
دین کی اہمیت اتنی زیادہ ہے
کہ
اسے بچانے کے لئے ہر چیز کو قربان کیا جاسکتا ہے
یہاں تک
کہ
اپنے ساتھیوں ، بھائیوں اور اولاد کو بھی قربان کیا جاسکتا ہے
سوال یہ ہے
کہ
کیا ملت اسلامی حرمت دین کو بچانے کے لئے کوئی قربانی دے پائی ؟
امام حسین علیہ السلام نے
دنیا کو
یہ بتانے کے لئے
کہ
دین فقط نماز روزے کا ہی نام نہیں ہے یہ خونی قیام کیا
تاکہ
عوام میں جذبہٴ شہادت زندہ ہو
اور
عیش و آرام کی زندگی کا خاتمہ ہو
کیونکہ
دین کی بقا، طاقت، قدرت و عظمت کا دارومدار جہاد اور شہادت کا جذبہ ہے
امام حسین علیہ السلام نے
اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا
کہ
میں موت کو سعادت سمجھتا ہوں
آپ ع کا یہ جملہ دین کی راہ میں شہادت کے لئے تاکید ہے
سوال یہ ہے
کہ
کیا ملت اسلامی اپنے اندر جذبہ جہاد اور شہادت کو بیدار رکھ پائی ؟
جو چیز عقیدہ کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے
وہ ہے
اپنے ہدف پر آخری دم تک باقی رہنا
امام حسین علیہ السلام نے
عاشورا کی پوری تحریک میں یہ ہی کیا
کہ
اپنی آخری سانس تک اپنے ہدف پر باقی رہے اور دشمن کے سامنے تسلیم نہیں ہوئے
امام علیہ السلام نے
امت مسلمہ کو
ایک بہترین درس یہ دیا
کہ
حریم مسلمین سے تجاوز کرنے والوں کے سامنے ہرگز نہیں جھکنا چاہئے
سوال یہ ہے
کہ
کیا ملت اسلامی حریم مسلمین سے تجاوز کرنے والوں کے سامنے ٹھہر پائی ؟
جاری ہے













