خلق جو ہوتے ہیں وفا کے لیے
پھر وہ جیتے ہیں مرتضی کے لیے
چن لیا رب نے ذات حیدر کو
انما اور ھل اتی کے لیے
منتخب مرتضی کو حق نے کیا
جانشیں اپنے مصطفی کے لیے
لاوں الفاط میں کہاں سے بتا
نفس احمد تری ثنا کے لیے
ابر رحمت ہے مومنوں کا وجود
مجھ سے لاچار و بے نوا کے لیے
بن ترے کون تھا نجف والے
کفو ہوتا جو فاطمہ کے لیے
لاکھوں مومن دعائیں کرتے ہیں
اے بلال آپ کی شفا کے لیے
بلال رشید













