دین اسلام کی اقتدا نعت ہے
فکر سرکار کو جاننا نعت ہے
مدح سرکار ہے عشق آل نبی
اور اصحاب کا تذکرہ نعت ہے
نعت گوئی بتاتی ہے حسان کی
عشق سرکار کا آینہ نعت ہے
خیر ملتی ہے اس کے ہی صدقے مجھے
مجھ سے لاچار کا آسرا نعت ہے
مجھ کو ازن حضوری دلائی ہے یہ
میرا سرکار سے رابطہ نعت ہے
یہ ہی اجمیر والے کی دستار ہے
اور پہچان غوث الورا نعت ہے
دیکھ دیوان احمد رضا کی بلال
ابتدا نعت ہے انتہا نعت ہے
جو بلال آل اطہار سے دور ہیں
پوچھتے ہیں وہ ہم سے کہ کیا نعت ہے
بلال رشید













