حُسین شناسی کا سفر۔97۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
534

قسط 97

امام حسین علیہ السلام نے
شب عاشور
دشمن سے جو مہلت لی تھی
اس کا مقصدتلاوت قرآن کریم ، نماز اور اللہ سے مناجات تھا
اسی لئے
آپ عالی مقام ع نے فرمایاتھا
کہ
میں نماز کو بہت زیادہ دوست رکھتا ہوں
شب عاشور
آپ کے خیموں سے پوری رات عبادت و مناجات کی آوازیں آتی رہیں
عاشور کے دن
امام علیہ السلام نے
نماز ظہر کو اول وقت پڑھا
یہی نہیں
بلکہ اسیران کربلا کے واپسی کے پورے سفر میں
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی
نماز شب بھی قضا نہ ہوسکی
چاہے آپ کو بیٹھ کر ہی نماز کیوں نہ پڑھنی پڑی ہو
سوال یہ ہے
کہ
کیا ملت اسلامی خدا پر ایسا یقین اور نماز کو مقدم رکھ پائی ؟
سب سے اہم بات
انسان کا اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے
چاہے اس ذمہ داری کو نبھانے میں انسان کو ظاہری طور پر کامیابی نظر نہ آئے
اور
یہ بھی
ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے
کہ
انسان کی سب سے بڑی کامیابی اپنی ذمہ داری کوپورا کرنا ہے
چاہے اس کا نتیجہ کچھ بھی ہو
امام حسین علیہ السلام نے بھی
اپنے کربلا کے سفر کے بارے میں یہی فرمایا تھا
کہ
جو اللہ چاہے گا بہتر ہوگا
چاہے میں قتل ہو جاؤں یا بغیر قتل ہوئے کامیابی مل جائے
سوال یہ ہے
کہ
کیا ملت اسلامی کامیابی کی پرواہ کئے بغیر اپنی زمہ داریوں کو نبھاہ پائی ؟
دین کے معیار کے مطابق
مکتب اسلام کی اہمیت
پیروان مکتب سے زیادہ ہے
مکتب کو باقی رکھنے کے لئے
حضرت علی علیہ السلام و حضرت امام حسین علیہ السلام
جیسی معصوم شخصیتوں نے بھی اپنے خون و جان کو فدا کیا ہے
امام حسین علیہ السلام جانتے تھے
کہ
یزید کی بیعت
دین کے اہداف کے خلاف ہے
لہٰذا بیعت سے انکار کردیا
اور
دینی اہداف کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کردی
اور
امت مسلمہ کو سمجھا دیا
کہ
مکتب اسلام کی بقا کے لئے
مکتب کے چاہنے والوں کی قربانیاں ضروری ہے
سوال یہ ہے
کہ
کیا ملت اسلامی مکتب اسلام کے لیئے ایسی قربانی دینے کو تیار ہے ؟
کربلا
اپنے رہبر کی حمایت کی سب سے عظیم جلوہ گاہ ہے
امام حسین علیہ السلام نے
شب عاشور
اپنے ساتھیوں پر اپنی بیعت کو اٹھالیا تھا
مگر آپ ع کے ساتھی
آپ عالی مقام ع سے جدا نہیں ہوئے
اور آپ کو دشمنون کے نرغہ میں تنہا نہ چھوڑا
شب عاشور
آپ کی حمایت کے سلسلہ میں
حبیب ابن مظاہر اور ظہیر ابن قین کی بات چیت قابل غور ہے
یہاں تک
کہ
آپ کے اصحاب نے میدان جنگ میں جو رجز پڑھے
ان سے بھی
اپنے رہبر کی حمایت و محبت ظاہر ہوتی ہے
جیسے
علمدار عباس علیہ السلام نے فرمایا
کہ
اگر تم نے میرا
داہنا ہاتھ جدا کردیا تو کوئی بات نہیں
میں پھر بھی اپنے امام ودین کی حمایت کروں گا
مسلم ابن عوسجہ نے
آخری وقت میں
جو حبیب ابن مظاہر کو وصیت کی
وہ بھی یہی تھی
کہ
امام کو تنہا نہ چھوڑنا اور ان پر اپنی جان قربان کردنیا
سوال یہ ہے
کہ
کیا ملت اسلامی اپنے کسی راہبر ایسا یقین کر پائی ی ہے ؟

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY