امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تعینات کردہ ایک وفاقی جج نے گزشتہ اتوار کو صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
وفاقی جج اسٹینوز بباس نے ریاست پینسلوینیا میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں اور نتائج کی تصدیق سے متعلق درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کیا تھا کہ “ناانصانی کے الزامات سنگین ہیں لیکن انتخابات کو غیر منصفانہ قرار دینے سے ایسا نہیں ہوتا۔”
اکاون سالہ وفاقی جج بباس صدر ٹرمپ کے تعینات کردہ پہلے جج نہیں جنہوں نے اُن کی انتخابی جعلی سازی کی درخواست مسترد کی۔
نارتھ ڈسٹرکٹ آف جارجیا کے اسٹین گرمبرگ سمیت دیگر کئی ری پبلکن جماعت کے تقرر کردہ جج صدر ٹرمپ کی انتخابی عزرداریوں کے خلاف فیصلے دے چکے ہیں۔
وفاقی جج بباس نے اپنے 21 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا تھا کہ جرم کے لیے الزامات اور پھر ثبوت درکار ہوتے ہیں لیکن ہمارے سامنے تو ایسا کچھ نہیں۔
مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف ریاست پینسلوینیا میں دائر درخواست مسترد ہونے پر صدر ٹرمپ کی کمپین کو تازہ ترین قانونی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
صدر اور اُن کے حامیوں نے کئی ریاستوں میں تین درجن سے زائد انتخابی عذرداریاں دائر کی تھیں جن میں انتخابات میں دھاندلی، لاکھوں غیر قانونی ووٹ ڈالے جانے اور ووٹوں کی غلط گنتی جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
کئی ریاستوں میں صدر اور اُن کے حامیوں کی بیشتر عذرداریاں مسترد ہو چکی ہیں۔
کیلی فورنیا سپریم کورٹ کے سابق ایسوسی ایٹ جج جوزیف گروڈن نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی اور نظریاتی تقسیم کے باوجود عدلیہ کی آزادی اب بھی زندہ و جاوید ہے۔
وائس آف امریکہ کو دیے گئے انٹرویو میں اُن کا کہنا تھا کہ ججز قانون کی پیروی کرتے ہوئے میرٹ پر فیصلے کرتے ہیں اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ جسٹس بباس کو میرٹ کے بغیر کوئی مقدمہ مل گیا ہو۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد جن ججز کو تعینات کیا تھا ان میں بباس بھی شامل تھے جنہیں 2017 میں کورٹ آف اپیل فار تھرڈ ڈسٹرکٹ میں تعینات کیا گیا تھا اور اُن کے دائرۂ اختیار میں ریاست پینسلوینیا کے علاوہ دیگر دو ریاستیں آتی ہیں۔
صدر ٹرمپ کو جہاں انتخابات میں دھاندلی کے بیانیے پر مسلسل عدالتی جنگ میں ناکامی کا سامنا ہے وہیں ری پبلکن جماعت کے اندر سے جو بائیڈن کی کامیابی کے لیے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔
منگل کو ہی اٹارنی جنرل ولیم بار نے ایک انٹرویو کے دوران اعتراف کیا کہ انتخابات میں دھاندلی کے ایسے شواہد نہیں ملے جو انتخابی نتیجے کو یکسر بدل کر رکھ دے۔
جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر جوناتھن ٹورلی کا کہنا ہے کہ وفاقی ججز کو تاحیات مدت تک تعینات کرنے کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ اُنہیں سیاسی اثر و رسوخ سے تحفظ دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی عدالتوں نے گزشتہ چار برسوں کے دوران ٹھیک کام کیا ہے اور خاص طور پر گزشتہ چار ہفتوں میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔
اُن کے بقول وفاقی ججز بشمول صدر ٹرمپ کے تعینات کردہ ججز مسلسل صدر کی جانب سے انتخابی نتائج کے خلاف دائر درخواستیں یہ کہہ کر مسترد کر رہے ہیں کہ جن الزامات پر ریلیف مانگا جا رہا ہے ان سے متعلق شواہد نہیں پیش کیے گئے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ چاہتے تھے کہ سپریم کورٹ انتخابی بے ضابطگیوں کے معاملے کو دیکھے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ یہ معاملہ دیکھ سکتی ہے لیکن ماتحت عدالتوں کی جانب سے مسسلسل صدر ٹرمپ کی درخواستیں مسترد ہو رہی ہیں۔
جوناتھن ٹورلی کے مطابق ری پبلکن نے انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق جائز تحفظات کا اظہار کیا ہے لیکن صدر ٹرمپ کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے بے بنیاد الزامات نے ہائی کورٹ میں اُن کی قانونی حیثیت کو نقصان پہنچایا ہے۔
اُن کے بقول سپریم کورٹ سے ریلیف حاصل کرنے کے لیے اس طرح کی روش اختیار کرنے کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔
ٹورلی کا مذید کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ انتخابی بے ضابطگیوں کا معاملہ سننے کے لیے راضی بھی ہو جائے تو یہ مشکل دکھائی دیتا ہے کہ اس کا فیصلہ صدر ٹرمپ کے حق میں چلا جائے۔












